A pedestrian crosses a snow-covered roadway amid blowing snow and poor visibility, highlighting the dangers posed by increasingly severe winter storms.
امریکی ریاستوں میں حالیہ برسوں کے دوران آنے والے شدید برفانی طوفان محض موسمی اتار چڑھاؤ نہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ عالمی موسمیاتی نظام میں گہرے بگاڑ کی علامت ہیں۔
جو خطے ماضی میں شدید سردی سے محفوظ سمجھے جاتے تھے، اب برف، منجمد درجہ حرارت اور توانائی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ سائنسی تحقیق اس صورتحال کو موسمیاتی تبدیلی سے جوڑتی ہے۔
انیسویں اور بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں برفانی طوفان زیادہ تر شمالی اور شمال مشرقی ریاستوں تک محدود رہتے تھے۔ 1888 کا گریٹ بلیزرڈ، 1978 کے طوفان اور 1967 کی شدید برفباری تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
مگر ان واقعات کو مستقل رجحان نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت آرکٹک خطہ زیادہ سرد تھا۔ جیٹ اسٹریم مضبوط اور نسبتاً سیدھی تھی۔ جنوبی ریاستیں عموماً محفوظ رہتی تھیں۔ یہ توازن بیسویں صدی کے آخر تک برقرار رہا۔
بین الاقوامی سائنسی برادری متفق ہے کہ صنعتی دور کے بعد زمین کا درجہ حرارت تقریباً 1.2 ڈگری سیلسیس بڑھ چکا ہے۔
بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (آئی پی سی سی) کے مطابق آرکٹک خطہ دیگر علاقوں کے مقابلے میں دو سے چار گنا تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ اس عمل کو آرکٹک ایمپلی فکیشن کہا جاتا ہے۔ یہی تبدیلی عالمی موسمی نظام کو غیر مستحکم کر رہی ہے۔
نیشنل اوشینک اینڈ ایٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) اور ناسا (NASA) کی تحقیقات کے مطابق آرکٹک کی حدت جیٹ اسٹریم کو کمزور کرتی ہے۔
جب جیٹ اسٹریم میں لہریں بڑھتی ہیں تو قطبی سرد ہوائیں جنوب کی طرف زیادہ شدت سے پھیلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید برفانی طوفان اب وسطی اور جنوبی ریاستوں تک پہنچ رہے ہیں۔
فروری 2021 میں ٹیکساس میں آنے والا برفانی طوفان موسمیاتی تاریخ کا اہم واقعہ تھا۔
چار ملین سے زائد افراد بجلی سے محروم ہوئے۔ تحقیقی اندازوں کے مطابق 700 سے زائد اموات ہوئیں۔ معاشی نقصان 100 ارب ڈالر سے زیادہ رہا۔
نیشنل ویدر سروس کے مطابق یہ طوفان شدت، دورانیے اور جغرافیائی وسعت کے لحاظ سے غیر معمولی تھا۔
یہ سوال اکثر اٹھتا ہے کہ گرم ہوتی دنیا میں شدید سردی کیسے ممکن ہے۔ سائنسی تحقیق واضح کرتی ہے کہ عالمی حدت یکساں گرمی نہیں لاتی۔
اس کے برعکس موسمی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔ زیادہ شدید ہیٹ ویوز اور زیادہ تباہ کن برفانی طوفان دونوں سامنے آ سکتے ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے مطابق گزشتہ دہائی ریکارڈ کی گرم ترین دہائی رہی، مگر اسی دوران سردی کے انتہائی واقعات بھی بڑھے۔
امریکی برفانی طوفان صرف ایک ملکی مسئلہ نہیں۔ یہ عالمی انتباہ ہیں۔ جدید انفراسٹرکچر بھی موسمی شدت کے سامنے کمزور ثابت ہو رہا ہے۔
توانائی، خوراک اور پانی کے نظام براہِ راست خطرے میں ہیں۔ اگر ایک طوفان امریکہ جیسے ملک میں وسیع بحران پیدا کر سکتا ہے تو باقی دنیا کے لیے خطرات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا مسئلہ نہیں رہی۔ یہ موجودہ بحران ہے۔ یہ تاریخ، جغرافیہ اور طاقت کی سرحدوں کو نہیں مانتی۔
یہ بھی پڑھیں
عالمی حدت کا فیصلہ کن دور: زمین کے لیے آخری انتباہ
گلگت بلتستان الرٹ: معمول سے زیادہ بارشیں، گلیشیئر پگھلنے اور اچانک سیلاب کا خطرہ
اگر گرین ہاؤس گیسوں میں کمی، فوسل فیول سے تدریجی انخلا اور موسمی موافقت پر فوری عمل ہوا تو برفانی طوفان، ہیٹ ویوز اور سیلاب نیا معمول بن سکتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…
اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…
برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…
اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…
خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…
بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…
This website uses cookies.