فرحین العاص، بیورو چیف اسلام آباد
اسلام آباد: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا سب سے بڑا ترقیاتی چیلنج بن چکی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک کو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، جدید مالیاتی ذرائع، مؤثر پیشگی انتباہی نظام، مضبوط ادارہ جاتی شراکت داری اور نجی شعبے کی فعال شمولیت کو یقینی بنانا ہوگا۔
یہ خیالات عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام منعقدہ ویبینار میں مقررین نے اظہار کیے۔
شرکاء نے اتفاق کیا کہ موسمیاتی لچک پذیری کو قومی ترقیاتی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنایا جائے اور موسمیاتی اقدامات کو قومی منصوبہ بندی اور بجٹ سازی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ موسمیاتی موافقت صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ ایک اہم معاشی سرمایہ کاری بھی ہے۔
ان کے مطابق موسمیاتی لچک پذیری روزگار، بنیادی ڈھانچے اور مستقبل کی اقتصادی ترقی کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ قومی پالیسیوں، بجٹ ترجیحات اور مقامی سطح پر عمل درآمد کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے بغیر موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنا ممکن نہیں۔
ویبینار کے آغاز میں ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (پالیسی) ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے معاشی استحکام، غذائی تحفظ، آبی وسائل، صحتِ عامہ اور روزگار کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بار بار آنے والے سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی کی لہروں اور گلیشیائی خطرات کے پیشِ نظر پاکستان کو ردِعمل پر مبنی طرزِ عمل ترک کرکے پیشگی تیاری اور خطرات کو مدنظر رکھنے والی ترقیاتی منصوبہ بندی اختیار کرنا ہوگی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی اور پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سید ابرار حسین نے ماحولیاتی انتظام میں سرکاری و نجی شراکت داری کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ ضبط شدہ سنگل یوز پلاسٹک کو بینچوں، گملوں اور کوڑا دانوں جیسی کارآمد اشیاء میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی اور موسمیاتی پالیسیوں کے ثمرات مقامی اور دیہی سطح تک پہنچنا ضروری ہیں تاکہ عوام براہِ راست ان سے مستفید ہو سکیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ریسرچ مینیجر ڈاکٹر محمد عثمان نے کہا کہ حالیہ موسمیاتی آفات نے پیشگی اقدامات اور ابتدائی انتباہی نظام کی اہمیت مزید واضح کر دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ این ڈی ایم اے نے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کو مزید مضبوط بنایا ہے تاکہ سیلاب، گرمی کی لہروں، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ سمیت مختلف خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
کلائمیٹ ریسورسنگ کوآرڈی نیشن سینٹر کے ٹیکنیکل ٹیم لیڈ سہیل مقبول ملک نے کہا کہ پاکستان کو اپنے موسمیاتی وعدوں کو ایسے منصوبوں میں تبدیل کرنا ہوگا جو سرمایہ کاری اور مالی معاونت حاصل کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر موسمیاتی مالیات میں اضافے کے وعدوں کے باوجود پاکستان کو اپنی ضروریات کے مطابق وسائل دستیاب نہیں ہو رہے، جس کے باعث موسمیاتی اقدامات کے لیے مالیاتی خلا برقرار ہے۔
کلائمیٹ ولنریبل فورم اور وی 20 فنانس منسٹرز کی پاکستان پروگرام لیڈ انعم رٹھور نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کے لیے موسمیاتی انصاف اور عالمی مالیاتی وسائل تک آسان رسائی ناگزیر ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی نقصانات کے ازالے اور موافقتی اقدامات کے لیے زیادہ مؤثر عالمی تعاون فراہم کیا جانا چاہیے۔
جاز میں ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ای ایس جی گورننس کی سربراہ ڈاکٹر مہوش رمضان نے کہا کہ نجی شعبہ پائیداری، سبز جدت اور موسمیاتی موافق کاروباری طریقوں کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق ای ایس جی اصولوں پر مبنی طرزِ حکمرانی اور نجی سرمایہ کاری پاکستان کو ایک لچکدار اور کم کاربن معیشت کی جانب تیزی سے لے جا سکتی ہے۔
ویبینار میں موسمیاتی ماہرین، پالیسی سازوں، محققین، ترقیاتی اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں پائیدار ترقی اور موسمیاتی خطرات سے مؤثر نمٹنے کے لیے موسمیاتی لچک پذیری کو قومی ترقیاتی ایجنڈے کا بنیادی حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات…
نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…
برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…
موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…
ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…
آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…
This website uses cookies.