فرحین العاص ( بیورو چیف اسلام آباد)
اسلام آباد: پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک ای پی اے) نے عالمی یومِ ماحولیات 2026ء کے سلسلے میں راول جھیل پر منعقدہ صفائی مہم کے دوران بڑی مقدار میں پلاسٹک کچرے، استعمال شدہ سرنجوں اور اسپتال کے خطرناک فضلے کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے، جسے ماہرین نے ماحولیات، آبی حیات اور عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
صفائی مہم پاک ای پی اے، نیسلے پاکستان اور محکمہ سمال ڈیمز پنجاب کے اشتراک سے منعقد کی گئی، جس میں طلبہ، سول سوسائٹی، مقامی کمیونٹی اور نجی شعبے کے رضاکاروں نے بھرپور شرکت کی۔
شرکاء نے راول جھیل کے کناروں اور اطراف سے بڑی مقدار میں ٹھوس فضلہ جمع کیا اور آلودگی کے بڑھتے ہوئے مسئلے کی نشاندہی کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پاک ای پی اے نے کہا کہ راول جھیل میں اسپتال کے فضلے، استعمال شدہ سرنجوں اور پلاسٹک کچرے کی موجودگی انتہائی تشویشناک ہے۔
ان کے مطابق یہ آلودگی نہ صرف قدرتی وسائل بلکہ آبی حیات اور انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماحول دوست طرزِ زندگی اختیار کریں اور صفائی و تحفظِ ماحول کی سرگرمیوں میں مستقل بنیادوں پر حصہ لیں تاکہ قدرتی وسائل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
اس موقع پر پاک ای پی اے کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے کہا کہ قدرت نے انسان کو صاف ہوا، صاف پانی اور زرخیز مٹی جیسی قیمتی نعمتیں عطا کی ہیں، لیکن انسانی سرگرمیوں کے باعث یہ وسائل شدید آلودگی کا شکار ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اخراج، بھٹہ خشت اور کھلے عام کچرا جلانے سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ صنعتی فضلے اور غیر ٹریٹ شدہ سیوریج کے اخراج سے آبی وسائل بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
محمد سلیم شیخ کے مطابق آنے والی نسلوں کو صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ راول جھیل جیسے اہم آبی ذخائر کا تحفظ نہ صرف ماحولیاتی توازن بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں
فجی نے موسمیاتی میدان میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا؟
سوالبارڈ سیڈ والٹ: دنیا کا بیک اپ پلان
یہ صفائی مہم عالمی یومِ ماحولیات 2026 کے موضوع “قدرت سے تحریک، موسمیاتی تحفظ اور ہمارے مستقبل کے لیے” کے تحت منعقد کی گئی، جس کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، آلودگی میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ راول جھیل جیسے اہم آبی ذخائر میں طبی اور پلاسٹک فضلے کی موجودگی فوری توجہ کی متقاضی ہے، اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر نگرانی، سخت قوانین اور عوامی تعاون ناگزیر ہیں۔
ہیٹ ویو الرٹس کے باوجود مؤثر حکمتِ عملی کا فقدان، ماہرین نے فوری عوامی آگاہی…
عالمی یومِ بحر 2026: پلاسٹک آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور سمندری حیات کو لاحق خطرات پر…
کراچی میں خطرناک ہیٹ ویو کا خدشہ، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان، محکمہ موسمیات جلد…
ماہرین نے موسمیاتی لچک پذیری کو قومی منصوبہ بندی اور بجٹ کا حصہ بنانے، جبکہ…
لاڑکانہ میں ماحولیات کانفرنس، ماہرین کا موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر…
ایس ڈی پی آئی اور آئی ڈی ایس پی کے درمیان اہم شراکت داری، بلوچستان…
This website uses cookies.