Farozaan

ایشیا پیسفک پائیدار ترقیاتی اہداف بحران: پاکستان کے لیے سنجیدہ انتباہ

ایشیا پیسفک پائیدار ترقیاتی اہداف کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک اہداف صرف نعروں اور کانفرنسوں تک محدود رہ جائیں گے۔ اقوام متحدہ

فروزاں تجزیاتی رپورٹ

اقوام متحدہ کے ایشیا اور بحرالکاہل کے لیے اقتصادی و سماجی کمیشن کی تازہ رپورٹ ’’ایشیا اور بحرالکاہل پائیدار ترقیاتی اہداف پیش رفت رپورٹ 2026‘‘ محض ایک سفارتی دستاویز نہیں۔ یہ خطے کی ترقیاتی حکمت عملی پر ایک سخت سوالیہ نشان ہے۔

رپورٹ واضح کرتی ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف صرف نعروں اور کانفرنسوں تک محدود رہ جائیں گے۔ ترقی کا موجودہ ماڈل غیر منصفانہ، غیر پائیدار اور ماحولیاتی طور پر نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔

سنگین اعداد و شمار

رپورٹ کے مطابق ایشیا پیسفک میں 117 میں سے 103 قابلِ پیمائش اہداف 2030 تک حاصل نہیں ہو سکیں گے۔

تقریباً 88 فیصد اہداف ہدف سے پیچھے ہیں۔ صرف 4 فیصد درست سمت میں ہیں۔ باقی اہداف یا تو سست رفتار کا شکار ہیں یا الٹی سمت میں جا رہے ہیں۔

اہم نکات درج ذیل ہیں

پائیدار ترقیاتی ہدف 13 (موسمیاتی اقدام): گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج مسلسل بڑھ رہا ہے۔

پائیدار ترقیاتی ہدف 14 (سمندری حیات کا تحفظ): سمندری آلودگی اور ضرورت سے زیادہ ماہی گیری میں اضافہ۔

پائیدار ترقیاتی ہدف 15 (خشکی پر حیات کا تحفظ): جنگلات کی کٹائی اور حیاتیاتی تنوع میں کمی۔

پائیدار ترقیاتی ہدف 10 (عدم مساوات میں کمی): آمدنی اور مواقع کی عدم مساوات میں اضافہ۔

پائیدار ترقیاتی ہدف 6 (صاف پانی اور صفائی): کروڑوں افراد محفوظ پانی سے محروم۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ترقی کا موجودہ تصور ماحول اور انسان دونوں کے لیے نقصان دہ بنتا جا رہا ہے۔

ایشیا اور بحرالکاہل ایس ڈی جی پیش رفت رپورٹ 2026 کا سرورق خطے کی ترقی کی سمت اور 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

ماحولیاتی قیمت

ایشیا پیسفک عالمی آبادی کا تقریباً 60 فیصد حصہ رکھتا ہے، مگر ماحولیاتی بوجھ اس سے کہیں زیادہ برداشت کر رہا ہے۔

شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی اور سمندری سطح میں اضافہ معمول بنتا جا رہا ہے۔ ترقی کے نام پر جنگلات کی قربانی اور فضا میں آلودگی بڑھ رہی ہے۔

پاکستان: بحران کی واضح مثال

اگرچہ رپورٹ علاقائی ہے، مگر پاکستان اس بحران کی نمایاں مثال ہے۔ ملک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، مگر موسمیاتی اثرات سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔

سیلاب، شدید گرمی کی لہریں، گلیشیئر پگھلاؤ اور غیر معمولی بارشیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ مگر پالیسی ردعمل اکثر عارضی اور نمائشی ثابت ہوتا ہے۔

غربت، غذائی تحفظ اور تعلیم

پائیدار ترقیاتی ہدف 2 (بھوک کا خاتمہ) کے تناظر میں پاکستان میں لاکھوں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ زرعی نظام موسمیاتی دباؤ میں ہے۔ دیہی آبادی معاشی عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہے۔

پائیدار ترقیاتی ہدف 4 (معیاری تعلیم) اور پائیدار ترقیاتی ہدف 5 (صنفی مساوات) بھی چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ خواتین کی محنت کش قوت میں شمولیت کم ہے۔ صنفی عدم مساوات برقرار ہے۔

اعداد و شمار کا بحران

رپورٹ ایک اور سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ متعدد اہداف پر قابلِ اعتماد اعداد و شمار موجود نہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ پالیسیاں مکمل معلومات کے بغیر بن رہی ہیں۔ احتساب کا نظام کمزور ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں یہ صورتحال مزید پیچیدگی پیدا کر سکتی ہے۔

بنیادی سوالات

کیا ترقی صرف مجموعی قومی پیداوار بڑھانے کا نام ہے؟
کیا ماحولیاتی تباہی کو ترقی کہا جا سکتا ہے؟
کیا آج کا منافع آنے والی نسلوں کے مستقبل سے زیادہ اہم ہے؟

رپورٹ واضح پیغام دیتی ہے کہ اگر ترقی انسان اور فطرت دونوں کو نقصان پہنچائے تو وہ پائیدار نہیں۔

سیلاب سے متاثرہ خاندان زیرِ آب علاقوں سے گزرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ایشیا پیسفک ایس ڈی جی جائزے میں نمایاں موسمیاتی خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان کے لیے ناگزیر راستہ

پاکستان کے پاس تین راستے ہیں۔ موجودہ حالت برقرار رکھے۔ نمائشی اصلاحات کرے۔ یا بنیادی تبدیلی اختیار کرے۔

فوری اقدامات میں شامل ہیں

موسمیاتی پالیسی کو قومی سلامتی کا درجہ دینا۔

ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی لاگت لازمی شامل کرنا۔

تعلیم، صحت اور صنفی مساوات کو بجٹ میں حقیقی ترجیح دینا۔

شفاف اور آزاد اعداد و شمار کا نظام قائم کرنا۔

آخری انتباہ

یہ رپورٹ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ وسائل محدود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نیا سال 2026 اور بڑھتی گرمی: جنوبی ایشیا اور پاکستان کو درپیش سنگین موسمیاتی خطرات

پاکستان میں پانی کا بڑھتا بحران: موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور ناقص پالیسیوں کے سنگین اثرات

اگر پاکستان نے اس موقع پر اصلاحات نہ کیں تو 2030 ہدف نہیں بلکہ ناکامی کی تاریخ بن سکتا ہے۔ اب وقت نعروں کا نہیں، عملی اقدام کا ہے۔ آنے والی نسلیں یہی سوال پوچھیں گی کہ جب وقت تھا تو کیا کیا گیا۔

admin

Recent Posts

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ایم آئی ٹی کا بڑا موسمیاتی قدم

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…

18 hours ago

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، شمالی علاقوں میں بجلی بند اور سفری نظام متاثر

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…

2 days ago

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، گھر کے ڈرائیو وے سے آگاہی مہم کا آغاز

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…

3 days ago

ٹیکسٹائل کے کاروباروں کے لیے گرین فنانس ٹول کٹ متعارف کرا دی گئی

ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…

4 days ago

خلائی ٹیکنالوجی سے آفات کی پیشگی اطلاع، اسلام آباد میں عالمی کانفرنس

آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…

4 days ago

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، عالمی وعدوں پر اعتماد کا امتحان

موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…

5 days ago

This website uses cookies.