پاکستان انرجی سیکیورٹی چارٹر، صاف، مقامی اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، بیٹری اسٹوریج، الیکٹرک ٹرانسپورٹ اور توانائی خودمختاری پر زور
فروزاں رپورٹ
پاکستان اس وقت ایسے توانائی بحران کا سامنا کر رہا ہے جو صرف بجلی کی کمی یا مہنگے بلوں تک محدود نہیں بلکہ معیشت، عوامی زندگی، ماحولیاتی تحفظ اور قومی خودمختاری سے بھی جڑا ہوا ہے۔
کئی دہائیوں سے ملک نے اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی فوسل فیولز، یعنی تیل، گیس اور کوئلے پر انحصار کیا۔
اس کے نتیجے میں جب بھی عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں بڑھیں یا کسی خطے میں جنگ اور کشیدگی پیدا ہوئی، پاکستان کی معیشت فوری دباؤ کا شکار ہوئی۔ زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوئے، بجلی اور ٹرانسپورٹ مہنگی ہوئی اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ گیا۔

توانائی سلامتی کا نیا تصور
اسی تناظر میں پاکستان کا انرجی سیکیورٹی چارٹر ایک اہم اور بروقت مطالبہ سامنے لاتا ہے۔ چارٹر کے مطابق پاکستان کی حقیقی توانائی سلامتی درآمدی ایندھن میں نہیں بلکہ مقامی، صاف، سستی اور قابلِ تجدید توانائی میں پوشیدہ ہے۔
چارٹر کے مطابق سولر، ونڈ، بیٹری اسٹوریج، الیکٹرک ٹرانسپورٹ، مائیکرو گرڈز اور کمیونٹی کی ملکیت والے توانائی نظام ملک کو اس پرانے اور مہنگے ماڈل سے نکال سکتے ہیں جس کے تحت ہر سال اربوں ڈالر ایندھن کی درآمد پر خرچ کیے جاتے ہیں۔
قابلِ تجدید توانائی کو قومی ترجیح بنانے کا مطالبہ
چارٹر کا سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان فوری طور پر قابلِ تجدید توانائی اور بیٹری اسٹوریج کو قومی ترجیح قرار دے۔
گزشتہ چند برسوں میں سولر توانائی نے ثابت کیا ہے کہ شہری، کسان، دکاندار اور چھوٹے کاروبار اپنی مدد آپ کے تحت توانائی بحران کا حل نکال سکتے ہیں۔ گھروں، دکانوں، فیکٹریوں اور کھیتوں میں سولر کے بڑھتے استعمال نے مہنگی بجلی اور ڈیزل پر انحصار کم کیا ہے۔
چارٹر کے مطابق سولر پر ٹیکس عائد کرنا یا نیٹ میٹرنگ جیسے نظام کو کمزور کرنا عوامی توانائی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ بننے کے مترادف ہے۔
اسی لیے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سولر پر عائد ٹیکس ختم کیے جائیں اور سابقہ نیٹ میٹرنگ نظام بحال کیا جائے تاکہ صارفین اضافی بجلی منصفانہ نرخوں پر قومی گرڈ کو فراہم کر سکیں۔
بیٹری اسٹوریج اور مقامی صنعت پر زور
چارٹر میں بیٹری اسٹوریج کو بھی توانائی منتقلی کا بنیادی جزو قرار دیا گیا ہے۔ سولر اور ونڈ توانائی کی مکمل افادیت اس وقت ممکن ہے جب ان کے ساتھ مؤثر اسٹوریج نظام موجود ہو۔
اس مقصد کے لیے نیشنل بیٹری اینڈ انرجی اسٹوریج ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے تحت بیٹری اسٹوریج سسٹمز، متعلقہ آلات اور ٹیکنالوجی پر ٹیکس اور ڈیوٹیز ختم کرنے، بڑے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کے ساتھ اسٹوریج لازمی قرار دینے اور مقامی بیٹری مینوفیکچرنگ کے فروغ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
چارٹر کے مطابق اس اقدام سے قومی گرڈ زیادہ مستحکم ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
فوسل فیول منصوبوں پر نظرثانی کی تجویز
چارٹر نئے فوسل فیول منصوبوں اور بڑے ہائیڈرو پاور منصوبوں کی توسیع روکنے کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پہلے ہی ایسے بجلی گھروں کے مالی بوجھ تلے دبا ہوا ہے جو کم چلتے ہیں لیکن کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں عوام سے بھاری رقوم وصول کرتے ہیں۔
چارٹر پرانے اور مہنگے فوسل فیول معاہدوں پر نظرثانی، غیر منصفانہ ڈالر بیسڈ شرائط کے خاتمے اور درآمدی کوئلے، آر ایل این جی اور دیگر فوسل منصوبوں سے بتدریج نکلنے کی حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیتا ہے۔
الیکٹرک ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کی سفارش
چارٹر کے مطابق پاکستان میں لاکھوں موٹر سائیکلیں، رکشے، بسیں اور گاڑیاں درآمدی پیٹرول اور ڈیزل استعمال کرتی ہیں، جس سے درآمدی بل میں اضافہ اور فضائی آلودگی میں شدت پیدا ہوتی ہے۔
اسی لیے الیکٹرک گاڑیوں، بالخصوص الیکٹرک موٹر سائیکلوں، رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس مقصد کے لیے مقامی ای وی مینوفیکچرنگ، چارجنگ اسٹیشنز، آسان فنانسنگ اور واضح پالیسی فریم ورک کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
چارٹر تجویز دیتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی قیادت میں ایک سنگل کلین انرجی فنانسنگ ونڈو قائم کی جائے، جو گھروں، کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور ڈویلپرز کو سولر، بیٹری اور ای وی کے لیے آسان قرضے فراہم کرے۔
پٹرولیم لیوی کا نصف حصہ صاف توانائی پر خرچ کرنے کا مطالبہ
چارٹر کے مطابق پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کا کم از کم 50 فیصد حصہ صاف توانائی اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ پر خرچ کیا جانا چاہیے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ اگر عوام سے ایندھن پر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے تو اس رقم کو پبلک ٹرانسپورٹ، ای وی چارجنگ انفراسٹرکچر اور گاڑیوں کی الیکٹریفکیشن پر صرف کیا جانا چاہیے تاکہ آلودگی میں کمی آئے، درآمدی ایندھن پر انحصار گھٹے اور شہریوں کو سستی سفری سہولیات میسر آئیں۔
کمیونٹی کی سطح پر توانائی کے حق کا اعتراف
چارٹر کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف بڑے منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ کمیونٹی کی سطح پر توانائی کے حق کو بھی تسلیم کرتا ہے۔
اس میں مائیکرو گرڈز، منی گرڈز، سولر بیٹری شیئرنگ اور کمیونٹی کی ملکیت والے توانائی منصوبوں کی حمایت کی گئی ہے، خاص طور پر ان علاقوں کے لیے جہاں بجلی کی فراہمی کمزور، مہنگی یا غیر یقینی ہے۔
چارٹر کم آمدنی والے گھرانوں، خواتین، کسانوں، ماہی گیروں اور مزدور طبقے کو سولر کٹس، بیٹریاں اور صاف توانائی کے آلات فراہم کرنے کی سفارش بھی کرتا ہے تاکہ توانائی منتقلی کے فوائد معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچ سکیں۔
منصفانہ توانائی منتقلی پر زور
چارٹر ایک منصفانہ توانائی منتقلی کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے مطابق توانائی سے متعلق تمام فیصلوں میں ماحول، مقامی آبادی، روزگار، صحت، زمین کے حقوق اور انسانی حقوق کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔
چارٹر کے مطابق کوئی بھی توانائی منصوبہ متاثرہ کمیونٹیز کی رضامندی، شفاف جائزوں اور سماجی و ماحولیاتی تحفظ کے بغیر آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی تبدیلی کو قومی منصوبہ بندی کا محور بنانے کی تجویز
کراچی کولنگ پلان: شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے عملی قدم
واضح پیغام
پاکستان کا انرجی سیکیورٹی چارٹر ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ ملک کو مہنگی، درآمدی اور آلودگی پھیلانے والی توانائی کے پرانے ماڈل سے باہر نکلنا ہوگا۔
چارٹر کے مطابق مستقبل سولر، ونڈ، بیٹری اسٹوریج، الیکٹرک ٹرانسپورٹ اور عوامی ملکیت والے توانائی نظام میں ہے۔
اگر حکومت ان سفارشات پر سنجیدگی سے عمل کرے تو پاکستان نہ صرف توانائی بحران پر قابو پا سکتا ہے بلکہ صاف، سستی، خودمختار اور منصفانہ توانائی مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔

