ایس ڈی پی آئی اور آئی ڈی ایس پی کے درمیان اہم شراکت داری، بلوچستان میں تحقیق اور نوجوانوں کے مواقع بڑھیں گے۔
فروزاں رپورٹ
پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اور انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اسٹڈیز اینڈ پریکٹس (آئی ڈی ایس پی)، کوئٹہ کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے ہیں۔
اس شراکت داری کا مقصد تحقیق، پالیسی سازی، علمی تبادلوں، استعداد کار میں اضافے اور بالخصوص بلوچستان میں کمیونٹی سطح پر پائیدار ترقی سے متعلق مشترکہ سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
تین سالہ معاہدے پر آئی ڈی ایس پی کی بانی اور ڈائریکٹر ڈاکٹر قرة العین بختیاری اور ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے تحقیق ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے دستخط کیے۔
ڈاکٹر قرة العین بختیاری نے کہا کہ یہ شراکت داری بلوچستان کے نوجوانوں، محققین اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔
ڈاکٹر قرة العین بختیاری کے مطابق یہ تعاون شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور مقامی سطح پر ترقیاتی عمل کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ یہ اشتراک تحقیق، پالیسی اور عملی اقدامات کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی کی پالیسی مہارت اور آئی ڈی ایس پی کے بلوچستان بھر میں وسیع عوامی روابط اور زمینی تجربات کو یکجا کر کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں گے۔

تحقیق، پالیسی مکالمے اور انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ
معاہدے کے تحت دونوں ادارے شواہد پر مبنی تحقیق، پالیسی مکالمے، علم کے تبادلے اور انسانی وسائل کی ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ یہ سرگرمیاں پاکستان کے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول میں معاون ثابت ہوں گی۔
مفاہمتی یادداشت کے مطابق دونوں ادارے مشترکہ تحقیقی اور مشاورتی منصوبوں پر کام کریں گے۔ باہمی دلچسپی کے موضوعات پر مطالعاتی سرگرمیوں کے لیے اپنی مہارت، وسائل اور سہولیات بھی بروئے کار لائی جائیں گی۔
اس کے علاوہ مشترکہ اشاعتوں، کانفرنسوں، پالیسی مشاورت اور تحقیقی نتائج کی تشہیر و ترویج میں بھی تعاون کیا جائے گا۔
طلبہ اور نوجوان محققین کے لیے نئے مواقع
اس شراکت داری کے ذریعے آئی ڈی ایس پی کے طلبہ اور فارغ التحصیل افراد کو ایس ڈی پی آئی کے انٹرن شپ اور رضاکارانہ پروگراموں میں شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
طلبہ دونوں اداروں کی نگرانی میں تحقیقی منصوبوں، میڈیا پروڈکشن اور دیگر پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے۔ اس سے انہیں عملی تجربہ حاصل ہوگا اور پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ ہوگا۔
دونوں ادارے ماہرین اور تربیت کاروں کے تبادلے کے ذریعے علم اور تجربات کو ایک دوسرے تک منتقل کریں گے۔ کانفرنسوں اور استعداد کار بڑھانے والی سرگرمیوں میں شرکت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں
فجی نے موسمیاتی میدان میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا؟
عالمی ہیٹ ایکشن ڈے 2026 پر موسمیاتی محفوظ شہروں کی ضرورت اجاگر
بلوچستان کے پالیسی مکالمے میں آئی ڈی ایس پی کا کلیدی کردار
معاہدے کے تحت ایس ڈی پی آئی اور آئی ڈی ایس پی باہمی رضامندی اور دستیاب وسائل کی بنیاد پر تربیتی مراکز، ورکشاپس اور علمی تقریبات کی سہولیات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں گے۔
شراکت داری کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بلوچستان سے متعلق پالیسی مکالمے اور وکالت کی سرگرمیوں کے لیے آئی ڈی ایس پی کو ایس ڈی پی آئی کا بنیادی ادارہ جاتی شراکت دار قرار دیا گیا ہے۔
آئی ڈی ایس پی بلوچستان کی نمائندگی پالیسی فورمز، ترقیاتی منصوبہ بندی، موسمیاتی موافقت کی حکمت عملیوں اور حکومتی مشاورتی عمل میں کرے گا۔
دونوں ادارے مشترکہ طور پر پالیسی بریفز، موقفی دستاویزات اور شواہد پر مبنی سفارشات بھی تیار کریں گے تاکہ بلوچستان اور پاکستان میں پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات کو فروغ دیا جا سکے۔
مفاہمتی یادداشت میں ادارہ جاتی لوگوز کے استعمال، تشہیری سرگرمیوں، مالی امور اور مستقبل میں ممکنہ ترامیم سے متعلق اصول بھی طے کیے گئے ہیں۔
اس کا مقصد تمام مشترکہ سرگرمیوں کو باہمی اتفاقِ رائے سے انجام دینا اور ہر ادارے کے کردار اور خدمات کا مناسب اعتراف یقینی بنانا ہے۔
