فروزاں رپورٹ
دیسی مہینوں کے حساب سے برسات کے موسم کا اختتامی مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ اب موسم بتدریج کروٹ لینے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آج 22 بھادوں ہے، جبکہ دیسی کیلنڈر کے مطابق اسّو کا آغاز 15 ستمبر سے ہوگا۔
مقامی موسمی روایات کے مطابق بھادوں کے آخری دنوں میں راتیں نسبتاً بہتر ہونے لگتی ہیں۔ صبح کے اوقات میں ہوا میں خنکی بھی محسوس ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اسّو میں داخل ہوتے ہی موسم میں یہ تبدیلی مزید نمایاں ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔
روایتی مشاہدات کے مطابق اسّو کے دوران صبح کے وقت شمال کی جانب سے ہوائیں چلتی ہیں۔ یہ ہوائیں معمول کے مقابلے میں نسبتاً ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ان کے باعث درجہ حرارت میں بتدریج کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دیسی موسمی روایات میں اسّو کو موسم کی تبدیلی کے اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بھادوں کی گرمی اور حبس کے بعد موسم میں رفتہ رفتہ خنکی بڑھنے لگتی ہے۔
دیسی کیلنڈر میں بھادوں کے بعد اسّو آتا ہے۔ اسے روایتی طور پر موسم کی تبدیلی اور خزاں کی ابتدا سے جوڑا جاتا ہے۔
اسّو کے بعد کتک، مگھر اور پھر پوہ کے مہینے آتے ہیں۔ ان مہینوں کے ساتھ موسم میں مزید تبدیلی آتی ہے اور سردی کی شدت بتدریج بڑھنے لگتی ہے۔
یوں بھادوں کے آخری دن جہاں برسات کے موسم کے اختتام کا اشارہ دے رہے ہیں، وہیں اسّو کی آمد موسم کے اگلے مرحلے کی جانب پیش قدمی سمجھی جاتی ہے۔ اس مرحلے میں خنکی، ٹھنڈی ہواؤں اور درجہ حرارت میں بتدریج کمی نمایاں ہونے لگتی ہے۔
سائنسی اعتبار سے اسّو کا آغاز ہوتے ہی پورے پاکستان میں سردی شروع ہوجانا درست نہیں۔ درجہ حرارت میں کمی مختلف علاقوں میں مختلف رفتار سے ہوتی ہے۔
خطے کی جغرافیائی صورتحال، بلندی، ہواؤں اور موسمی نظام کے باعث موسم کی تبدیلی کا وقت بھی مختلف ہوسکتا ہے۔ تاہم دیسی موسمی روایت میں اسّو کے آغاز کو موسم کی تبدیلی کا ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات…
نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…
برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…
موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…
ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…
آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…
This website uses cookies.