موسمیاتی ایٹریبیوشن سائنس پر نئی امریکی رپورٹ، مستقبل میں مشترکہ موسمی آفات کے خطرات مزید سنگین ہونے کا خدشہ
فروزاں رپورٹ
واشنگٹن: امریکا کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز، انجینئرنگ اینڈ میڈیسن کی نئی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی ایٹریبیوشن سائنس اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اب تحقیق کا مرکز صرف یہ جانچنا نہیں رہا کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت شدید گرمی، سیلاب اور جنگلاتی آگ جیسے مہلک واقعات کی وجہ بن رہی ہے یا نہیں، بلکہ اب توجہ اس بات پر ہے کہ مستقبل میں مختلف موسمیاتی آفات ایک ساتھ یا یکے بعد دیگرے رونما ہونے کی صورت میں ان کے اثرات کتنے سنگین ہوں گے۔

شدید موسمی آفات میں اضافہ
امریکا کی حکومت کو سائنسی اور تکنیکی امور پر مشورے دینے والے آزاد ادارے نیشنل اکیڈمی آف سائنسز، انجینئرنگ اینڈ میڈیسن کی تیار کردہ رپورٹ میں 14 ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ مختلف اقسام کی شدید موسمیاتی آفات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک ہی وقت میں، ایک ہی مقام پر یا مختلف خطوں میں قریب قریب ایسی آفات کے رونما ہونے کے امکانات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے تدارک کے لیے شین باجوڑ مہم کا آغاز
سی پیک 2.0 اور پاکستان کا موسمیاتی مستقبل
تحقیق کو نئے چیلنجز کا سامنا
رپورٹ کے مطابق، ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے والی، سلسلہ وار بڑھنے والی اور نئے ریکارڈ قائم کرنے والی موسمیاتی آفات کا رجحان روایتی موسمیاتی ایٹریبیوشن تحقیق کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
اس سے پہلے تحقیق کا مقصد کسی محدود جغرافیائی علاقے میں پیش آنے والے ایک شدید موسمی واقعے پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا تعین کرنا تھا۔ تاہم اب پیچیدہ اور باہم جڑی ہوئی آفات کے باعث تحقیق کے طریقۂ کار کو مزید مؤثر اور جدید بنانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
مستقبل کی تیاری میں مدد ماہرین کے مطابق موسمیاتی ایٹریبیوشن سائنس میں مزید تحقیق نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ مقامی آبادیوں اور حکومتوں کو بڑھتی ہوئی شدید موسمیاتی آفات سے نمٹنے، خطرات کا اندازہ لگانے اور مستقبل کے مطابق مؤثر منصوبہ بندی کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔

