فروزاں رپورٹ
سنگاپور کی مانیٹری اتھارٹی (ایم اے ایس) نے فزیکل موسمیاتی خطرات سے متعلق اپنا پہلا ٹاپ ڈاؤن کلائمیٹ سیناریو اینالیسس شروع کردیا ہے۔
اس مطالعے میں جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ہیٹ ویوز، سیلاب اور شدید طوفان جیسے موسمی واقعات سنگاپور میں کام کرنے والے مالیاتی اداروں کی بیلنس شیٹس اور سرمایہ جاتی تناسب کو کس طرح متاثر کرسکتے ہیں۔
یہ مطالعہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تکنیکی معاونت سے کیا جا رہا ہے۔
ایم اے ایس موسمیاتی تبدیلی کو صرف ایک طویل المدتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اس کے فوری مالیاتی اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
ادارہ یہ جانچ رہا ہے کہ موسمیاتی واقعات سے ہونے والے جسمانی نقصانات بینکاری، انشورنس اور سرمایہ کاری کے شعبوں تک کس طرح پہنچتے ہیں اور پورے مالیاتی نظام کو کس طرح متاثر کرسکتے ہیں۔
ایم اے ایس نے مطالعے کی تکمیل کی حتمی تاریخ ظاہر نہیں کی۔ تاہم، سنگاپور کے مالیاتی مرکز میں کام کرنے والے مقامی اور بین الاقوامی بینکوں کے حوالے سے یہ تجزیہ جاری ہے۔
ایم اے ایس کی جانب سے ماضی میں کیے گئے موسمیاتی اسٹریس ٹیسٹس میں زیادہ توجہ ٹرانزیشن رسکس یعنی کم کاربن معیشت کی جانب منتقلی سے پیدا ہونے والے خطرات پر مرکوز رہی۔
مثال کے طور پر، 2023 کے ایک مطالعے میں عالمی سطح پر نیٹ زیرو منتقلی کے مختلف راستوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔
مطالعے میں سامنے آیا کہ تاخیر سے یا بے ترتیب انداز میں ہونے والی منتقلی بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کے لیے منظم اور بروقت منتقلی کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ مہنگی ثابت ہوسکتی ہے۔
تاہم، دنیا بھر میں شدید موسمی واقعات میں اضافے کے باعث مرکزی بینک اب موسمیاتی تبدیلی کے براہِ راست فزیکل اثرات پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔
ایم اے ایس اب موسمیاتی خطرات کے ڈیٹا کو معاشی ماڈلز کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔ اس کا مقصد یہ جاننا ہے کہ شدید موسمی واقعات کس طرح دیگر معاشی دباؤ کو جنم دے سکتے ہیں۔
سپلائی چین میں رکاوٹیں: علاقائی تجارتی راستوں اور صنعتی مراکز میں خلل پیدا ہوسکتا ہے۔
مہنگائی میں اضافہ: اشیائے ضروریہ کی قلت اور ٹرانسپورٹ میں رکاوٹیں قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔
جائیداد کی قدر میں کمی: سیلاب اور شدید گرمی سے متاثرہ علاقوں میں اثاثوں کی مالیت کم ہوسکتی ہے۔ اس سے قرض دینے والے اداروں کے لیے کریڈٹ رسک بڑھ سکتا ہے۔
انشورنس کلیمز میں اضافہ: شدید موسمی واقعات کے باعث انشورنس کمپنیوں پر ادائیگیوں کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ خطرات 2018 میں ایم اے ایس کے انشورنس اسٹریس ٹیسٹس میں شامل کیے گئے شدید سیلاب کے منظرناموں سے بھی جڑے ہیں۔
دوسری جانب، سنگاپور میں بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کار بھی اپنی بنیادی موسمیاتی توقعات تبدیل کر رہے ہیں۔
خودمختار سرمایہ کاری ادارے ٹیمیسیک نے حال ہی میں اپنی بنیادی عالمی حدت کی توقع 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھا کر 2.4 ڈگری سینٹی گریڈ کے منظرنامے پر منتقل کردی ہے۔
اسی طرح جی آئی سی نے بھی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ توانائی کے شعبے میں غیر یقینی منتقلی کے ساتھ ساتھ فوری فزیکل موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں اپنی لچک بڑھائیں۔
ایم اے ایس کے ترجمان نے گرین سینٹرل بینکنگ کو بتایا کہ یہ تجزیہ موسمیاتی ماڈلنگ اور سیناریو اینالیسس کے حوالے سے ادارے کی اندرونی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔
ترجمان کے مطابق، اس طرح کے تجزیے سے مالیاتی اداروں اور ایم اے ایس کو مالیاتی شعبے پر موسمیاتی خطرات کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔
اس کے علاوہ، مالیاتی ادارے اپنے رسک مینجمنٹ اور خطرات میں کمی کے اقدامات کو بہتر بنا سکیں گے۔
اس عمل سے وقت کے ساتھ سنگاپور کے مالیاتی شعبے کو موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
ایم اے ایس کی چیف سسٹین ایبلٹی آفیسر ابیگیل این جی نے کہا کہ خطے میں پائیدار فنانس کی طلب صاف توانائی اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں بنیادی ترقی کے باعث برقرار ہے۔
تاہم، موافقت، لچک اور نئی ٹرانزیشن ٹیکنالوجیز جیسے شعبوں کو بلند سرمایہ جاتی لاگت، خطرات کی تقسیم کے مسائل اور محدود منصوبوں کی وجہ سے اب بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
فزیکل موسمیاتی خطرات کی جانچ کا یہ رجحان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کو شدید موسمیاتی جھٹکوں کا سامنا ہے۔
یورپ اور شمالی امریکا میں شدید ہیٹ ویوز جبکہ جنوب مشرقی ایشیا میں بار بار آنے والے شدید سیلاب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے فزیکل اثاثوں کو فوری اور سنگین خطرات لاحق ہیں۔
اسی دوران، ماہرینِ موسمیات کے مطابق بحرالکاہل کے درجہ حرارت میں اضافے سے ال نینو کے مضبوط ہونے کا امکان ہے۔ اس سے ایشیا میں شدید موسمی حالات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
اس صورتحال کے نتیجے میں زرعی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔ پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ خطے میں تجارت اور لاجسٹکس سے وابستہ سپلائی چینز بھی مشکلات کا شکار ہوسکتی ہیں۔
مرکزی بینکوں کا ماننا ہے کہ مالیاتی ادارے خطرات کی قیمت بندی کے لیے صرف تاریخی ڈیٹا پر انحصار نہیں کرسکتے۔
موسمیاتی نقصانات کے باعث رہن اور دیگر ضمانتی اثاثوں کی مالیت میں اتار چڑھاؤ آسکتا ہے۔ اس سے بینک اپنے قرضوں کے پورٹ فولیو میں موجود کریڈٹ اور مارکیٹ کے خطرات کا کم اندازہ لگانے کا شکار ہوسکتے ہیں۔
سرمایہ جاتی تقاضے اور قرضوں کی منظوری: بینکوں کو بالخصوص رئیل اسٹیٹ، انفراسٹرکچر اور تجارتی فنانس میں قرضوں کی منظوری کے عمل کے دوران فزیکل موسمیاتی خطرات کے نقشوں کو شامل کرنا ہوگا۔
انشورنس کے تحفظ میں خلا: جائیداد کو پہنچنے والے نقصانات اور کاروباری سرگرمیوں میں تعطل کے باعث انشورنس کلیمز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اس صورتحال میں انشورنس کمپنیوں کو کوریج کی شرائط مزید سخت کرنا پڑسکتی ہیں۔ نتیجتاً موسمیاتی خطرات سے دوچار خطوں میں انشورنس کے تحفظ کا خلا بڑھ سکتا ہے۔
2027 کی ٹرانزیشن پلاننگ: ایم اے ایس فزیکل موسمیاتی خطرات سے متعلق نتائج کو اپنی 2027 کی ٹرانزیشن پلاننگ گائیڈ لائنز میں شامل کرے گی۔
نئے ضوابط کے تحت مالیاتی اداروں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ وقت کے ساتھ فزیکل موسمیاتی خطرات کو کس طرح کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
تھر کول رائلٹی: منصفانہ حصے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ
جنگلات میں لگنے والی آگ موسمیاتی تبدیلی کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
ایم اے ایس کی جانب سے یہ پیشگی ماڈلنگ ایشیا کے مرکزی بینکاری نظام میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
ٹرانزیشن رسکس سے آگے بڑھ کر موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے براہِ راست فزیکل نقصانات کو مالیاتی خطرات میں شامل کیا جا رہا ہے۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ مالیاتی اداروں کو موسمیاتی خطرات کو مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ بیلنس شیٹ کا خطرہ سمجھنا ہوگا۔ جیسے جیسے شدید موسمی واقعات میں اضافہ اور ان کی شدت میں اتار چڑھاؤ بڑھ رہا ہے، فزیکل موسمیاتی جھٹکوں کے لیے اسٹریس ٹیسٹنگ مستقبل میں دنیا کے بڑے مالیاتی مراکز میں ریگولیٹری معیار کا لازمی حصہ بن سکتی ہے۔
خواتین، خصوصاً دیہی اور مقامی خواتین کی آواز، روایتی علم اور کردار کو تسلیم کرنا…
موسمیاتی بحران پر مؤثر اقدامات کے لیے اسٹاک ہوم میں 10 ہزار افراد نکل آئے،…
بیج کی اسیری اور دسترخوان کی آزادی: جی ایم او زراعت، تیسری دنیا، غذائی خودمختاری…
انکار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، کریملن نے موسمیاتی تبدیلی کو یورپی یونین مخالف پروپیگنڈے اور…
کراچی پورٹ کوریڈور: رہائشی علاقوں کے تحفظ کے لیے ماحولیاتی منظوری فوری طور پر روکنے…
لال مرچ اور بدلتا موسم، کنری کی پہچان، معیشت اور کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی اور…
This website uses cookies.