Farozaan

گلگت بلتستان الرٹ: معمول سے زیادہ بارشیں، گلیشیئر پگھلنے اور اچانک سیلاب کا خطرہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہائی الرٹ جاری کردیا، محتاط رہنے کی اپیل کی، حکمت عملی تیار کرلی، ڈائریکٹر

گلگت بلتستان ایک بار پھر قدرتی آفات کے ممکنہ خطرات کی زد میں ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال یعنی 2026 کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات میں مزید شدت آ سکتی ہے۔

ماہرین ماحولیات نے خبر دار کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے پہاڑوں کی خاموشی کے پیچھے چھپا خطرہ پھر سے سر اٹھانے لگا ہے جہاں تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز، اچانک بننے والی جھیلیں اور موسلا دھار بارشیں کسی بھی وقت تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ 2025 میں گلگت بلتستان شدید بارشوں، گلاف ایونٹس، طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بری طرح متاثر ہوا تھا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال یعنی 2026 کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات میں مزید شدت آ سکتی ہے۔

متعدد علاقوں میں سیلابی ریلوں نے سڑکیں بہا دیں تھی، پل ٹوٹ گئے تھے، کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں اور درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا تھا،کئی مقامات پر شاہراہیں بند ہوئیں اور دور دراز وادیاں کئی کئی دنوں تک ملک کے دیگر حصوں سے کٹ کر رہ گئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تغیر کے باعث گلگت بلتستان میں بارشوں کا پیٹرن غیر متوقع ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اسی تناظر میں گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ذاکر حسین کے مطابق رواں سال ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔

ندی نالوں، کمزور ڈھلوانوں اور ان علاقوں کے قریب رہائش یا غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کیا جائے، محکمہ موسمیات

متعلقہ محکموں کے ساتھ قریبی رابطہ حساس علاقوں کی نشاندہی، مشینری کی پیشگی تعیناتی اور ریسکیو ٹیموں کی تیاری کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور موثر کارروائی ممکن ہو سکے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ندی نالوں، کمزور ڈھلوانوں اور ان علاقوں کے قریب رہائش یا غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کیا جائے جہاں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ یا گلیشیئر جھیل کے پھٹنے کا خطرہ زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معمولی سی غفلت بھی کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔

ادھر محکمہ موسمیات کی ابتدائی پیش گوئیوں میں بھی معمول سے زیادہ بارشوں کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں جس سے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ افواہوں پر کان نہ دھرا جائے اور صرف مستند ذرائع سے موصول ہونے والی ہدایات پر عمل کیا جائے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ذاکر حسین کے مطابق رواں سال ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے

کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں فوری طور پر ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ اداروں کو اطلاع دینا شہریوں کی ذمہ داری ہے۔

ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان جیسے حساس پہاڑی خطے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں۔

بڑھتا درجہ حرارت گلیشیئرز کے پگھلاؤ کی رفتار میں اضافہ کر رہا ہے جس سے اچانک سیلابی ریلوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو ماضی کی تباہ کاریاں ایک بار پھر دہرائی جا سکتی ہیں۔

بڑھتا درجہ حرارت گلیشیئرز کے پگھلاؤ کی رفتار میں اضافہ کر رہا ہے جس سے اچانک سیلابی ریلوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ اس بار پیشگی تیاری کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے تاہم حقیقی کامیابی عوامی تعاون سے ہی ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں

موسمیاتی بحران: پاکستان کے لیے فوری پالیسی اقدام ناگزیر

خیبرپختونخوا میں موسمیاتی تباہ کاریاں، سیلاب، جنگلات میں آگ اور زرعی زمینوں کا بحران نمایاں

گلگت بلتستان میں قدرت کے بدلتے تیور اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہر شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کرے خطرناک مقامات سے دور رہے اور ہنگامی ہدایات پر فوری عمل کرے کیونکہ ایک لمحے کی تاخیر بھی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کے بعد قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں عوام ایک بار پھر خوف اور پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں کیوں کہ انہیں اندازہ ہے کہ جب ان علاقوں میں غیر متوقع بارشیں اور گلیشیائی جھیلیں اچانک ٹوٹتی ہیں تو کس قدر صورتحال خطرناک اور کتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

1 day ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.