Farozaan • Wildlife

24 کروڑ سال پرانا سمندری دیو، چین میں خوفناک انکشاف

240-Million-Year-Old Sea Giant, Shocking Discovery in China

دیو ہیکل سمندری جانور، 5.2 میٹر طویل نشانات دریافت، قدیم سمندری حیات کی تیز رفتار بحالی کے نئے شواہد سامنے آگئے

سائنس دانوں نے چین میں ایک دیو ہیکل سمندری جانور کے ایسے نشانات دریافت کیے ہیں جو تقریباً 24 کروڑ سال پرانے ہیں۔ یہ اس دور کے نشانات ہیں جب ڈائنوسار زمین پر غالب نہیں آئے تھے۔ یہ دریافت قدیم سمندری حیات کے حجم اور تباہ کن معدومیت کے بعد اس کی بحالی سے متعلق اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔

5 اکتوبر 2026 کو سائنسی جریدے جرنل آف پیلیونٹولوجی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق، چین کے صوبے آنہوئی کے شہر چاوہو میں سائنس دانوں کو نعل نما کیکڑے (ہارس شو کریب) کے دیو ہیکل قدموں کے نشانات ملے ہیں۔ یہ نشانات ایک ایسی چٹان میں محفوظ تھے جو آج خشکی پر واقع ہے، لیکن تقریباً 24 کروڑ سال پہلے یہاں ایک کم گہرا سمندر موجود تھا۔

نعل نما کیکڑے کو ’’زندہ فوسل‘‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کی جسمانی ساخت کروڑوں سال کے دوران بہت کم تبدیل ہوئی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کو اس مقام پر نو مختلف اور پیچیدہ نشانات ملے۔ ان میں سیدھے اور ٹیڑھے راستے شامل ہیں، جبکہ سب سے طویل نشان 5.2 میٹر تک لمبا ہے۔ ان نشانات میں دو متوازی خراشیں بھی موجود ہیں۔ سائنس دانوں نے ان کا موازنہ مچھلیوں، کیڑوں اور مکڑیوں کی حرکت سے متعلق نشانات سے کیا۔ اس تجزیے کے بعد محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ نشانات نعل نما کیکڑے نے بنائے تھے۔

نعل نما کیکڑے کو ’’زندہ فوسل‘‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کی جسمانی ساخت کروڑوں سال کے دوران بہت کم تبدیل ہوئی ہے۔ نام کے برعکس یہ حقیقی کیکڑا نہیں، بلکہ ارتقائی اعتبار سے مکڑیوں اور بچھوؤں کے زیادہ قریب ہے۔

اس دریافت کا سب سے حیران کن پہلو اس جانور کا ممکنہ حجم ہے۔ عام طور پر ٹرائی ایسک دور کے نعل نما کیکڑوں کی لمبائی تقریباً 20 سینٹی میٹر ہوتی تھی۔ تاہم، نئے نشانات بنانے والے جانور کی لمبائی 70 سے 95 سینٹی میٹر اور چوڑائی تقریباً 45 سینٹی میٹر ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اس طرح یہ اپنے دور کے سب سے بڑے نعل نما کیکڑوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔

اس سے پہلے فرانس میں تقریباً 85 سینٹی میٹر اور شمالی چین میں 89 سینٹی میٹر کے نشانات دریافت کیے جا چکے ہیں۔ نئی دریافت قدیم زمانے میں ان جانوروں کے غیر معمولی حجم کے بارے میں مزید شواہد فراہم کرتی ہے۔

چائنا یونیورسٹی آف جیوسائنسز کے معروف ماہر شِنگ لیڈا کے مطابق، یہ دریافت دیو ہیکل نعل نما کیکڑوں کی موجودگی کے شواہد کو ابتدائی ٹرائی ایسک دور تک لے جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کالے بچھوؤں کا کاروبار، 24 ارب روپے غائب!

پاکستان کے ساتھ معاشی روابط مزید ہوسکتے ہیں،ملائیشین ہائی کمشنر

یہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کا تعلق پرمیئن دور کی عظیم معدومیت کے فوراً بعد کے زمانے سے ہے۔ زمین کی تاریخ میں ہونے والی اس تباہ کن معدومیت کے دوران تقریباً 90 فیصد سمندری انواع سمیت جانداروں کی بڑی تعداد ختم ہو گئی تھی۔

نئے شواہد سے اشارہ ملتا ہے کہ اس تباہی کے بعد سمندری ماحولیاتی نظام کی بحالی پہلے کے اندازوں سے زیادہ تیزی سے ہوئی ہو سکتی ہے۔ یہ دریافت نہ صرف نعل نما کیکڑوں کے ارتقائی سفر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، بلکہ زمین کی تاریخ کی سب سے بڑی معدومیت کے بعد سمندری حیات کی بحالی کے بارے میں بھی نئی معلومات فراہم کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں