پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ ترقی کے پرانے ماڈل سے نکل کر پائیدار موسمیاتی شعور پر مبنی ترقی کی طرف بڑھے۔

حسان احمد (سی اے سی)
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پاکستان کے اہم ترین ترقیاتی منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے پہلے مرحلے میں زیادہ توجہ سڑکوں، بندرگاہوں، توانائی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے پر رہی۔ اب سی پیک 2.0 ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جس میں صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، روزگار، علاقائی رابطوں اور ماحولیات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
موسمیاتی نقطۂ نظر سے اس مرحلے کا سب سے اہم حصہ گرین کوریڈور ہے۔ اس کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی، برقی نقل و حمل، پانی کے تحفظ، موسمیاتی لچک اور موسمیاتی موافق زراعت جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی بات کی جا رہی ہے۔

پاکستان کو درپیش موسمیاتی چیلنجز
پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ غیر معمولی بارشیں، سیلاب، شدید گرمی، پانی کی قلت، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور ساحلی علاقوں میں سمندر کی سطح بلند ہونے جیسے خطرات ترقیاتی منصوبہ بندی کو براہِ راست متاثر کر رہے ہیں۔
ایسے حالات میں سی پیک 2.0 صرف ایک معاشی منصوبہ نہیں، بلکہ پاکستان کے لیے ایک بڑا موسمیاتی امتحان بھی ہے۔

توانائی میں سبز تبدیلی کی ضرورت
سی پیک کے پہلے مرحلے میں توانائی کے منصوبوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی، تاہم ان میں کوئلے پر مبنی منصوبوں کا کردار بھی نمایاں تھا۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کوئلے پر انحصار کم کرتے ہوئے سبز ترقی کی طرف بڑھے گا؟
اگر گرین کوریڈور پر سنجیدگی سے عمل کیا گیا تو شمسی توانائی، ہوا سے بجلی، بیٹری ذخیرہ کاری، بجلی کے ترسیلی نظام کی جدیدکاری، توانائی کی بچت اور مقامی قابلِ تجدید توانائی کو ترجیح دینا ہوگی۔
پاکستان نے 2030 تک 60 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کرنے اور 30 فیصد نئی گاڑیوں کو برقی گاڑیوں میں تبدیل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سی پیک 2.0 ان اہداف سے ہم آہنگ ہو۔
برقی نقل و حمل کی اہمیت
برقی نقل و حمل بھی سی پیک 2.0 کا اہم موسمیاتی پہلو ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں ٹرانسپورٹ فضائی آلودگی، ایندھن پر انحصار اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا بڑا ذریعہ ہے۔
اگر برقی نقل و حمل کو صرف نجی برقی گاڑیوں تک محدود رکھا گیا تو اس کے فوائد بھی محدود رہیں گے۔ حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب برقی بسیں، برقی رکشے، برقی موٹر سائیکلیں، ڈیلیوری رائیڈرز کے لیے سستے برقی ذرائع، چارجنگ اسٹیشنز اور بیٹری ری سائیکلنگ کے معیارات کو بھی منصوبہ بندی میں شامل کیا جائے۔
اس کے ساتھ برقی گاڑیوں کی چارجنگ کو قابلِ تجدید توانائی سے جوڑنا بھی ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر آلودگی صرف سڑکوں سے بجلی گھروں تک منتقل ہو جائے گی۔
پانی اور موسمیاتی خطرات
پانی اور موسمیاتی خطرات سی پیک 2.0 کے لیے نہایت اہم ہیں۔ پاکستان میں ایک طرف پانی کی کمی ہے، جبکہ دوسری جانب اچانک آنے والے سیلاب بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنتے ہیں۔
شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب شاہراہِ قراقرم اور دیگر اہم رابطہ سڑکوں کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
اسی لیے سڑکوں، پلوں، ریلوے لائنوں، سرنگوں اور نکاسیٔ آب کے نظام کو مستقبل کے موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کرنا ہوگا۔ ترقی کا مطلب صرف انفراسٹرکچر بنانا نہیں، بلکہ ایسا انفراسٹرکچر تعمیر کرنا ہے جو سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، شدید بارش اور گرمی کا مقابلہ کر سکے۔

گوادر کے لیے موسمیاتی منصوبہ بندی
گوادر سی پیک کا مرکزی مرکز ہے، لیکن موسمیاتی لحاظ سے یہ انتہائی حساس ساحلی شہر بھی ہے۔ اسے شدید بارشوں، ساحلی کٹاؤ، کھارے پانی کے داخلے، نکاسیٔ آب کے مسائل اور سمندر کی سطح بلند ہونے جیسے خطرات درپیش ہیں۔
اگر بندرگاہ، ہوائی اڈہ، ایکسپریس ویز اور صنعتی زونز تو تعمیر ہو جائیں، لیکن نکاسیٔ آب، پینے کے پانی، سیوریج، ساحلی تحفظ اور مقامی ماہی گیروں کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہ ترقی موسمیاتی دباؤ میں مزید اضافہ کرے گی۔
گوادر کے لیے موسمیاتی حساس منصوبہ بندی، قابلِ تجدید توانائی پر مبنی آبی نظام، بارشی پانی کی بہتر نکاسی، ساحلی حفاظتی پٹیاں اور ماہی گیروں کے روزگار کا تحفظ بنیادی ضروریات ہیں۔
زراعت میں موسمیاتی موافقت
زراعت بھی سی پیک 2.0 کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔ موسمیاتی موافق زراعت کے ذریعے ڈرپ آبپاشی، گرمی برداشت کرنے والے بیج، سیلاب سے متاثر نہ ہونے والی فصلیں، شمسی توانائی سے چلنے والے کولڈ اسٹوریج، زمین کے تحفظ اور خوراک کے ضیاع میں کمی جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم اگر جدید زراعت صرف تجارتی کاشتکاری یا زیادہ پیداوار تک محدود رہی تو پانی، زمین، حیاتیاتی تنوع اور چھوٹے کسانوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اس لیے ہر زرعی منصوبے کو پانی کے تحفظ، زیرِ زمین پانی کے بہتر استعمال اور مقامی کسانوں کے حقوق سے جوڑنا ضروری ہے۔
سبز صنعت کاری کا موقع
سی پیک 2.0 میں خصوصی اقتصادی زونز اور صنعتی ترقی کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ موسمیاتی اعتبار سے یہ ایک موقع بھی ہے اور ایک چیلنج بھی۔
اگر صنعتی زونز قابلِ تجدید توانائی، توانائی بچانے والی عمارتوں، صنعتی گندے پانی کی صفائی، فضائی معیار کی نگرانی، ٹھوس کچرے کے مؤثر انتظام، سرکلر اکانومی اور مزدوروں کے لیے گرمی سے تحفظ کے اصولوں کے مطابق قائم کیے جائیں تو یہ سبز صنعت کاری کی مثال بن سکتے ہیں۔
لیکن اگر اخراج، پانی کے استعمال، آلودگی اور مقامی آبادی پر اثرات کو نظر انداز کیا گیا تو یہی منصوبے مستقبل میں ماحولیاتی بوجھ بن جائیں گے۔
معدنیات اور صاف ٹیکنالوجی
معدنیات اور صاف ٹیکنالوجی کی سپلائی چین بھی اس بحث کا اہم حصہ ہیں۔ دنیا بھر میں شمسی پینلز، بیٹریوں، برقی گاڑیوں اور صاف توانائی کے نظاموں کے لیے مختلف معدنیات کی طلب بڑھ رہی ہے۔
یہ پاکستان کے لیے معاشی موقع ضرور ہے، لیکن کان کنی ہمیشہ ماحولیاتی خطرات بھی ساتھ لاتی ہے۔
اگر کان کنی کے دوران پانی کا بے دریغ استعمال، زمین کی خرابی، زہریلا فضلہ، حیاتیاتی تنوع کا نقصان یا مقامی آبادی کی بے دخلی ہوئی تو اسے سبز ترقی نہیں کہا جا سکتا۔
اس لیے ہر معدنیاتی منصوبے کے لیے سخت ماحولیاتی اثرات کا جائزہ، مقامی آبادی کی رضامندی، آلودگی پر قابو اور بحالی کے منصوبے لازمی ہونے چاہییں۔

کامیابی کا انحصار عمل درآمد پر
سی پیک 2.0 میں موسمیاتی اصطلاحات ضرور شامل ہیں، لیکن اصل فرق مؤثر عمل درآمد سے آئے گا۔
ہر بڑے منصوبے کے لیے موسمیاتی خطرات کا جائزہ، کاربن اخراج کی جانچ، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، عوامی مشاورت، آفات سے نمٹنے کی منصوبہ بندی اور طویل مدتی نگرانی ناگزیر ہے۔
توانائی کے منصوبے قابلِ تجدید ذرائع پر مبنی ہوں، سڑکیں اور ریلوے مستقبل کے موسمی خطرات کو مدنظر رکھ کر تعمیر کی جائیں، ساحلی منصوبوں میں سمندر کی سطح میں اضافے اور نکاسیٔ آب کو بنیادی اہمیت دی جائے، جبکہ صنعتی زونز کے لیے واضح ماحولیاتی معیارات مقرر کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں
شدید گرمی خاموش قاتل، ماہرین کا انتباہ
ترکیہ یومِ جمہوریت، انقرہ پارک میں 500 پودوں کی شجرکاری
موسمیاتی تبدیلی کا راز جاننے چین کی 16ویں آرکٹک مہم
نتیجہ
سی پیک 2.0 پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ ترقی کے روایتی ماڈل سے نکل کر موسمیاتی شعور پر مبنی ترقی کی طرف بڑھے۔ تاہم یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب گرین کوریڈور صرف ایک اصطلاح نہ رہے، بلکہ منصوبہ بندی، سرمایہ کاری، تعمیر، نگرانی اور جواب دہی کا بنیادی اصول بن جائے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ سی پیک 2.0 پاکستان میں کتنی نئی سڑکیں، بندرگاہیں یا صنعتیں قائم کرے گی، بلکہ یہ ہے کہ آیا یہ منصوبے پاکستان کو موسمیاتی بحران کے لیے زیادہ تیار بنائیں گے یا آنے والی نسلوں کے لیے نئے ماحولیاتی بوجھ پیدا کریں گے۔

