Environmental News

زیرِ زمین پانی تیزی سے کم، کیا خطرے کی گھنٹی بج چکی؟

زیرِ زمین پانی میں مسلسل کمی، ذخائر سکڑنے لگے، پانی کی سطح خطرناک حد تک گر گئی، ماہرین کی فوری اصلاحات اور قانون سازی کی اپیل

اسلام آباد: پاکستان میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔ جس کی بڑی وجہ پانی کا غیر معمولی گھریلو، زرعی اور تجارتی استعمال ہے۔

ماہرِ پانی نصیر میمن نے کہا کہ اس شعبے کے لیے کوئی مؤثر قانون موجود نہیں۔ لہٰذا قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔

نصیر میمن نے کہا کہ انڈس بیسن کے زیرِ زمین ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہیں

ماہرین کی وارننگ

پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی یعنی ایس ڈی پی آئی کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے نصیر میمن نے کہا کہ انڈس بیسن کے زیرِ زمین ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اور فوری حکومتی توجہ کے مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شہری آبادی 1997 میں 46 ملین سے بڑھ کر 2023 میں 94 ملین ہو گئی۔ اس طرح آبادی میں تیز اضافہ پانی کی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں پانی کی سطح 2000 میں 50 میٹر تھی

مختلف شہروں میں صورتحال

انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں پانی کی سطح 2000 میں 50 میٹر تھی۔ تاہم 2023 تک یہ 150 میٹر سے زیادہ نیچے چلی گئی۔

لاہور میں پانی کی سطح ہر سال اوسطاً 2.61 فٹ کم ہو رہی ہے۔ جبکہ راولپنڈی میں 2013 سے اب تک تقریباً 30 فٹ کمی آ چکی ہے۔

کراچی میں روزانہ 1,200 ایم جی ڈی پانی کی طلب ہے۔ مگر صرف 650 ایم جی ڈی دستیاب ہے۔

پانی کے ضیاع کا مسئلہ

انہوں نے کہا کہ پانی کی تقسیم کے نظام میں 35 سے 40 فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ کیونکہ نالیوں کے لیکج اور چوری جیسے مسائل موجود ہیں۔

زرعی شعبہ زیرِ زمین پانی کا 90 فیصد سے زیادہ استعمال کرتا ہے

زرعی شعبہ اور پانی کا استعمال

نصیر میمن کے مطابق زرعی شعبہ زیرِ زمین پانی کا 90 فیصد سے زیادہ استعمال کرتا ہے۔ جبکہ انڈس بیسن میں 60 فیصد سے زائد آبپاشی پمپنگ سے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں زرعی ٹیوب ویلوں کی تعداد 1994 میں 334,000 تھی۔ جو بڑھ کر 2024 میں 1.2 ملین سے زیادہ ہو گئی۔

یہ ٹیوب ویل سالانہ 51 ایم اے ایف پانی نکالتے ہیں۔ نتیجتاً زیرِ زمین پانی کی سطح کئی علاقوں میں 6 میٹر سے زیادہ نیچے جا چکی ہے۔

حل اور تجاویز

انہوں نے پانی کے تحفظ کے مختلف طریقے اپنانے پر زور دیا۔ مزید یہ کہ سیلابی نالوں، ویٹ لینڈز اور قدرتی گڑھوں کو ذخیرہ آب کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز دی۔

یہ بھی پڑھیں

امن اور عالمی استحکام کے لیے پاکستان پرعزم ہے، ڈاکٹر مصدق ملک

انٹارکٹک میں جانور تیزی سے کیوں ختم ہورہے ہیں؟

دیگر ماہرین کی رائے

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شفقت منیر احمد نے کہا کہ زیرِ زمین پانی کی کمی سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسے قدرتی وسیلہ سمجھ کر ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کیونکہ پانی زندگی کے ساتھ پالیسی اور حکمرانی سے بھی جڑا ہوا ہے۔

admin

Recent Posts

کلائمیٹ برج فنڈ: این جی اوز کے لیے نئی فنڈنگ کا اعلان

کلائمیٹ برج فنڈ نے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ شہری آبادی کے لیے جدید موافقتی منصوبوں…

7 hours ago

نیوزی لینڈ: حکومتی پالیسیاں موسمیاتی اہداف کے لیے خطرہ بن گئیں، رپورٹ

نیوزی لینڈ: کمیشن کا انتباہ، موجودہ حکومتی فیصلوں سے 2050 کے موسمیاتی اہداف شدید خطرے…

1 day ago

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

2 days ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

3 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

4 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

4 days ago

This website uses cookies.