Spring Tree Plantation Drive 2026 Launched in Gilgit-Baltistan with Target of 3.5 Million Saplings
تنویر احمد، بیو رو چیف گلگت بلتستان
گلگت بلتستان میں موسم بہار کی شجرکاری مہم 2026 کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سال صوبے کے دس اضلاع میں 35 لاکھ جنگلی اور پھلدار پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مہم کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنا اور خطے کو ماحولیاتی خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔
نگراں وزیراعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ یار محمد نے فارسٹ کمپلیکس جوٹیال میں دیودار کا پودا لگا کر مہم کا افتتاح کیا۔ تقریب میں نگران وزراء، سیکریٹریز اور محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے افسران نے بھی شرکت کی۔
یہ مہم گرین پاکستان پروگرام کی توسیع کا حصہ ہے۔ حکام کے مطابق اس کا مقصد جنگلات میں اضافہ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں کمی اور ماحولیاتی توازن کی بحالی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگراں وزیراعلیٰ نے کہا کہ غیر قانونی کٹائی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلی نے خطے کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چلاس سمیت مختلف علاقوں میں جنگلات کے خاتمے سے سیلاب اور دریائی کٹاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے جنگلات کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی، علیحدہ فورس کے قیام، شفاف نظام اور نجی شعبے کی شمولیت پر زور دیا۔ نوجوانوں کو شجرکاری میں بھرپور حصہ لینے کی بھی تلقین کی گئی۔
حکام کے مطابق صوبے میں اب تک ساڑھے تین کروڑ سے زائد پودے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ رواں سال لگائے جانے والے 90 فیصد پودے مقامی سطح پر خریدے گئے ہیں تاکہ مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے۔
چیف کنزرویٹر فاریسٹ کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے کل جغرافیائی رقبے کا صرف 3.58 فیصد حصہ قدرتی جنگلات پر مشتمل ہے، جو قومی اوسط سے کم ہے۔ اس لیے شجرکاری ناگزیر ہے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق صرف پودے لگانا کافی نہیں۔ ان کی دیکھ بھال اور بقا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہر سال لاکھوں پودے لگائے جاتے ہیں مگر مناسب نگرانی نہ ہونے کے باعث بڑی تعداد ضائع ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
سندھ کے جنگلات اور ٹمبر مافیا:سبز دولت ختم ہوری ہے
گلگت بلتستان میں سیزن کی پہلی کامیاب ٹرافی ہنٹنگ، مقامی کمیونٹی کو بڑا معاشی فائدہ
ماہرین نے زور دیا کہ کمیونٹی کی شمولیت، مؤثر نگرانی، غیر قانونی کٹائی کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف فنڈنگ کے بغیر دیرپا نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔
عوامی حلقوں کو امید ہے کہ علیحدہ فورس کے قیام اور قانون سازی کے اعلانات عملی شکل اختیار کریں گے۔ اگر وعدوں پر عمل درآمد ہوا تو گلگت بلتستان سرسبز اور محفوظ مستقبل کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
ہیٹ ویو الرٹس کے باوجود مؤثر حکمتِ عملی کا فقدان، ماہرین نے فوری عوامی آگاہی…
عالمی یومِ بحر 2026: پلاسٹک آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور سمندری حیات کو لاحق خطرات پر…
کراچی میں خطرناک ہیٹ ویو کا خدشہ، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان، محکمہ موسمیات جلد…
ماہرین نے موسمیاتی لچک پذیری کو قومی منصوبہ بندی اور بجٹ کا حصہ بنانے، جبکہ…
راول جھیل سے اسپتال کا خطرناک فضلہ اور پلاسٹک کچرا برآمد، پاک ای پی اے…
لاڑکانہ میں ماحولیات کانفرنس، ماہرین کا موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر…
This website uses cookies.