فروزاں رپورٹ
کراچی میں بندرگاہی اور مال بردار ٹریفک کے لیے مجوزہ کراچی پورٹ/قیوم آباد کوریڈور، جسے پی ٹی کیو ایکسپریس وے بھی کہا جاتا ہے، ماحولیاتی تحفظ، شہری منصوبہ بندی اور رہائشی آبادیوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے اہم بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
18 اگست 2026 کو سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی، سیپا، کی جانب سے منعقدہ عوامی سماعت میں ڈی ایچ اے، کلفٹن، قیوم آباد اور ملحقہ علاقوں کے مکینوں نے منصوبے کی ماحولیاتی و سماجی اثرات کی تشخیصی رپورٹ، یعنی ای ایس آئی اے، پر تفصیلی اعتراضات جمع کرائے۔
مکینوں نے مطالبہ کیا کہ رپورٹ میں نشان زد خامیوں، مختلف دستاویزات میں غیر یکساں معلومات اور نامکمل مطالعات کا آزادانہ جائزہ مکمل ہونے تک منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کی منظوری نہ دی جائے۔
عوامی سماعت کی صدارت سیپا کے ڈائریکٹر وارث گبول نے کی، جبکہ منصوبے کے تکنیکی کنسلٹنٹس اور ای ایس آئی اے سے متعلق ادارے کے نمائندے بھی موجود تھے۔
علاقہ مکینوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈیفنس سوسائٹی ریزیڈنٹس ایسوسی ایشن کے نمائندے جمال مکدی نے فیز ٹو ریزیڈنٹس ایسوسی ایشن اور سی ویو ریزیڈنٹس ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر اعتراضات پیش کیے۔
رہائشی تنظیموں نے واضح کیا کہ وہ بندرگاہی ٹریفک کی بہتر نقل و حرکت، شہر کی سڑکوں پر ٹرکوں کا دباؤ کم کرنے اور کراچی پورٹ کو موٹروے سے ملانے کی کوششوں کے خلاف نہیں۔
تاہم ان کا مؤقف تھا کہ بڑی تعداد میں بھاری گاڑیوں کو رہائشی، تعلیمی، طبی اور ماحول کے لحاظ سے حساس علاقوں کے درمیان سے گزارنے سے پہلے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ منتخب راستہ دستیاب متبادل راستوں میں سب سے محفوظ، پائیدار اور کم نقصان دہ ہے۔
کراچی پورٹ/قیوم آباد کوریڈور چار لین پر مشتمل، محدود رسائی اور ٹول والا مجوزہ مال بردار کوریڈور ہے۔
اسے کراچی پورٹ کے ایسٹ وہارف اور ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل، یعنی ایس اے پی ٹی، کو جام صادق پل کے قریب شاہراہ بھٹو سے ملانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت تعمیر کرنے کی تجویز ہے۔
منصوبے کا بنیادی مقصد بندرگاہ سے آنے اور جانے والی مال بردار گاڑیوں کے لیے ایک مخصوص راستہ فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ کراچی کی عام سڑکوں اور شہری ٹریفک میں داخل ہوئے بغیر قیوم آباد پہنچ سکیں۔
قیوم آباد کے بعد یہ راستہ شاہراہ بھٹو کے ذریعے ایم نائن موٹروے سے منسلک ہوگا۔
مئی 2026 میں منصوبے کی سنگ بنیاد تقریب کے موقع پر اس کی تخمینی لاگت 64 ارب 20 کروڑ روپے بتائی گئی تھی، جبکہ بعض اطلاعات میں اسے تقریباً 65 ارب روپے قرار دیا گیا۔
تاہم سندھ حکومت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کی ویب سائٹ پر منصوبے کی لاگت فی الحال درج نہیں۔
سرکاری معلومات کے مطابق منصوبہ سرمایہ کاروں سے تجاویز طلب کرنے کے مرحلے میں ہے۔ اس لیے دستیاب معلومات کی بنیاد پر اسے فی الحال مجوزہ منصوبہ کہنا زیادہ محتاط اور درست ہوگا۔
اگرچہ منصوبے کو عمومی طور پر ایک بلند ایکسپریس وے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن سندھ پی پی پی یونٹ کی سرکاری تفصیلات کے مطابق اس کا پورا راستہ ستونوں پر تعمیر نہیں ہوگا۔
منصوبے کی مجموعی مجوزہ لمبائی 16.5 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔
اس میں 8.7 کلومیٹر بلند حصہ شامل ہے، جبکہ 6.1 کلومیٹر حصہ مٹی کے بلند پشتوں پر تعمیر کیا جانا ہے۔
دستیاب مختصر سرکاری تفصیلات میں باقی 1.7 کلومیٹر حصے کی ساخت واضح نہیں کی گئی۔
مکینوں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے کا مکمل نقشہ قابل مطالعہ پیمانے پر جاری کیا جائے، جس میں بلند حصوں، مٹی کے پشتوں، پلوں، انٹرچینجوں، ریمپوں اور مقامی رابطہ سڑکوں کی واضح نشاندہی شامل ہو۔
عوامی سماعت میں جمع کرائے گئے اعتراضات کے مطابق منصوبے کی مختلف دستاویزات میں اس کی لمبائی، لاگت، تعمیراتی مدت اور راستے سے متعلق معلومات مکمل طور پر یکساں نہیں۔
مثال کے طور پر جولائی 2025 میں سامنے آنے والی ابتدائی معلومات میں منصوبے کا 10.4 کلومیٹر حصہ بلند بتایا گیا تھا، جبکہ سندھ پی پی پی یونٹ کی موجودہ سرکاری تفصیل میں بلند حصہ 8.7 کلومیٹر درج ہے۔
ممکن ہے کہ بعد میں منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی کی گئی ہو، تاہم دستیاب مختصر سرکاری معلومات میں اس تبدیلی کی تفصیلی وضاحت موجود نہیں۔
رہائشی نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ ماحولیاتی منظوری سے پہلے منصوبے کی تازہ اور حتمی ساخت واضح کی جائے اور نظرثانی شدہ ای ایس آئی اے، مکمل نقشے اور متعلقہ مطالعات دوبارہ عوامی جائزے کے لیے جاری کیے جائیں۔
رہائشی تنظیموں کے اعتراضات کے مطابق ٹریفک امپیکٹ اسیسمنٹ میں منصوبے کے ابتدائی سال کے لیے روزانہ 15 ہزار 399 بھاری گاڑیوں کی آمدورفت کا تخمینہ دیا گیا ہے۔
یہ تعداد 2036 تک بڑھ کر روزانہ 25 ہزار 90 ہو سکتی ہے۔
تاہم یہ اعداد منصوبہ فعال ہونے کے بعد گاڑیوں کی حتمی تعداد نہیں بلکہ مستقبل کی پیش گوئی ہیں۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں بھاری گاڑیوں کے ممکنہ شور، دھوئیں، ارتعاش، حادثات اور مقامی سڑکوں پر اثرات کو محض عمومی بیانات کی بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے دن اور رات میں متوقع ٹریفک، مختلف اقسام کی بھاری گاڑیوں، مصروف ترین اوقات، انٹرچینجوں سے داخل اور خارج ہونے والی گاڑیوں اور رہائشی سڑکوں پر منتقل ہونے والی اضافی ٹریفک کی مکمل تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عوامی سماعت میں جمع کرائے گئے اعتراضات کے مطابق ای ایس آئی اے رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ مجوزہ کوریڈور رہائشی اور تجارتی علاقوں سے گزرے گا اور اس کے نتیجے میں نمایاں اور ناقابل واپسی اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر ماحولیاتی رپورٹ خود ممکنہ اثرات کی سنگینی کی نشان دہی کرتی ہے تو منظوری سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ اثرات کن علاقوں، آبادیوں اور قدرتی نظاموں پر پڑیں گے۔
انہوں نے ہر ممکنہ اثر کی نوعیت، مقام، مدت اور شدت واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
رہائشی تنظیموں کے اعتراضات کا ایک اہم نکتہ منصوبے کے ممکنہ متبادل راستوں اور ذرائع کا ناکافی جائزہ ہے۔
ان کے مطابق ای ایس آئی اے میں مجوزہ راستے کا ناردرن بائی پاس کی بہتری، کراچی پورٹ ٹرسٹ سے پپری تک مال بردار ریلوے کوریڈور اور ریل و سڑک کے مشترکہ نظام سے شفاف تقابل نہیں کیا گیا۔
مکینوں نے ایک آزادانہ اور جامع تقابلی جائزے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس میں ناردرن بائی پاس کو مال بردار ٹریفک کے لیے بہتر بنانے، کراچی پورٹ سے پپری تک مال بردار ریلوے کو بحال یا جدید بنانے، ریل اور سڑک پر مشتمل مشترکہ نظام، گنجان رہائشی علاقوں سے باہر متبادل راستے اور منصوبہ تعمیر نہ کرنے کی صورت میں ممکنہ نتائج کا جائزہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی جائزے کا مقصد صرف پہلے سے منتخب راستے کی حمایت کرنا نہیں بلکہ مطلوبہ مقصد کے حصول کے لیے سب سے کم نقصان دہ طریقے کی نشاندہی بھی ہونا چاہیے۔
علاقہ مکینوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بلند شاہراہ پر بڑی تعداد میں بھاری گاڑیوں کی آمدورفت سے انجن، بریک اور ٹائروں کا مسلسل شور پیدا ہوگا۔
رات کے وقت اس شور کے اثرات زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں کیونکہ اس وقت پس منظر کا شہری شور نسبتاً کم ہوتا ہے۔
بھاری گاڑیوں سے پیدا ہونے والے ممکنہ ارتعاش کے قریبی گھروں، اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر حساس عمارتوں پر اثرات کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے گئے۔
مکینوں نے ہر حساس مقام کے لیے موجودہ شور، تعمیراتی مرحلے اور منصوبہ فعال ہونے کے بعد دن اور رات کے دوران متوقع شور کی سطح کا الگ جائزہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈیزل سے چلنے والی بھاری گاڑیاں باریک آلودہ ذرات، نائٹروجن آکسائیڈز اور دیگر نقصان دہ مادے خارج کرتی ہیں۔
مکینوں کے مطابق بلند شاہراہ کی صورت میں یہ اخراج ہوا کے رخ کے مطابق آس پاس کی آبادیوں اور قریبی عمارتوں کی بالائی منزلوں تک پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ فضائی معیار، تعمیراتی مرحلے میں پیدا ہونے والی آلودگی اور کوریڈور فعال ہونے کے بعد متوقع اخراج کے اعداد و شمار جاری کیے جائیں۔
قریبی گھروں، اسکولوں اور اسپتالوں کے ساتھ بچوں، بزرگوں اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے الگ صحت عامہ کا جائزہ بھی طلب کیا گیا ہے۔
عوامی سماعت میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا ایندھن کے ٹینکر، کیمیائی مادے یا دیگر خطرناک سامان لے جانے والی گاڑیوں کو اس کوریڈور کے استعمال کی اجازت ہوگی۔
رہائشی نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسی گاڑیاں گنجان آبادیوں کے قریب سے گزریں گی تو آگ، دھماکے، حادثات یا مواد کے اخراج کے امکانات کا مقداری جائزہ ضروری ہے۔
انہوں نے منصوبے کی منظوری سے پہلے مکمل خطرات کے جائزے اور ہنگامی ردعمل کے منصوبے کا مطالبہ کیا ہے۔
مٹی کے پشتوں پر تعمیر کیے جانے والے 6.1 کلومیٹر حصے نے نکاسی آب سے متعلق خدشات کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
کلفٹن اور بوٹ بیسن پہلے ہی بارش اور سیوریج کے پانی کی نکاسی کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔
مکینوں کا خدشہ ہے کہ مٹی کا مسلسل بلند پشتہ مناسب گزرگاہوں اور مطلوبہ گنجائش کے کلورٹس کے بغیر قدرتی یا تعمیر شدہ نکاسی کے راستوں میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔
تاہم دستیاب معلومات سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ منصوبہ لازماً شہری سیلاب میں اضافہ کرے گا۔
اسی ممکنہ خطرے کے سائنسی تعین کے لیے مکینوں نے منصوبے سے مخصوص نکاسی آب اور سیلابی اثرات کے مطالعے کا آزادانہ جائزہ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
عوامی اعتراضات میں مینگرووز اور ساحلی ماحولیاتی نظام پر ممکنہ اثرات بھی شامل ہیں۔
مکینوں نے مطالبہ کیا کہ مینگرووز، آبی گزرگاہوں، ساحلی حیاتیاتی تنوع اور ان سے وابستہ قدرتی نظاموں پر منصوبے کے براہ راست، بالواسطہ اور مجموعی اثرات کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔
ان کے مطابق صرف ان درختوں یا نباتات کا جائزہ کافی نہیں جو براہ راست تعمیراتی حدود میں آتی ہیں۔
پانی کے بہاؤ میں تبدیلی، تعمیراتی ملبے، شور، روشنی، گردوغبار اور انسانی سرگرمیوں میں اضافے کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ ضروری ہے۔
کراچی پہلے ہی درختوں اور سبز مقامات کی کمی، کنکریٹ اور اسفالٹ کی بڑھتی ہوئی سطحوں اور شہری حدت کے مسئلے کا سامنا کر رہا ہے۔
مکینوں نے منصوبے سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے درختوں کی مکمل فہرست جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس میں ہر درخت کی نوع، عمر، مقام اور موجودہ حالت شامل ہو۔
انہوں نے یہ بھی وضاحت مانگی کہ ریمپوں، انٹرچینجوں، تعمیراتی کیمپوں اور بھاری مشینری کے لیے کون سے گرین بیلٹس، پارک، کھیل کے میدان یا دیگر شہری سہولتوں کی زمین استعمال ہو سکتی ہے۔
مکینوں کے مطابق منصوبے سے متعلق شہری حدت کا مخصوص مطالعہ بھی ضروری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کنکریٹ اور اسفالٹ کی نئی سطحیں مقامی درجہ حرارت، سایے اور ہوا کی نقل و حرکت کو کس حد تک متاثر کر سکتی ہیں۔
کراچی پہلے ہی درختوں اور سبز مقامات کی کمی، کنکریٹ اور اسفالٹ کی بڑھتی ہوئی سطحوں اور شہری حدت کے مسئلے کا سامنا کر رہا ہے۔
مکینوں نے منصوبے سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے درختوں کی مکمل فہرست جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس میں ہر درخت کی نوع، عمر، مقام اور موجودہ حالت شامل ہو۔
انہوں نے یہ بھی وضاحت مانگی کہ ریمپوں، انٹرچینجوں، تعمیراتی کیمپوں اور بھاری مشینری کے لیے کون سے گرین بیلٹس، پارک، کھیل کے میدان یا دیگر شہری سہولتوں کی زمین استعمال ہو سکتی ہے۔
مکینوں کے مطابق منصوبے سے متعلق شہری حدت کا مخصوص مطالعہ بھی ضروری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کنکریٹ اور اسفالٹ کی نئی سطحیں مقامی درجہ حرارت، سایے اور ہوا کی نقل و حرکت کو کس حد تک متاثر کر سکتی ہیں۔
رہائشی تنظیموں نے متعلقہ اداروں سے تحریری یقین دہانی طلب کی ہے کہ سیپا سے قانونی ماحولیاتی منظوری کا عمل مکمل ہونے سے پہلے کسی قسم کا تعمیراتی کام، کھدائی، زمین کی تیاری یا اس سے متعلق سرگرمی شروع نہیں کی جائے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ عوامی سماعت کو محض قانونی کارروائی پوری کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
سماعت میں اٹھائے گئے تمام تکنیکی سوالات کے تحریری جوابات دیے جائیں، اعتراضات اور سرکاری ردعمل عام کیا جائے اور ضروری تبدیلیوں کے بعد رپورٹ دوبارہ عوامی جائزے کے لیے پیش کی جائے۔
علاقہ مکینوں نے سیپا سے مطالبہ کیا کہ موجودہ ای ایس آئی اے کو فوری منظوری دینے کے بجائے رپورٹ میں موجود تمام غیر یکساں معلومات واضح کی جائیں۔
ماحولیاتی مطالعات کا آزاد ماہرین سے جائزہ کرایا جائے۔
ریل، ناردرن بائی پاس اور ریل و سڑک کے مشترکہ متبادل کا تقابلی جائزہ پیش کیا جائے۔
شور، فضائی آلودگی اور صحت عامہ کے تفصیلی مطالعات مکمل کیے جائیں۔
خطرناک سامان سے متعلق مقداری خطرات کا جائزہ تیار کیا جائے۔
مینگرووز، نکاسی آب اور شہری آب و ہوا پر اثرات کا آزادانہ جائزہ کرایا جائے۔
جائیدادوں کے ممکنہ نقصان اور معاوضے کا شفاف طریقہ بنایا جائے۔
مکمل نقشے اور تمام اہم تکنیکی مطالعات عوام کے لیے جاری کیے جائیں، جبکہ متاثرہ محلوں اور گھرانوں کی سطح پر وسیع مشاورت کے بعد نظرثانی شدہ ای ایس آئی اے پر دوسری عوامی سماعت منعقد کی جائے۔
کراچی میں بندرگاہی ٹرکوں کی وجہ سے ٹریفک جام، حادثات، سڑکوں پر دباؤ اور فضائی آلودگی پہلے ہی سنگین مسائل ہیں۔
اگر مجوزہ کوریڈور درست منصوبہ بندی، سخت ٹریفک ضابطوں اور مؤثر ماحولیاتی حفاظتی اقدامات کے ساتھ تعمیر ہو تو شہر کی عام سڑکوں پر بھاری گاڑیوں کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
تاہم یہ فائدہ اسی صورت میں حاصل ہوگا جب بندرگاہی ٹرکوں کو واقعی مخصوص کوریڈور استعمال کرنے کا پابند بنایا جائے اور انٹرچینجوں سے نکلنے والی ٹریفک رہائشی سڑکوں پر منتقل نہ ہو۔
شور، فضائی آلودگی، نکاسی آب، درختوں اور عوامی سلامتی سے متعلق شرائط پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں
جشن آزادی پر گرین سندھ فاؤنڈیشن کا سرسبز انقلاب، گرین ویک مہم کا آغاز
کراچی پورٹ/قیوم آباد کوریڈور محض ایک نئی سڑک نہیں بلکہ گنجان رہائشی علاقوں کے قریب سے گزرنے والا ایک بڑا مال بردار منصوبہ ہے۔
رہائشی تنظیموں کے پیش کردہ ٹریفک تخمینوں کے مطابق ابتدائی سال میں روزانہ 15 ہزار سے زیادہ اور 2036 تک 25 ہزار سے زیادہ بھاری گاڑیاں اسے استعمال کر سکتی ہیں۔
اس لیے اس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اس منصوبے کی حمایت یا مخالفت صرف عمومی نعروں کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا منتخب راستہ دستیاب متبادل راستوں میں سب سے محفوظ، کم نقصان دہ اور پائیدار حل ہے، اور کیا اس دعوے کو آزادانہ سائنسی شواہد سے ثابت کیا گیا ہے؟
سیپا کی ذمہ داری صرف رپورٹ وصول کرنا اور عوامی سماعت منعقد کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ فیصلہ مکمل، یکساں اور قابل جانچ معلومات کی بنیاد پر ہو۔
ترقی کراچی کی ضرورت ہے، لیکن ایسی ترقی جو شہریوں کی صحت، رہائشی سکون، قدرتی نکاسی، سبز مقامات اور ساحلی ماحول کو غیر ضروری خطرے میں ڈالے، مستقبل میں فائدے کے ساتھ بھاری ماحولیاتی اور سماجی قیمت بھی عائد کر سکتی ہے۔
اس لیے منصوبے کے ممکنہ معاشی فوائد کے ساتھ اس کے طویل مدتی ماحولیاتی اور سماجی اثرات کا آزادانہ، سائنسی اور شفاف تعین ناگزیر ہے۔
بیج کی اسیری اور دسترخوان کی آزادی: جی ایم او زراعت، تیسری دنیا، غذائی خودمختاری…
انکار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، کریملن نے موسمیاتی تبدیلی کو یورپی یونین مخالف پروپیگنڈے اور…
لال مرچ اور بدلتا موسم، کنری کی پہچان، معیشت اور کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی اور…
جشن آزادی پر گرین سندھ فاؤنڈیشن نے پلانٹ فار پاکستان گرین ویک کے تحت لاڑکانہ…
یورپ میں گرمی کی پانچویں لہر سے کاروبار متاثر، معیشت و پیداواری صلاحیت میں کمی،…
جب آسمان تندور بن جائے، ایل نینو، عالمی حدت، ہیٹ ڈوم اور خشک سالی سے…
This website uses cookies.