فروزاں رپورٹ
ایئر کنڈیشننگ کا بڑھتا استعمال 2050 تک دنیا بھر میں 5.6 ارب یونٹس تک پہنچ سکتا ہے، بجلی کی طلب اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
دنیا بھر میں ایئر کنڈیشنرز کی تعداد 1.6 ارب سے بڑھ کر 2050 تک 5.6 ارب ہو سکتی ہے۔
2050 تک ہر سیکنڈ میں تقریباً 10 نئے ایئر کنڈیشنرز فروخت ہونے کے برابر طلب پیدا ہو سکتی ہے۔
2050 تک ٹھنڈک کے لیے بجلی کی طلب تین گنا سے زیادہ بڑھ سکتی ہے۔
ٹھنڈک سے متعلق اخراج 4.1 سے بڑھ کر 7.2 گیگا ٹن تک پہنچ سکتا ہے۔
ایچ ایف سی ریفریجرنٹس موسمیاتی خطرات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ایئر کنڈیشننگ کا استعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لیکن کیا لوگوں کو ٹھنڈا رکھنے والی یہ ٹیکنالوجی زمین کو مزید گرم کر رہی ہے؟
بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب، فوسل ایندھن سے بجلی کی پیداوار اور طاقتور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج نے ایئر کنڈیشننگ کو موسمیاتی بحران کا ایک پیچیدہ حصہ بنا دیا ہے۔
جیسے جیسے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، ایئر کنڈیشننگ اب محض آسائش نہیں رہی۔ بہت سے علاقوں میں یہ صحت اور حتیٰ کہ انسانی بقا کے لیے بھی ضروری بن چکی ہے۔
تاہم، ایئر کنڈیشننگ پر بڑھتا انحصار ماحول کے لیے بھی بڑھتی ہوئی قیمت کا باعث بن رہا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی پیش گوئیوں کے مطابق دنیا بھر میں ایئر کنڈیشنرز کی تعداد موجودہ تقریباً 1.6 ارب سے بڑھ کر 2050 تک تقریباً 5.6 ارب ہو سکتی ہے۔
دوسرے الفاظ میں، آنے والی دہائیوں میں طلب میں اضافہ ہر سیکنڈ میں تقریباً 10 نئے ایئر کنڈیشنرز فروخت ہونے کے برابر ہوگا۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق توانائی کی بچت اور پائیدار ٹیکنالوجی میں تیز رفتار بہتری نہ لائی گئی تو 2050 تک عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بجلی کی طلب تین گنا سے زیادہ بڑھ سکتی ہے۔
بہت سے ممالک میں اس اضافی بجلی کا ایک بڑا حصہ اب بھی فوسل ایندھن سے پیدا کیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے ایئر کنڈیشنرز کا استعمال بڑھے گا، بجلی کی ضرورت بھی بڑھ سکتی ہے، جس سے کاربن اخراج میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ایک توانائی کے ماہر نے کہا، ’’مستقبل میں ٹھنڈک کی طلب مسلسل بڑھتی رہے گی۔ اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اضافی بجلی کی طلب کم کاربن اخراج کے ساتھ کیسے پوری کی جائے۔‘‘
ماحولیاتی اثرات صرف بجلی کے استعمال تک محدود نہیں، ایئر کنڈیشنرز میں استعمال ہونے والے ریفریجرنٹس ماحول میں خارج ہو کر طاقتور گرین ہاؤس گیسوں کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
خصوصاً ہائیڈرو فلورو کاربن، جنہیں ایچ ایف سی کہا جاتا ہے، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں کہیں زیادہ حرارت کو فضا میں روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی حالیہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق 2022 میں ٹھنڈک سے متعلق گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج تقریباً 4.1 گیگا ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی تھا۔
اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو 2050 تک یہ اخراج بڑھ کر تقریباً 7.2 گیگا ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی ہو سکتا ہے۔
زیادہ گرم ہوتی زمین → ایئر کنڈیشننگ کی طلب میں اضافہ → بجلی کا زیادہ استعمال → گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ → زمین مزید گرم → ایئر کنڈیشننگ کی طلب میں مزید اضافہ۔
ماہرین اس صورتحال کو ’’کولنگ پیراڈاکس‘‘ قرار دیتے ہیں۔
ایک طرف شدید گرمی سے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ٹھنڈک کے نظام تیزی سے اہم ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف غیر مؤثر اور ناقص منصوبہ بندی کے ساتھ ٹھنڈک کا بڑھتا استعمال موسمیاتی تبدیلی کو مزید تیز کر سکتا ہے۔
ایئر کنڈیشنر استعمال کرنے والے ایک شہری نے بتایا کہ شدید گرمی کے دوران بعض اوقات ایئر کنڈیشننگ کے بغیر گزارا مشکل ہو جاتا ہے۔ بجلی کے زیادہ بل کے باوجود شدید گرمی سے نجات کے لیے اس کا استعمال ضروری بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
اقوام متحدہ کا انتباہ، سیاسی تقسیم سے معیشت کو خطرہ
گلگت بلتستان ٹرافی ہنٹنگ پروگرام
تاہم، اس مسئلے کے حل موجود ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق توانائی کی بچت کرنے والی ٹھنڈک کی ٹیکنالوجی، ماحول دوست ریفریجرنٹس، عمارتوں کے بہتر ڈیزائن اور قابل تجدید توانائی کے وسیع استعمال سے مستقبل میں ٹھنڈک سے متعلق اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
بڑھتی گرمی کے باعث ایئر کنڈیشنرز کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس کے ماحولیاتی اثرات پر تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔
صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق نئی نسل کے انورٹر اور توانائی بچانے والے ایئر کنڈیشنرز نسبتاً کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ صنعت زیادہ ماحول دوست ریفریجرنٹس کی طرف بھی بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق سوال اب صرف یہ نہیں رہا کہ لوگوں کو ایئر کنڈیشنرز استعمال کرنے چاہئیں یا نہیں۔ اصل چیلنج ایسے ٹھنڈک کے نظام تیار کرنا ہے جو لوگوں کو شدید گرمی سے محفوظ رکھیں، لیکن زمین کو مزید گرم نہ کریں۔
ایک ماحولیاتی ماہر نے کہا، ’’ایئر کنڈیشننگ کا مکمل استعمال روک دینا حقیقت پسندانہ حل نہیں۔ اس کے بجائے توانائی بچانے والی ٹیکنالوجی، ماحول دوست ریفریجرنٹس، شہری شجرکاری اور گرمی برداشت کرنے والی عمارتوں کے ڈیزائن کے ذریعے اس کے ماحولیاتی اثرات کم کیے جانے چاہئیں۔‘‘ شدید ہوتی ہیٹ ویوز کے دور میں ایئر کنڈیشننگ راحت اور بقا کی علامت بن سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ راحت ایک زیادہ گرم ہوتی دنیا کی قیمت پر حاصل ہو تو پھر دنیا کو ٹھنڈا رکھنے کے طریقہ کار پر ازسرنو غور کرنا ہوگا۔
اقوام متحدہ کا موسمیاتی انتباہ، یورپ میں شدید موسم سے معاشی و سلامتی کے خطرات،…
گلگت بلتستان ٹرافی ہنٹنگ پروگرام میں استور مارخور کا لائسنس ریکارڈ 3 لاکھ 56 ہزار…
ڈیجیٹل میڈیا میں ذمہ دارانہ صحافت اور مستند معلومات کی فراہمی ضروری ہے،وزیر مملکت و…
قرض بڑھنے، عالمی تجارت سست اور شپنگ و توانائی مہنگی ہونے سے بنگلہ دیش کے…
ارجنٹائن کا سمندر خشک؟ وائرل ویڈیوز نے قیامت کی افواہ پھیلائی، حقیقت میں تیز ہواؤں،…
انتہائی طاقتور ال نینو کے خطرے کے پیشِ نظر وقت آگیا ہے کہ پاکستان امداد…
This website uses cookies.