ڈونگ نائی وائلڈ لائف سینٹر میں زخمی اور بازیاب جانوروں کی بحالی، صحت یاب جانور دوبارہ قدرتی ماحول میں چھوڑے جا رہے ہیں۔
فروزاں رپورٹ
ڈونگ نائی :ویتنام کے بُو جیا مَپ نیشنل پارک کے تحت قائم سیاحتی فروغ، ریسکیو اور تحفظ مرکز جنگلی حیات کے ہزاروں جانوروں کے علاج، بحالی اور انہیں دوبارہ قدرتی ماحول میں چھوڑنے کا اہم مرکز بن گیا ہے۔
مرکز میں نیم جنگلی باڑوں کے اندر مختلف اقسام کے جانوروں کی نگرانی اور علاج کیا جاتا ہے۔ عملہ جانوروں کی جسمانی حالت بہتر بنانے کے ساتھ انہیں جنگل میں زندہ رہنے کے لیے بھی تیار کرتا ہے۔
یہاں پہنچنے والے جانوروں کی صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ کچھ شکاری پھندوں میں پھنس کر زخمی ہوئے، جبکہ بعض کو غیر قانونی قید اور افزائش کے مراکز سے بازیاب کرایا گیا۔
کئی جانور طویل عرصے تک قید میں رہنے کے باعث اپنی قدرتی بقا کی صلاحیتیں کھو چکے ہیں۔ وائلڈ لائف ریسکیو کارکنوں کے مطابق صرف زخموں کا علاج کافی نہیں ہوتا۔
مکمل بحالی کے لیے جانوروں کی جسمانی صحت بہتر بنانے کے ساتھ انہیں خوراک تلاش کرنے، آزادانہ نقل و حرکت اور قدرتی ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی دوبارہ تربیت بھی دی جاتی ہے۔

نایاب جانوروں کا تحفظ
پارک کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہوانگ انہ توان کے مطابق نایاب، قیمتی اور معدومیت کے خطرے سے دوچار جنگلی جانوروں کا تحفظ پارک کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر جنگلی جانور کو کامیابی سے بچانا صرف ایک جان بچانے تک محدود نہیں۔ اس سے جنگلی حیات کی آبادی برقرار رکھنے، قیمتی جینیاتی وسائل کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
88 جانوروں کی ریسکیو اور بحالی
مرکز کے ڈپٹی ڈائریکٹر تران وان ترونگ کے مطابق حالیہ عرصے میں مقامی شہریوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر جنگلی جانور رکھنے کے بجائے انہیں رضاکارانہ طور پر حکام کے حوالے کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق رواں سال مرکز نے 60 ریسکیو کارروائیوں کے دوران 70 سے زائد جانوروں کو تحویل میں لیا، جبکہ 7 کارروائیوں میں 20 سے زائد جانوروں کو دوبارہ جنگل میں چھوڑا گیا۔
صرف 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران مرکز میں 88 جانوروں کو ریسکیو اور بحالی کے لیے لایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی بحران، خطرے کی گھنٹی بج گئی، اقوام متحدہ کے سربراہ کی وارننگ
بنکاک میں سیلاب کا ریڈ الرٹ، 50 اضلاع متاثر
رضاکاروں اور طلبہ کا کردار
مرکز کو مختلف علاقوں سے رضاکاروں، طلبہ اور خاندانوں کی بھی معاونت حاصل ہے۔ تران وان ترونگ کے مطابق ان کی شرکت سے مرکز کو اضافی افرادی قوت ملتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں جنگلی حیات کے تحفظ اور قدرتی ماحول کی اہمیت کے بارے میں شعور بھی فروغ پاتا ہے۔

