Environmental Reports

لال مرچ اور بدلتا موسم

لال مرچ اور بدلتا موسم، کنری کی پہچان، معیشت اور کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی اور شدید موسم کے براہِ راست بڑھتے خطرات

پاکستانی کھانوں کا تصور لال مرچ کے بغیر شاید ہی ممکن ہو۔ سالن ہو، بریانی، اچار یا چٹنی، لال مرچ ہمارے روزمرہ ذائقوں کا لازمی حصہ ہے۔

تاہم، جس فصل کو ہم اپنے باورچی خانے میں ایک عام چیز سمجھتے ہیں، اس کے پیچھے سندھ کے ہزاروں کسانوں، مزدوروں اور تاجروں کی روزی روٹی وابستہ ہے۔

خصوصاً ضلع عمرکوٹ کا شہر کنری کئی دہائیوں سے پاکستان میں سرخ مرچ کی پیداوار اور تجارت کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

لیکن اب اسی علاقے میں ایک اہم سوال پیدا ہو رہا ہے۔ اگر موسم اسی طرح بدلتا رہا تو کیا کنری مستقبل میں بھی اسی پیمانے پر لال مرچ پیدا کر سکے گا؟

یہ سوال صرف مرچ کی ایک فصل کا نہیں بلکہ پاکستان میں زراعت اور موسمیاتی تبدیلی کے درمیان تیزی سے بدلتے تعلق کا بھی ہے۔

بعض علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔

گرمی صرف انسانوں کو متاثر نہیں کرتی

گزشتہ چند برسوں میں سندھ شدید اور طویل گرمی کی لہروں کا سامنا کرتا رہا ہے۔ بعض علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔

2024 میں سندھ کے موئن جو دڑو میں درجہ حرارت 52.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اس قسم کی شدید گرمی کا ذکر عموماً انسانی صحت کے حوالے سے کیا جاتا ہے، لیکن بلند درجہ حرارت زراعت پر بھی براہ راست اثر ڈالتا ہے۔

پودے بھی گرمی کے دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ درجہ حرارت ان کی نشوونما، پھول آنے اور پھل بننے کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔

کنری اور اس کے گردونواح میں لال مرچ کاشت کرنے والے کسان کئی برس سے اس بدلتی ہوئی صورت حال کو محسوس کر رہے ہیں۔

2022 میں رائٹرز کی ایک تفصیلی رپورٹ میں علاقے کے کسانوں نے بتایا تھا کہ شدید گرمی نے پہلے مرچ کی فصل کو نقصان پہنچایا، جبکہ بعد میں غیر معمولی بارشوں اور سیلاب نے باقی فصل کو بھی تباہ کر دیا۔

یہی موسمیاتی تبدیلی کا ایک اہم پہلو ہے۔

مسئلہ صرف اوسط درجہ حرارت میں اضافے کا نہیں بلکہ موسم کے بڑھتے ہوئے غیر یقینی پن کا بھی ہے۔

لیکن جب موسم کا یہ انداز تیزی سے تبدیل ہونے لگے تو روایتی زرعی تجربہ بھی کم مؤثر ہونے لگتا ہے۔

کبھی گرمی، کبھی شدید بارش

زراعت ہمیشہ موسم سے وابستہ رہی ہے۔ کسان فصل کی بوائی، آبپاشی اور کٹائی کا فیصلہ موسم کے عمومی انداز کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں۔

لیکن جب موسم کا یہ انداز تیزی سے تبدیل ہونے لگے تو روایتی زرعی تجربہ بھی کم مؤثر ہونے لگتا ہے۔

کسی سال غیر معمولی گرمی فصل کو ابتدائی مرحلے میں متاثر کر سکتی ہے۔ دوسرے سال بارش دیر سے آسکتی ہے۔

کبھی مختصر مدت میں اتنی زیادہ بارش ہو سکتی ہے کہ کھیت پانی میں ڈوب جائیں۔

2022 اس خطرے کی ایک واضح مثال تھا۔ مرچ کے کاشت کار پہلے شدید گرمی سے متاثر ہوئے اور پھر سندھ میں آنے والی تباہ کن بارشوں اور سیلاب نے فصلوں کو مزید نقصان پہنچایا۔

یہ صورت حال کسان کے لیے صرف فصل کے نقصان تک محدود نہیں ہوتی۔

بیج، کھاد، زرعی ادویات، پانی اور مزدوری پر پہلے ہی رقم خرچ ہو چکی ہوتی ہے۔ اگر فصل تباہ ہو جائے تو کسان کی آمدنی ختم ہو سکتی ہے، لیکن اس پر آنے والی لاگت اور بعض اوقات قرض اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔

سندھ کی زراعت میں پانی کی دستیابی پہلے ہی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔

پانی بھی بحران کا حصہ ہے

کنری کی لال مرچ کا مسئلہ صرف بڑھتی ہوئی گرمی تک محدود نہیں۔

سندھ کی زراعت میں پانی کی دستیابی پہلے ہی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔

شدید گرمی میں فصلوں کو زیادہ پانی درکار ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اسی وقت نہری پانی کم دستیاب ہو، اس کی تقسیم غیر مساوی ہو یا آبپاشی کا نظام مؤثر انداز میں کام نہ کرے تو موسمیاتی دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

اس لیے لال مرچ کی موجودہ صورت حال کو صرف موسمیاتی تبدیلی قرار دے کر باقی مسائل کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔

موسمیاتی تبدیلی، پانی کا انتظام، زرعی منصوبہ بندی اور کسانوں کو دستیاب سہولیات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اختیار کرنے والی زراعت پر توجہ بڑھ رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت، ایف اے او، عمرکوٹ سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں کسانوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت کے طریقوں پر تربیت اور منصوبوں پر کام کر چکا ہے۔

ایک فصل، ایک پوری مقامی معیشت

لال مرچ کو صرف کھیت میں اگنے والی فصل کے طور پر دیکھنا بھی تصویر کا صرف ایک حصہ ہے۔

اس سے کسانوں کے علاوہ کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور، مرچ چننے اور خشک کرنے والے افراد، ٹرانسپورٹرز، منڈی کے کاروباری افراد، ذخیرہ کرنے والے اور برآمد کنندگان بھی وابستہ ہوتے ہیں۔

سندھ تاریخی طور پر پاکستان میں سرخ مرچ کی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے۔

سندھ حکومت کی ایک سرکاری دستاویز میں بھی صوبے کو ملکی سرخ مرچ کی پیداوار کا انتہائی بڑا حصہ فراہم کرنے والا علاقہ قرار دیا گیا تھا۔

اس لیے اگر موسم مسلسل پیداوار کو متاثر کرتا ہے تو اس کے اثرات ایک کسان یا ایک کھیت تک محدود نہیں رہتے۔

پوری مقامی معاشی زنجیر دباؤ میں آسکتی ہے۔

یہ ہمیں موسمیاتی تبدیلی کا ایک مختلف چہرہ بھی دکھاتا ہے۔

موسمیاتی بحران ہمیشہ کسی بڑے سیلاب، طوفان یا قدرتی آفت کی شکل میں سامنے نہیں آتا۔

کبھی یہ آہستہ آہستہ کسی علاقے کی روایتی فصل کو مہنگا، مشکل اور غیر یقینی بنا دیتا ہے۔

کیا راستہ موجود ہے؟

اس کا مطلب یہ نہیں کہ کنری میں لال مرچ کی کاشت ختم ہونے والی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ زراعت کو نئے موسمی حالات کے مطابق کتنی تیزی سے ڈھالا جا سکتا ہے۔

موسم کی بہتر پیش گوئی اور کسانوں تک بروقت معلومات کی فراہمی، پانی کے مؤثر استعمال، بہتر آبپاشی، زیادہ گرمی برداشت کرنے والی اقسام، بوائی کے اوقات میں تبدیلی اور جدید زرعی تحقیق مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

لیکن یہ ذمہ داری صرف کسان پر نہیں ڈالی جا سکتی۔

موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت کے لیے تحقیقاتی اداروں، محکمہ زراعت، آبپاشی کے اداروں، موسمیاتی ماہرین اور حکومت کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

کنری کی لال مرچ ہمیں ایک بڑی حقیقت سمجھاتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی دور دراز مستقبل کا خطرہ نہیں۔

اس کے اثرات اب ہماری زمین، ہماری معیشت اور ہماری روزمرہ خوراک تک پہنچ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

جشن آزادی پر گرین سندھ فاؤنڈیشن کا سرسبز انقلاب، گرین ویک مہم کا آغاز

گرمی نے یورپی معیشت کو ہلا دیا، کاروبار کو 43 ارب یورو کا نقصان

آج مسئلہ لال مرچ کا ہے۔

کل یہی سوال گندم، چاول، کپاس، سبزیوں اور دوسری فصلوں کے سامنے بھی زیادہ شدت سے آسکتا ہے۔

اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ موسم بدل رہا ہے یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری زراعت بھی اس بدلتے موسم کے ساتھ خود کو بدلنے کے لیے تیار ہے؟

admin

Recent Posts

خواتین، فطرت اور سبز انقلاب: ترقی کے ماڈل پر ازسرِنو غور

خواتین، خصوصاً دیہی اور مقامی خواتین کی آواز، روایتی علم اور کردار کو تسلیم کرنا…

14 hours ago

موسمیاتی بحران: سویڈن میں انتخابات سے قبل 10 ہزار افراد کا احتجاج

موسمیاتی بحران پر مؤثر اقدامات کے لیے اسٹاک ہوم میں 10 ہزار افراد نکل آئے،…

19 hours ago

مٹی، کسان اور بیج کا رشتہ تباہی اور بربادی کے دھانے پر

بیج کی اسیری اور دسترخوان کی آزادی: جی ایم او زراعت، تیسری دنیا، غذائی خودمختاری…

2 days ago

انکار سے پروپیگنڈے تک: کریملن کا نیا موسمیاتی ہتھیار

انکار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، کریملن نے موسمیاتی تبدیلی کو یورپی یونین مخالف پروپیگنڈے اور…

3 days ago

کراچی پورٹ کوریڈور: ترقی یا ماحولیاتی خطرہ؟

کراچی پورٹ کوریڈور: رہائشی علاقوں کے تحفظ کے لیے ماحولیاتی منظوری فوری طور پر روکنے…

4 days ago

جشن آزادی پر گرین سندھ فاؤنڈیشن کا سرسبز انقلاب، گرین ویک مہم کا آغاز

جشن آزادی پر گرین سندھ فاؤنڈیشن نے پلانٹ فار پاکستان گرین ویک کے تحت لاڑکانہ…

6 days ago

This website uses cookies.