Environmental Reports Farozaan

موسمیاتی تبدیلی کو قومی منصوبہ بندی کا محور بنانے کی تجویز

Proposal to Make Climate Change a Central Pillar of National Planning

موسمیاتی تبدیلی پر پارلیمانی مشاورت، ماہرین اور ارکانِ پارلیمنٹ کا حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ

اسلام آباد:ماہرین، ارکانِ پارلیمنٹ اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ شخصیات نے حکومت پر زور دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو قومی اقتصادی منصوبہ بندی اور بجٹ سازی کے عمل کا بنیادی جزو بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی معیشت، غذائی تحفظ اور مالی استحکام کو موسمیاتی خطرات سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

یہ مطالبہ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اور ڈنمارک کے سفارت خانے کے اشتراک سے منعقدہ پارلیمانی مشاورت میں کیا گیا۔ مشاورت کا موضوع ’’پاکستان کی اقتصادی اور بجٹ سازی کی منصوبہ بندی میں موسمیاتی عوامل کو مرکزی دھارے میں لانا‘‘ تھا۔

اسی طرح وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کا بجٹ بھی گزشتہ چند برسوں میں 84 فیصد تک کم ہو چکا ہے۔

موسمیاتی شعبے کے فنڈز میں 70 فیصد کمی تشویشناک قرار

مشاورت میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں موسمیاتی شعبے کے لیے مختص فنڈز میں گزشتہ سال کے مقابلے تقریباً 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی طرح وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کا بجٹ بھی گزشتہ چند برسوں میں 84 فیصد تک کم ہو چکا ہے۔

مقررین نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات کے تناظر میں وسائل میں کمی مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطے کی ضرورت

ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ موسمیاتی تقاضوں کو وفاقی اور صوبائی مالیاتی بلوں میں نمایاں مقام دیا جانا چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان کا بجٹ فریم ورک آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) پروگراموں کے تحت تشکیل پا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے بچاؤ، پانی کے تحفظ اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے زیادہ وسائل مختص کیے جا رہے ہیں، تاہم وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کو اقتصادی اور سیاسی پالیسی کا حصہ بنانے پر زور

پاکستان میں ڈنمارک کی سفیر ماجا مورٹنسن نے کہا کہ موسمیاتی اور ماحولیاتی مسائل کو الگ تھلگ انداز میں نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ انہیں اقتصادی اور سیاسی پالیسی سازی کا مستقل حصہ بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلے کی نشاندہی ہو چکی ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے عملی پالیسیوں میں ڈھالا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے ڈنمارک کے تجربات اور تکنیکی تعاون کی پیشکش بھی کی۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل

پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں معمولی حصہ رکھنے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد تعمیرِ نو کے لیے عالمی برادری کے وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کاربن اور پٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام بھی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے

رکنِ قومی اسمبلی اسد عالم نیازی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے، تاہم اس کے معاشی اور سماجی اثرات کے حوالے سے عوامی آگاہی اب بھی ناکافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، غذائی قلت، بچوں میں نشوونما کی کمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے چیلنجز بھی موسمیاتی مزاحمت سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔

موسمیاتی مالی وسائل اور سفارت کاری کو مضبوط بنانے کی سفارش

ایس ڈی پی آئی کے انرجی یونٹ کے سربراہ انجینئر عبید الرحمٰن ضیا نے کہا کہ مالی اور اقتصادی منصوبہ بندی میں موسمیاتی پہلوؤں کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے عالمی شراکت داریوں سے فائدہ اٹھانے اور موسمیاتی مالی وسائل کے حصول کے لیے پاکستان کی موسمیاتی سفارت کاری کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

لازمی موسمیاتی رپورٹنگ اور مالی حفاظتی نظام کی تجویز

ایس ڈی پی آئی کی زینب نعیم نے موسمیاتی بجٹ سے متعلق نتائج پیش کرتے ہوئے موسمیاتی مالی حفاظتی ذخائر، موسمیاتی اثرات کی لازمی رپورٹنگ، پیشگی اقدامات کے لیے مالیاتی نظام اور سرکاری مالی وسائل میں موسمیاتی خطرات کے مؤثر انضمام کی سفارش کی۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی کولنگ پلان: شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے عملی قدم


سمندری نگرانی منصوبہ بچ گیا، ٹرمپ انتظامیہ پیچھے ہٹ گئی

موسمیاتی خطرات سے عالمی معیشت کو سالانہ 1.53 فیصد جی ڈی پی نقصان

ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا کو ہر سال عالمی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 1.53 فیصد کے برابر نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں