Articles

انٹارکٹک میں جانور تیزی سے کیوں ختم ہورہے ہیں؟

انٹارکٹک میں خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، پینگوئن اور فر سیل کی بقا برف کے تیزی سے پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید متاثر

ابتدائی طور پر تحقیقی جائزوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ان دونوں انواع کی بقا کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔ نتیجتاً سمندری نظام کمزور ہو رہا ہے۔

اسی طرح سمندری پانی کی بڑھتی گرمی کے باعث برفانی تہیں تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں رہائش کا قدرتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ خوراک کے ذرائع بھی کم ہو رہے ہیں۔

ایمپیرر پینگوئن کو اب “نزدیک خطرے” سے بڑھا کر “شدید خطرے میں

ایمپیرر پینگوئن کی صورتحال

مزید برآں ایمپیرر پینگوئن کو اب ’’نزدیک خطرے” سے بڑھا کر‘‘شدید خطرے میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کی آبادی میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔

تحقیقی اندازوں کے مطابق، اس صدی کے آخر تک اس کی آبادی نصف تک کم ہو سکتی ہے۔

اسی دوران سیٹلائٹ ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ سن 2009 سے 2018 کے درمیان ان پینگوئنز کی تعداد میں تقریباً 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ کمی 20 ہزار سے زائد بالغ پینگوئنز کے نقصان کے برابر ہے۔

ن پینگوئنز کی بقا مکمل طور پر سمندری برف پر منحصر ہے

برف اور افزائش نسل پر اثر

ماہرین کے مطابق، ان پینگوئنز کی بقا مکمل طور پر سمندری برف پر منحصر ہے۔ کیونکہ وہ وہیں افزائش کرتے ہیں اور خوراک حاصل کرتے ہیں۔

جب برف کم ہوتی ہے تو افزائش نسل متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً شرح اموات بھی بڑھ جاتی ہے۔

مزید مشاہدات کے مطابق 2016 کے بعد انٹارکٹک کی موسمی برف میں واضح کمی آئی ہے۔ اسی وجہ سے کئی علاقوں میں افزائش نسل مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

علاوہ ازیں اندازوں کے مطابق تقریباً نصف کالونیوں میں یہ مسئلہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

انٹارکٹک فر سیل کو بھی “کم خطرے” سے بڑھا کر “شدید خطرے میں”

انٹارکٹک فر سیل کی صورتحال

اسی طرح انٹارکٹک فر سیل کو بھی ’’کم خطرے‘‘ سے بڑھا کر ’’شدید خطرے میں‘‘ شامل کر دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سال 1999 سے 2025 کے دوران اس کی آبادی میں 50 فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے۔

مزید یہ کہ اس کمی کی بڑی وجہ کرِل کی دستیابی میں کمی ہے، جو ان سیلز کی بنیادی خوراک ہے۔

جیسے جیسے سمندری درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، کرِل گہرے پانی کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ نتیجتاً خوراک تک رسائی مزید مشکل ہو گئی ہے۔

وسیع ماحولیاتی اثرات

اسی تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان صرف انٹارکٹکا تک محدود نہیں رہے گا۔ بلکہ اس کے اثرات دوسرے خطوں میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

مثال کے طور پر شمالی قطبی خطے میں بھی کئی سیل اقسام کی آبادی میں کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

گلیشیرز تیزی سے پگھلنے لگے،ماہرین کا ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ

خطرہ بڑھتا جا رہا ہے: جنوبی ایشیا اور پاکستان میں ایس ڈی جیز کی ناکامی کا خدشہ

نتیجہ

آخر میں تحقیقی شواہد یہ واضح کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی سمندری حیات کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

اگر یہی صورتحال جاری رہی تو انٹارکٹک کا ماحولیاتی نظام مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ زیر نظر اسٹوری بین الاقوامی نشریاتی ادارے میں انگلش زبان میں شائع ہوچکی ہے۔ تاہم یہاں مزید کچھ اہم تبدیلیوں اور حقائق کے ساتھ اسے شائع کیا جارہا ہے۔

admin

Recent Posts

نیوزی لینڈ: حکومتی پالیسیاں موسمیاتی اہداف کے لیے خطرہ بن گئیں، رپورٹ

نیوزی لینڈ: کمیشن کا انتباہ، موجودہ حکومتی فیصلوں سے 2050 کے موسمیاتی اہداف شدید خطرے…

3 hours ago

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

1 day ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

This website uses cookies.