Farozaan

ورلڈ اربن فورم 2026 اور محفوظ، پائیدار شہروں کا عالمی خواب

ورلڈ اربن فورم: موسمیاتی خطرات سے محفوظ شہر نہ بنائے گئے تو دنیا کو شدید انسانی بحرانوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔

دنیا تیزی سے شہری آبادی کے دباؤ، موسمیاتی تبدیلی، بے گھری اور غیر مساوی ترقی کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ اب انسان صرف ایک چھت نہیں بلکہ محفوظ، باوقار اور پائیدار زندگی کا طلبگار ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مئی 2026 میں آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقد ہونے والا 13واں ورلڈ اربن فورم محض ایک عالمی اجلاس نہیں بلکہ انسانی بقا، شہری مستقبل اور سماجی انصاف پر ایک اہم بین الاقوامی مکالمہ بن کر سامنے آیا۔

“دنیا کو رہائش فراہم کرنا: محفوظ اور مضبوط شہر اور کمیونٹیز” کے عنوان سے منعقد ہونے والا یہ فورم تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ اربن فورم ثابت ہوا۔ اس میں 176 ممالک سے 58 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔

عالمی اجتماع نے واضح کیا کہ رہائش کا مسئلہ اب صرف تعمیرات یا شہری منصوبہ بندی کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی حقوق، موسمیاتی انصاف اور پائیدار ترقی کا بنیادی سوال بن چکا ہے۔

ورلڈ اربن فورم کی سمری رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً تین ارب لوگ ناکافی رہائشی سہولیات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

دنیا ہاؤسنگ بحران کے دہانے پر

ورلڈ اربن فورم کی سمری رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً تین ارب لوگ ناکافی رہائشی سہولیات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں ایک ارب سے زائد افراد کچی آبادیوں اور غیر رسمی بستیوں میں رہتے ہیں جبکہ تیس کروڑ سے زیادہ افراد مکمل طور پر بے گھر ہیں۔

یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ جدید ترقی، بلند و بالا عمارتوں اور اسمارٹ سٹی منصوبوں کے باوجود دنیا کی ایک بڑی آبادی محفوظ رہائش سے محروم ہے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سیلاب، شدید گرمی، سمندری طوفان، خشک سالی اور جنگلات کی آگ نے لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا۔ دوسری جانب جنگوں اور تنازعات نے شہری انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا ہے۔

اسی وجہ سے ورلڈ اربن فورم 2026 میں “کلائمیٹ ریزیلینٹ ہاؤسنگ” یعنی موسمیاتی خطرات سے محفوظ رہائش کو مرکزی اہمیت دی گئی۔

یہ فورم ایسے وقت میں منعقد ہوا جب “نیو اربن ایجنڈا” کو اپنائے ہوئے دس برس مکمل ہو رہے ہیں۔

نیو اربن ایجنڈا: دس برس بعد کیا بدلا؟

یہ فورم ایسے وقت میں منعقد ہوا جب “نیو اربن ایجنڈا” کو اپنائے ہوئے دس برس مکمل ہو رہے ہیں۔ 2016 میں منظور کیا گیا یہ عالمی فریم ورک پائیدار، جامع اور ماحول دوست شہری ترقی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

جولائی 2026 میں اس کے مڈ ٹرم ریویو کی بھی توقع ہے، اسی لیے فورم کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے “یو این ہیبیٹاٹ” کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اناکلاڈیا روسباخ نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں کئی ممالک نے قومی ہاؤسنگ پالیسیاں متعارف کرائی ہیں، مگر رہائش کی استطاعت اب بھی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

ان کے مطابق شہری ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے لیکن عام شہری کے لیے گھر حاصل کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

ورلڈ اربن فورم 2026 کی میزبانی آذربائیجان کے شہر باکو نے کی، جو تیزی سے بدلتے شہری منظرنامے کی ایک نمایاں مثال بن چکا ہے۔

باکو: جنگ سے بحالی تک کا سفر

ورلڈ اربن فورم 2026 کی میزبانی آذربائیجان کے شہر باکو نے کی، جو تیزی سے بدلتے شہری منظرنامے کی ایک نمایاں مثال بن چکا ہے۔

آذربائیجان نے 2026 کو “اربن پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچر کا سال” قرار دیا تاکہ بہتر شہری منصوبہ بندی اور تعمیراتی ثقافت کو فروغ دیا جا سکے۔

افتتاحی تقریب میں آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے کہا کہ شہری منصوبہ بندی میں “جرات” اور “احتیاط” دونوں کی ضرورت ہے تاکہ ترقی کے ساتھ تاریخی ورثے کو بھی محفوظ رکھا جا سکے۔

انہوں نے 2020 کے بعد جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تباہ حال بستیوں کو دوبارہ آباد کرنا صرف انفراسٹرکچر کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار کی بحالی بھی ہے۔

رہائش: تجارت یا بنیادی انسانی حق؟

فورم کے دوران سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا موضوع “افورڈیبل ہاؤسنگ” یعنی کم لاگت رہائش تھا۔

مختلف ممالک کے مندوبین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ دنیا میں رہائش کو بنیادی حق کے بجائے سرمایہ کاری اور منافع بخش کاروبار میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

جائیداد کی قیمتوں میں اضافے، بلند کرایوں اور جبری بے دخلیوں نے شہری غریب طبقے کے مسائل مزید بڑھا دیے ہیں۔

شرکا نے بار بار اس مؤقف کو دہرایا کہ رہائش کو “کموڈیٹی” نہیں بلکہ “پبلک گڈ” سمجھا جانا چاہیے۔

انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے آرٹیکل 25 کے مطابق ہر فرد کو مناسب رہائش کا حق حاصل ہے۔ اس کا مطلب صرف ایک چھت نہیں بلکہ محفوظ، سستی، قابل رسائی اور بنیادی سہولیات سے آراستہ گھر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ بحران حل کیے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں۔

باکو کال ٹو ایکشن: مستقبل کے لیے 15 نکات

فورم کے اختتام پر “باکو کال ٹو ایکشن” پیش کیا گیا جس میں 15 اہم سفارشات شامل ہیں۔

ان سفارشات میں کم لاگت رہائش کے لیے مالی وسائل میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف محفوظ گھروں کی تعمیر، شہری منصوبہ بندی میں عوامی شرکت، مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا اور سب کے لیے رہائش کو بنیادی انسانی حق تسلیم کرنا شامل ہے۔

اس کے علاوہ جدید مالیاتی نظام کے ذریعے ہاؤسنگ فنانس تک رسائی بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔

یہ سفارشات آئندہ نیو اربن ایجنڈا کے مڈ ٹرم ریویو میں رہنمائی فراہم کریں گی۔ ان کا مقصد دنیا بھر میں محفوظ اور پائیدار شہروں کے قیام کے لیے عملی اقدامات کو تیز کرنا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور شہری مستقبل

ورلڈ اربن فورم 2026 نے واضح کیا کہ مستقبل کی جنگیں پانی، خوراک اور رہائش پر ہو سکتی ہیں۔

اگر شہروں کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ نہ بنایا گیا تو دنیا کو بڑے انسانی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے بڑے شہر جیسے کراچی، ڈھاکا، ممبئی، لاگوس اور جکارتہ پہلے ہی آبادی کے دباؤ، آلودگی، ناقص انفراسٹرکچر اور موسمیاتی خطرات کی زد میں ہیں۔

کراچی جیسے شہر اس عالمی بحث کا اہم حصہ بن سکتے ہیں جہاں شہری منصوبہ بندی، گرین انفراسٹرکچر، پبلک ٹرانسپورٹ، پانی کی منصفانہ تقسیم اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے رہائش فوری توجہ چاہتے ہیں۔

امید کی ایک جھلک

اگرچہ فورم میں زیر بحث مسائل نہایت سنجیدہ تھے، مگر ماحول مایوسی کے بجائے امید سے بھرپور دکھائی دیا۔

باکو میں شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے باوجود شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا میں ایسے بے شمار کامیاب ماڈلز موجود ہیں جو پائیدار اور جامع شہری ترقی کو ممکن بنا سکتے ہیں۔

اربن ایکسپو میں 200 سے زائد نمائش کنندگان نے رہائش، ٹرانسپورٹ، توانائی، ویسٹ مینجمنٹ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے جدید حل پیش کیے۔

ثقافتی پروگراموں، موسیقی اور روایتی فنون نے اس پیغام کو مزید مضبوط کیا کہ پائیدار شہر صرف کنکریٹ کی عمارتوں سے نہیں بلکہ ثقافت، شمولیت اور انسانی روابط سے بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

موسمیاتی بحران کے خلاف عالمی اتحاد

موسمیاتی تبدیلی سے جھیلوں کا قدرتی فلٹر سسٹم خطرے میں

شجرکاری مہم: لاڑکانہ میں ماحولیاتی آگاہی تقریب

شہروں کا مستقبل، انسانیت کا مستقبل

ورلڈ اربن فورم 2026 نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ محفوظ اور پائیدار رہائش اب عیش و آرام نہیں بلکہ انسانی بقا کی ضرورت ہے۔

تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، موسمیاتی تبدیلی اور سماجی عدم مساوات کے اس دور میں اگر دنیا نے جامع اور منصفانہ شہری پالیسیاں نہ اپنائیں تو آنے والے برسوں میں بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

باکو میں ہونے والی گفتگو دراصل مستقبل کے شہروں کے خدوخال طے کرنے کی کوشش تھی۔ یہ فورم اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ دنیا کو صرف عمارتیں نہیں بلکہ ایسے شہر درکار ہیں جہاں انسان محفوظ، باوقار اور پائیدار زندگی گزار سکے۔

admin

Recent Posts

ہیٹ ویو الرٹس: خطرات بڑھ گئے

ہیٹ ویو الرٹس کے باوجود مؤثر حکمتِ عملی کا فقدان، ماہرین نے فوری عوامی آگاہی…

16 hours ago

عالمی یومِ بحر 2026: سمندروں کا تحفظ، انسانیت کا تحفظ

عالمی یومِ بحر 2026: پلاسٹک آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور سمندری حیات کو لاحق خطرات پر…

2 days ago

کراچی میں خطرناک ہیٹ ویو کب سے شروع ہوگی؟

کراچی میں خطرناک ہیٹ ویو کا خدشہ، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان، محکمہ موسمیات جلد…

3 days ago

موسمیاتی لچک، ترقی کے لیے ناگزیر

ماہرین نے موسمیاتی لچک پذیری کو قومی منصوبہ بندی اور بجٹ کا حصہ بنانے، جبکہ…

3 days ago

راول جھیل سے اسپتال کا خطرناک فضلہ اور پلاسٹک کچرا برآمد

راول جھیل سے اسپتال کا خطرناک فضلہ اور پلاسٹک کچرا برآمد، پاک ای پی اے…

4 days ago

لاڑکانہ: ماحولیات کانفرنس میں تحفظ پر زور

لاڑکانہ میں ماحولیات کانفرنس، ماہرین کا موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر…

4 days ago

This website uses cookies.