فروزاں رپورٹ
شدید گرمی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر شہری منصوبہ بندی میں مناسب تبدیلیاں کی جائیں تو شہروں کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق درج ذیل 10 اقدامات اس سلسلے میں انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
سڑکوں، پارکوں، تعلیمی اداروں اور رہائشی علاقوں میں مقامی اقسام کے درخت لگائے جائیں۔ درخت سایہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ فضا کو قدرتی طور پر ٹھنڈا بھی کرتے ہیں۔
بڑے شہروں میں مخصوص علاقوں کو شہری جنگلات میں تبدیل کیا جائے تاکہ گرمی جذب کرنے والی کنکریٹ کی سطح کم ہو اور سبزہ بڑھ سکے۔
عمارتوں کی چھتوں کو سفید یا ہلکے رنگوں سے رنگا جائے تاکہ سورج کی شعاعیں واپس منعکس ہوں اور عمارتیں کم گرم ہوں۔
عمارتوں کی چھتوں اور دیواروں پر پودے لگانے سے نہ صرف درجہ حرارت کم ہوتا ہے بلکہ فضائی آلودگی میں بھی کمی آتی ہے۔
شہروں میں فٹ پاتھوں، بس اسٹاپس اور عوامی مقامات پر سایہ دار ڈھانچے اور درخت لگائے جائیں تاکہ شہری شدید دھوپ سے محفوظ رہ سکیں۔
ہر نئے رہائشی منصوبے میں مناسب سبز علاقوں اور پارکوں کے لیے جگہ مختص کی جائے تاکہ شہری علاقوں میں قدرتی ٹھنڈک برقرار رہے۔
جھیلوں، تالابوں، نہروں اور آبی گزرگاہوں کا تحفظ شہری درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
نئی عمارتوں کو اس انداز سے ڈیزائن کیا جائے کہ قدرتی ہوا اور روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال ممکن ہو اور توانائی کی ضرورت کم پڑے۔
بلدیاتی ادارے شدید گرمی کے دوران کولنگ سینٹرز قائم کریں، ابتدائی وارننگ سسٹم متعارف کرائیں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کریں۔
شہریوں کو گرمی سے بچاؤ، پانی کے مؤثر استعمال، درخت لگانے اور توانائی کی بچت کے بارے میں مسلسل آگاہ کیا جائے تاکہ پورا شہر موسمیاتی موافقت کے عمل میں شریک ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی بحران کے خلاف عالمی اتحاد
ورلڈ اربن فورم 2026 اور محفوظ، پائیدار شہروں کا عالمی خواب
ماہرین کے مطابق شدید گرمی کے خلاف جنگ صرف ایئرکنڈیشنرز سے نہیں جیتی جا سکتی۔
ان کے نزدیک سرسبز، منصوبہ بند اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ شہر ہی مستقبل میں انسانی صحت اور بہتر معیارِ زندگی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومتیں، بلدیاتی ادارے اور شہری مل کر ان اقدامات پر عمل کریں تو واقعی “شہر گرمی کو شکست دے سکتے ہیں”۔
نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…
برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…
موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…
ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…
آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…
موسمیاتی تباہیاں بڑھ گئیں، کاپ 31 سے پہلے عملی اقدامات اور مالی معاونت پر زور،…
This website uses cookies.