تنویر احمد بیورو چیف گلگت
گلگت، تنویر احمد، بیورو چیف جی بی: گلگت بلتستان میں ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت استور مارخور کے شکار کا لائسنس 3 لاکھ 56 ہزار امریکی ڈالر یعنی تقریباً 9 کروڑ 87 لاکھ پاکستانی روپے میں نیلام ہوگیا۔ یہ گلگت بلتستان میں اب تک مارخور کے شکار کے لیے ہونے والی سب سے بڑی بولی قرار دی جارہی ہے۔
فارسٹ کمپلیکس جوٹیال میں منعقدہ اوپن نیلامی میں ملک بھر سے شکاریوں اور شکاری کمپنیوں نے شرکت کی۔
محکمہ پارکس اینڈ وائلڈ لائف گلگت بلتستان کے تحت ہونے والی نیلامی میں مجموعی طور پر 118 جنگلی جانوروں کے شکار کے لائسنس جاری کیے گئے۔ ان میں استور مارخور کے 3، بلیو شیپ کے 14 اور ہمالیائی آئی بیکس کے 100 لائسنس شامل ہیں۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق رواں سال ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے ذریعے 65 کروڑ روپے سے زائد آمدن متوقع ہے۔
نیلامی کے دوران بونجی کمیونٹی کنزرویشن ایریا میں استور مارخور کے شکار کا لائسنس وائلڈ سائٹ ہنٹنگ کمپنی نے 3 لاکھ 56 ہزار امریکی ڈالر کی ریکارڈ بولی دے کر حاصل کیا۔
اسی طرح سئی، جگلوٹ اور ڈموٹ کنزرویشن ایریا میں استور مارخور کے شکار کا لائسنس ہنٹنگ ایکسپرٹس کمپنی نے 2 لاکھ 94 ہزار امریکی ڈالر میں حاصل کیا۔
برمس، سکوار اور جوٹیال کمیونٹی کنزرویشن ایریا میں استور مارخور کے شکار کا لائسنس این کے سفاری کمپنی نے 3 لاکھ ایک ہزار امریکی ڈالر کی بولی دے کر حاصل کیا۔
محکمہ جنگلی حیات نے رواں ٹرافی ہنٹنگ سیزن کے لیے استور مارخور کے ایک شکار لائسنس کی بنیادی قیمت 2 لاکھ امریکی ڈالر مقرر کی تھی۔ تاہم اوپن نیلامی کے دوران مختلف کنزرویشن ایریاز میں اس سے کہیں زیادہ بولیاں موصول ہوئیں۔
بونجی میں ہونے والی 3 لاکھ 56 ہزار ڈالر کی بولی نے سابقہ ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
اوپن نیلامی کی نگرانی چیف کنزرویٹر جنگلات و وائلڈ لائف گلگت بلتستان ڈاکٹر زاکر حسین نے کی۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں سال استور مارخور کے شکار کے لیے ریکارڈ بولی سامنے آئی ہے۔ مجموعی طور پر ٹرافی ہنٹنگ سے 65 کروڑ روپے سے زائد آمدن متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کا 80 فیصد حصہ مقامی کمیونٹیز کو جبکہ 20 فیصد حکومت گلگت بلتستان کو ملے گا۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کا بنیادی مقصد جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ مقامی آبادیوں کو معاشی فوائد فراہم کرنا ہے۔
شکار سے حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ متعلقہ کمیونٹی کو ملنے کے باعث مقامی آبادیوں کو جنگلی حیات کے تحفظ اور غیر قانونی شکار کی روک تھام میں شریک کیا جاتا ہے۔
رواں سیزن میں لائسنس عالمی، ملکی اور مقامی سطح پر تین کیٹیگریز کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔ ان کے ذریعے مقررہ شرائط و ضوابط کے مطابق غیر ملکی، ملکی اور گلگت بلتستان کے مقامی شکاری متعلقہ جنگلی جانوروں کا شکار کرسکیں گے۔
واضح رہے کہ محکمہ پارکس اینڈ وائلڈ لائف نے ٹرافی ہنٹنگ سیزن 2026-27 کے لیے گزشتہ ماہ اوپن بولی کا شیڈول جاری کیا تھا۔
نوٹس کے مطابق استور مارخور کے چار ایکسپورٹیبل پرمٹس مختص کیے گئے تھے۔ تاہم ان میں سے ایک پرمٹ پہلے ہی گزشتہ سیزن کے لیے توسیع دیے جانے کے باعث رواں نیلامی میں تین پرمٹس پیش کیے گئے۔
محکمہ نے بلیو شیپ کے لیے بھی مختلف کیٹیگریز میں پرمٹس مختص کیے تھے۔ ہمالیائی آئی بیکس کے ایکسپورٹیبل اور نان ایکسپورٹیبل پرمٹس کے علاوہ گلگت بلتستان کے مقامی شکاریوں کے لیے بھی خصوصی کوٹہ رکھا گیا تھا۔
محکمہ کے مطابق ٹرافی ہنٹنگ کی نیلامی گلگت بلتستان ٹرافی ہنٹنگ گائیڈ لائنز 2019 کے تحت ہوئی۔
جنگلی حیات کے شکار کا سیزن 15 اکتوبر 2026 سے 10 اپریل 2027 تک جاری رہے گا۔
کامیاب بولی دہندگان کو مقررہ مدت کے اندر پرمٹ فیس اور دیگر واجبات جمع کرانا ہوں گے۔
شرائط کے مطابق شکار صرف متعلقہ کنزرویشن ایریا میں محکمہ جنگلی حیات اور مقامی کمیونٹی کی نگرانی میں کیا جاسکے گا۔
شکاریوں کے لیے متعلقہ علاقے کا پرمٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ شکار کے بعد ٹرافی کی مقررہ طریقہ کار کے مطابق پیمائش اور تصدیق بھی کی جائے گی۔
گلگت بلتستان سے ٹرافی باہر لے جانے کے لیے محکمہ جنگلی حیات سے این او سی حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
محکمہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ کے لائسنس اور کوٹے کی حتمی منظوری سائٹس مینجمنٹ اتھارٹی اور وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کی متعلقہ منظوریوں سے مشروط ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں
قرض کا بوجھ: بنگلہ دیش کے موسمیاتی عزائم عالمی مالیاتی بحران کی زد میں
ارجنٹائن کا سمندر خشک؟ ارجنٹائن کی وائرل ویڈیوز کا اصل راز
ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی آمدن کو گلگت بلتستان میں جنگلی حیات کے تحفظ، مقامی کمیونٹیز کی معاشی معاونت اور غیر قانونی شکار کی حوصلہ شکنی کے لیے اہم ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔
رواں سال استور مارخور کی ریکارڈ بولی نے نہ صرف ٹرافی ہنٹنگ پروگرام میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کو نمایاں کیا ہے بلکہ گلگت بلتستان کی نایاب جنگلی حیات کے تحفظ سے وابستہ معاشی امکانات کو بھی اجاگر کیا ہے۔
قرض بڑھنے، عالمی تجارت سست اور شپنگ و توانائی مہنگی ہونے سے بنگلہ دیش کے…
ارجنٹائن کا سمندر خشک؟ وائرل ویڈیوز نے قیامت کی افواہ پھیلائی، حقیقت میں تیز ہواؤں،…
انتہائی طاقتور ال نینو کے خطرے کے پیشِ نظر وقت آگیا ہے کہ پاکستان امداد…
کراچی میں اگست کی بارشیں کم ہونے سے زیرِ زمین پانی کی بحالی، شہری گرمی،…
موسم کی کروٹ، 22 بھادوں کے بعد تبدیلی شروع، اسّو 15 ستمبر سے، شمالی ہوائیں…
موسمیاتی تبدیلی سے زرعی پیداوار میں کمی، پانی اور زمین کی مسابقت بڑھ سکتی ہے،…
This website uses cookies.