موسمیاتی تبدیلی کی شدت میں مسلسل اضافہ، 16 میں سے 7 اہم اشاریے ریکارڈ سطح پر، شدید موسمی واقعات سے نئے خطرات
فروزاں رپورٹ
موسمیاتی تبدیلی کی رفتار میں تیزی آرہی ہے اور زمین کا درجہ حرارت اس رفتار سے بڑھ رہا ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے انسانوں کے پاس وقت اور وسائل کم پڑ رہے ہیں۔ جریدے بایو سائنس میں 14 اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، زمین کا موسمیاتی نظام مسلسل ایسے حالات کی جانب بڑھ رہا ہے جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
اسٹیٹ آف دی کلائمیٹ کے نام سے شائع ہونے والی سالانہ رپورٹ میں زمین کی صحت سے متعلق اہم اشاریوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان میں گرین ہاؤس گیسوں کی فضا میں مقدار، درجہ حرارت میں تبدیلی اور جنگلات میں آتش زدگی کے باعث درختوں کے رقبے میں کمی سمیت متعدد عوامل شامل ہیں۔ محققین کے مطابق، زمین کے 16 اہم ماحولیاتی اشاریوں میں سے 7 اس وقت ریکارڈ کی گئی انتہائی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ ان میں سمندر کی سطح میں اضافہ اور فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی بلند ترین مقدار بھی شامل ہے۔
دوسری جانب جنگلات میں آتش زدگی سے متاثرہ رقبے اور سمندروں میں حرارت کی مقدار سمیت کئی دیگر اشاریے بھی تیزی سے بگڑتے حالات یا اچانک تبدیلیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

عالمی حدت میں تیزی، 2050 سے پہلے خطرناک حد عبور ہونے کا خدشہ
محققین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی حدت کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، 1880 سے 1970 کے دوران زمین کا درجہ حرارت ہر دہائی میں اوسطاً 0.05 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ رہا تھا، جبکہ 2010 سے 2024 کے دوران یہ رفتار بڑھ کر تقریباً 0.36 ڈگری سینٹی گریڈ فی دہائی ہوگئی۔
سائنس دانوں کے مطابق، اگر یہی رجحان جاری رہا تو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کی حد 2050 سے پہلے عبور ہوسکتی ہے۔ اس حد کا مقصد زمین اور اس کے قدرتی نظاموں کو شدید نقصان سے بچانا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کی بڑھتی ہوئی رفتار سے ایسے قدرتی عمل بھی تیز ہوسکتے ہیں جو خود مزید حدت پیدا کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زمین کے نظام میں اہم موڑ، یعنی ایسے نازک مراحل، آسکتے ہیں جنہیں عبور کرنے کے بعد ماحولیاتی تبدیلیاں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں اور انہیں واپس پلٹنا اکثر ناممکن ہوجاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 2025 میں زمین اپنے پہلے موسمیاتی نازک موڑ سے گزر چکی ہے۔ سمندری درجہ حرارت میں اضافہ، تیزابیت، حد سے زیادہ ماہی گیری اور آلودگی مل کر مرجانی چٹانوں کی رنگت ختم ہونے اور ان کی بڑے پیمانے پر ہلاکت کا سبب بن رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زمین کے زندگی کو سہارا دینے والے نظام اپنی مستحکم حدود سے آگے دھکیلے جا رہے ہیں اور تبدیلیاں ہماری ردعمل کی صلاحیت سے کہیں زیادہ تیزی سے رونما ہورہی ہیں۔

شدید موسمی واقعات، خطرات میں مسلسل اضافہ
رواں سال کئی شدید موسمی واقعات نے تیزی سے گرم ہوتی زمین کے اثرات کو نمایاں کردیا۔ جولائی 2026 میں امریکا کے ملحقہ 48 ریاستوں میں درجہ حرارت ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اسی ماہ سمندروں کا درجہ حرارت بھی نئی ریکارڈ سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔
یورپ میں مسلسل آنے والی دو شدید گرمی کی لہروں کے باعث اندازاً 35 ہزار اضافی اموات ہوئیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، یہ اموات معمول کی متوقع شرح سے زیادہ تھیں۔
امریکا کی ریاست یوٹاہ، کینیڈا کے صوبے اونٹاریو، فرانس، اسپین، برطانیہ اور بیلجیئم سمیت کئی علاقوں میں یا تو تاریخ کے بدترین جنگلاتی آتش زدگی کے موسم دیکھے گئے یا وہاں ایسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگرچہ انفرادی موسمی واقعات کو براہ راست موسمیاتی تبدیلی سے جوڑنے کے لیے ابھی مزید تحقیق درکار ہے، تاہم سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ عالمی حدت شدید موسمی واقعات کی شدت میں اضافہ کر رہی ہے۔

گرین ہاؤس گیسیں ریکارڈ سطح پر، فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں اضافہ
محققین کے مطابق، 2026 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ سمیت گرین ہاؤس گیسوں کی فضا میں مقدار ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔
مئی 2026 میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار 428 پارٹس فی ملین سے تجاوز کرگئی، جو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔ یہ مقدار عمومی طور پر گزشتہ 20 لاکھ سال کے دوران دیکھی جانے والی سطحوں سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مصنفین نے ان انسانی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا جو زمین کے قدرتی نظاموں میں تبدیلیوں کی بنیادی وجہ ہیں۔ ان سرگرمیوں میں توانائی کا استعمال، خوراک کی پیداوار اور معاشی ترقی شامل ہیں۔
محققین کے مطابق، کوئلے، تیل اور گیس جیسے فوسل ایندھن کا استعمال موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا محرک برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں فوسل ایندھن کی کھپت میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا اور تیل، کوئلے اور گیس کا استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔
اسی دوران توانائی کے استعمال سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سالانہ مقدار پہلی بار 41 ارب ٹن سے تجاوز کرگئی۔ یہ مقدار ایک سال کے دوران کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے 10 ہزار 800 سے زائد بجلی گھروں کے اخراج کے برابر ہے۔
یہ بھی پڑھیں
24 کروڑ سال پرانا سمندری دیو، چین میں خوفناک انکشاف
کالے بچھوؤں کا کاروبار، 24 ارب روپے غائب!
قابل تجدید توانائی میں اضافہ، لیکن اقدامات ناکافی
رپورٹ میں کچھ مثبت پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ 2025 میں کم کاربن اخراج والے ذرائع سے دنیا کی تقریباً 43 فیصد بجلی پیدا کی گئی، جبکہ شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی کے استعمال میں تقریباً 18 فیصد اضافہ ہوا۔
تاہم، ایران میں جنگ نے دنیا کے فوسل ایندھن پر انحصار کو نمایاں کردیا اور اس کے نتیجے میں صاف توانائی کی جانب منتقلی میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی۔
رپورٹ کے مطابق، صرف کاربن کے اخراج میں کمی اب کافی نہیں ہوگی۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے موافقت کے اقدامات بھی ضروری ہیں۔
ان اقدامات میں خوراک کے لیے پودوں پر مبنی غذا کے استعمال کو فروغ دینا اور طوفانی لہروں سے ساحلی علاقوں کو بہتر تحفظ فراہم کرنے کے لیے مینگرووز کے جنگلات کی بحالی شامل ہے۔ ایسے اقدامات بدلتے ہوئے موسمی حالات کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
رپورٹ زمین کے مستقبل سے متعلق ایک تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کے مطابق، دنیا زمین کے موسمیاتی نظام کو تیزی سے غیر مستحکم ہوتے دیکھ رہی ہے۔ یہ اب مستقبل کے کسی ممکنہ خطرے سے متعلق انتباہ نہیں، بلکہ موجودہ صورت حال کی واضح تشخیص ہے۔

