تھر کول رائلٹی: سول سوسائٹی اور متاثرین کی 12 نکاتی قرارداد، آمدنی کا 50 فیصد تھرپارکر کی ترقی کے لیے مختص کرنے کا مطالبہ
فروزاں رپورٹ
اسلام کوٹ: تھر کول سے متاثرہ افراد اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے تھر کول رائلٹی سے متعلق 12 نکاتی مشترکہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تھر کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے رائلٹی میں منصفانہ حصہ مختص کیا جائے اور اس حوالے سے واضح قانون سازی کی جائے۔
اس سلسلے میں پریس کلب اسلام کوٹ کے ہال میں تھر کول سے متاثرہ کمیونٹی، سول سوسائٹی کے نمائندوں، نوجوانوں، وکلا، صحافیوں اور سماجی رہنماؤں کا مشترکہ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تھر کول رائلٹی سے متعلق 12 نکاتی مشترکہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔
اجلاس میں تھر سٹیزن فورم کے چیئرمین اوبھایو جونیجو، اعجاز بجیر، ناشاد رحم علی، آزاد اسد ہنگورجو، نواز مہرانپوٹو، ساجن چارو، عظمیٰ ابڑنگ، جی ایم بجیر، قربان سمیجو، نہال مہرانپوٹو، عزیز ہالیپوٹو، نصیر نون، اعجاز بلوچ، عبدالغنی بجیر، صدام بجیر، اریس خان منگی، حسن رضوی، اتم بھیل، سومار خاصخیلی اور کلائمیٹ ایکشن سینٹر کراچی کے نمائندوں سمیت دیگر نے شرکت کی۔
شرکا نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تھر سے نکالے جانے والے کوئلے پر حاصل ہونے والی رائلٹی میں تھرپارکر کے عوام کے قانونی اور اخلاقی حق کو تسلیم کرتے ہوئے واضح قانون سازی کی جائے۔

تھر کول رائلٹی فنڈ قائم کرنے کا مطالبہ
رائلٹی سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کم از کم 50 فیصد حصہ تھرپارکر کی ترقی کے لیے مختص کرنے، ’’تھر کول رائلٹی فنڈ‘‘ قائم کرنے، رائلٹی کی وصولی اور اخراجات سے متعلق ہر سال وائٹ پیپر جاری کرنے اور آزادانہ آڈٹ کرانے پر قرارداد میں زور دیا گیا۔
قرارداد کے مطابق رائلٹی فنڈ کے بورڈ میں متاثرہ دیہات، خواتین، نوجوانوں، سول سوسائٹی، مقامی منتخب نمائندوں اور ماہرین کو نمائندگی دی جائے۔
قرارداد میں جدید اسپتالوں، صاف پانی کے منصوبوں، ماحولیاتی بحالی، شجرکاری، آلودگی کے خاتمے، مقامی افراد کے لیے روزگار، فنی تربیت، اعلیٰ عہدوں پر مقامی نمائندگی، تعلیم، اسکالرشپس، ٹیکنیکل اداروں، یونیورسٹی کیمپس اور نوجوانوں کی مہارتوں کی ترقی کے لیے فنڈز مختص کیے جانے کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
اسلام کوٹ میں ہونے والے سول سوسائٹی کے اجلاس میں زمینوں سے محروم ہونے والے، بے گھر کیے جانے والے اور ماحولیاتی اثرات سے متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ، بحالی اور متبادل روزگار فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں رائلٹی فنڈ کے استعمال کے حوالے سے ہر سال عوامی سماعت منعقد کرنے، ’’تھر کول رائلٹی مینجمنٹ ایکٹ‘‘ منظور کرنے اور آنے والی نسلوں کی تعلیم، صحت، پانی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق منصوبوں کے لیے ’’فیوچر جنریشن فنڈ‘‘ قائم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

’’تھر کا کوئلہ، تھر کے عوام کا حق‘‘
شرکا نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا کہ ’’تھر کا کوئلہ، تھر کے عوام کا حق‘‘ کے اصول کے تحت رائلٹی میں تھرپارکر کو منصفانہ حصہ دیا جائے۔
اس کے ساتھ شفافیت، احتساب، عوامی نگرانی، متاثرہ کمیونٹیز کو ترجیح، صحت، تعلیم، پانی، روزگار، ماحولیاتی بحالی، پائیدار ترقی اور مقامی افراد کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں یہ سفارش بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی کہ قرارداد پر عمل درآمد کرانے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ، اسپیکر سندھ اسمبلی، سندھ کے محکمہ معدنیات و توانائی، محکمہ خزانہ، تھرپارکر کے منتخب نمائندوں، متعلقہ کمپنیوں، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ وفاقی اداروں کو خطوط ارسال کیے جائیں۔
قدرتی وسائل کے فوائد مقامی لوگوں تک پہنچنے چاہییں
مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تھر کول متاثرین اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ تھر کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچنے چاہییں۔ رائلٹی کی منصفانہ تقسیم کے لیے مؤثر قانون سازی اب وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تھر کول منصوبوں کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ زمین اور چراگاہیں تباہ ہو چکی ہیں، زیرِ زمین پانی زہریلا ہو گیا ہے، ماحولیاتی آلودگی کے باعث بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں، جبکہ مقامی لوگوں کو روزگار کا بنیادی حق بھی حاصل نہیں۔
شرکا نے الزام عائد کیا کہ بلاک ون اور بلاک ٹو کی انتظامیہ نے مقامی لوگوں سے زبردستی زمینیں حاصل کرکے انہیں ان کے حقوق سے محروم کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تھر میں کوئلہ نکالنے کا عمل شروع ہوا تو مقامی لوگوں نے سمجھا تھا کہ تھر دبئی بن جائے گا، لیکن نتائج اس کے بالکل برعکس سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت سندھ حکومت کمپنیوں کے ساتھ شراکت دار بن کر مقامی لوگوں کی ترقی کے بجائے ان کے حقوق چھین رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
جنگلات میں لگنے والی آگ موسمیاتی تبدیلی کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
موسمیاتی تبدیلی: کارکنوں کی صحت پر بڑھتے خطرات، نئی رپورٹ
رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ منافع سمیت تھر کول رائلٹی کی مد میں 70 ارب روپے سندھ حکومت کے اکاؤنٹ میں موجود ہیں، لیکن تھر کے عوام آج بھی بہتر تعلیم، صحت، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
سول سوسائٹی کے نمائندوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ تھر کول سے حاصل ہونے والی رائلٹی کو تھر کی ترقی پر خرچ کیا جائے اور مقامی باشندوں کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔
بصورت دیگر مشترکہ لائحہ عمل کے تحت احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

