موسمیاتی خطرات سے بروقت نمٹنے کے لیے گلیشیئرز، سیٹلائٹ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیٹا خودکار شیئر ضروری ہے، مصدق ملک
فرحین العاص (اسلام آباد)

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی خطرات سے بروقت نمٹنے کے لیے قومی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور ڈیٹا شیئرنگ ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلیشیئرز کی نگرانی، موسمیاتی ڈیٹا، ارلی وارننگ سسٹم، سیٹلائٹ معلومات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق اداروں کے درمیان مربوط نظام قائم ہونا چاہیے۔
یہ بات انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے اجلاس میں کہی۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر شیری رحمان نے کی۔

قومی اداروں کے درمیان خودکار ڈیٹا شیئرنگ کا نظام
ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ایک مربوط نظام کے تحت لانے کے لیے وزیر دفاع کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ہے۔
ان کے مطابق حکومت ایسے نظام پر کام کر رہی ہے جس کے تحت متعلقہ ادارے ایک دوسرے سے ڈیٹا طلب کرنے کے بجائے قانوناً اور خودکار انداز میں معلومات شیئر کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف اداروں کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے کے لیے ایک ورچوئل پلیٹ فارم بھی قائم کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق گلیشیئرز اور پانی کے نظام سے متعلق امور وزارت آبی وسائل کے پاس ہیں، جبکہ گلیشیئر پگھلنے اور برف باری کی نگرانی کے آلات واپڈا کے پاس ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ارلی وارننگ سسٹم وزارت دفاع، سیٹلائٹ ڈیٹا سپارکو، جبکہ قدرتی آفات سے متعلق امور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، یعنی این ڈی ایم اے کے پاس ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ان تمام اداروں کے ڈیٹا اور نظام کو مربوط کرنے سے موسمیاتی خطرات کے حوالے سے ملک کو بروقت اور جامع معلومات دستیاب ہو سکیں گی۔
موسمیاتی امور کے لیے نئی اتھارٹی پر کام جاری
ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ موسم سے متعلق سول معاملات کے لیے ایک نئی اتھارٹی کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اتھارٹی وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے تھنک ٹینک کے طور پر بھی کردار ادا کرے گی۔
ان کے مطابق اس حوالے سے تجاویز جلد حتمی شکل دے کر وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
گلیشیئرز اور سیلاب مختلف مظاہر ہیں
گلیشیئرز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ گلیشیئر اور سیلاب دو مختلف مظاہر ہیں اور دونوں سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملی درکار ہے۔
ان کے مطابق ڈیم سیلاب کے پانی کو روک سکتے ہیں، لیکن گلیشیئرز کو نہیں روکا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ گلیشیئر سے متعلق تباہی صرف پانی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ زمین اور پہاڑی ڈھانچے کی حرکت بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
حکومت گلیشیئرز اور موسمیاتی خطرات کی نگرانی اور پیش گوئی بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹوئننگ کے نظام پر بھی کام کر رہی ہے۔
ملک میں 115 خطرناک گلیشیائی جھیلیں موجود
اجلاس کو حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ملک میں 115 خطرناک گلیشیائی جھیلیں موجود ہیں۔ ان میں سے 105 جھیلیں 5 اگست تک اَن فریز ہو چکی تھیں۔
حکام کے مطابق پاکستان میں گلیشیئر پگھلنے کی شرح سے متعلق مکمل ڈیٹا دستیاب نہیں، کیونکہ اس نوعیت کا ڈیٹا حاصل کرنا ایک مہنگا عمل ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ 1990 کی دہائی میں قراقرم ہائی وے کے علاقے میں گلیشیئر ایریا لاس 3.2 فیصد تھا، جو 2010 سے 2020 کے دوران بڑھ کر 4.9 فیصد ہو گیا۔
حکام کے مطابق 1990 سے 2020 کے دوران قراقرم کے گلیشیئرز میں تقریباً 12 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ جہاں زمینی ذرائع سے ڈیٹا دستیاب نہیں ہوتا، وہاں سیٹلائٹ کے ذریعے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر ڈیٹا کی فراہمی کے لیے ٹاورز بھی نصب کیے گئے ہیں۔
گرین پاکستان پروگرام اور جنگلات کا معاملہ بھی زیر بحث
اجلاس میں گرین پاکستان پروگرام اور ملک میں جنگلات کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گرین پاکستان پروگرام میں وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کا بنیادی کردار سہولت کاری ہے۔
اس موقع پر سینیٹر شیری رحمان نے جنگلات کی کٹائی اور مبینہ ٹمبر اسمگلنگ پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے خیبر پختونخوا میں مبینہ ٹمبر مافیا کی سرگرمیوں اور غیر قانونی نقل و حمل کا معاملہ بھی اٹھایا۔
سینیٹر شیری رحمان نے گزشتہ 15 برس کے دوران ٹمبر سے متعلق سرگرمیوں کا آڈٹ کرانے کی تجویز بھی دی۔
حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ، پنجاب اور آزاد کشمیر میں فارسٹ کور میں اضافہ ہوا ہے۔
حکام کے مطابق مزید رقبہ دستیاب ہونے کی صورت میں جنگلات کا رقبہ مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
آئرلینڈ کو بدلتی آب و ہوا کے لیے منظم تیاری کی ضرورت
ڈونگ نائی: ہزاروں جنگلی جانوروں کی جنگل میں واپسی
کتب پر پلاسٹک کور کا معاملہ
اجلاس میں کتب پر پلاسٹک کور کے استعمال کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
سینیٹر شیری رحمان نے اسلام آباد کے بک اسٹورز میں پلاسٹک کور والی کتابوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے بائیوڈی گریڈیبل پلاسٹک کے عملی استعمال اور اس کی بائیوڈی گریڈنگ کے نظام سے متعلق سوالات بھی اٹھائے۔
سینیٹر شیری رحمان نے تجویز دی کہ اسکولوں اور جامعات میں کتابوں کے لیے پلاسٹک کے بجائے براؤن پیپر کے کور استعمال کیے جائیں۔
اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز، جنگلات، ماحولیاتی تحفظ، ڈیٹا شیئرنگ اور ارلی وارننگ سسٹم سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

