Categories: Articles

سائبیرین پرندوں کا عالمی دن

ماریہ اسماعیل

خواتین صحافیوں کے وفد کا دورہ سونمیانی

سونمیانی، بلوچستان کا ایک خوبصورت ساحلی شہر ہے جو تقریباً 15,000 افراد کی آبادی پر مشتمل ہے، جن میں زیادہ تر مقامی بلوچ لوگ شامل ہیں۔ سونمیانی کا سمندر نہ صرف گہرا اور وسیع ہے بلکہ اس میں مختلف اقسام کی سمندری حیات بھی پائی جاتی ہیں، جیسے کہ ٹونا، مکرل، کیکڑے اور ڈولفن۔

عالمی ماحولیاتی تنظیم آئی یو سی این نے خواتین صحافیوں کے ایک وفد کو سائبرین پرندوں کے عالمی دن کے موقع پر سونمیانی کا دورہ کرایا، جہاں انہوں نے ماحولیات کے تحفظ میں خواتین کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر ایک مقامی خاتون، نورجہاں، نے اپنی کہانی شیئر کی اور ہمیں حیران کن طور پر یہ معلوم ہوا کہ ماحولیات کو بہتر بنانے کے حوالے سے خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔

نورجہاں، جو کہ ایک سابق اسکول ٹیچر ہیں، آئی یو سی این کے ساتھ 2007 سے کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے 25 ساتھی خواتین نے مل کر 2000 ایکڑ اراضی پر مینگروز کے پودے لگائے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی مچھلیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا، خاص طور پر جھینگے اور پمیلنٹ کی مچھلی کی فراہمی میں بہتری آئی۔ نورجہاں نے مزید بتایا کہ چھ ماہ میں وہ اتنی مچھلیاں پکڑ کر فروخت کرتی ہیں کہ باقی چھ ماہ آرام سے گزار سکتی ہیں کیونکہ گرمیوں میں سمندری ہوائیں اتنی تیز ہوتی ہیں کہ ماہی گیری مشکل ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں مختلف اقسام کے مینگروو درخت پائے جاتے ہیں، جن میں اوسٹریلین، ریڈ اور بلیک مینگروو شامل ہیں۔ ان درختوں کی جڑیں سمندری طوفانوں سے ساحلوں کو محفوظ رکھتی ہیں اور پانی کی آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ پاکستان میں مینگروز کے جنگلات تقریباً 1.2 ملین ہیکٹر رقبے پر موجود ہیں، جو ہمارے سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

آئی یو سی این کے ریسورس مینجمنٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر بابر حسین نے بتایا کہ 2021 سے 2023 کے دوران مینگروو کی شجرکاری میں 85 فیصد کی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ خواتین کو مینگروو کے پودے لگانے کی تربیت دی گئی اور سونمیانی میں خواتین کے تعاون سے 30,000 مینگروو پودے لگائے گئے۔ اس کے علاوہ، ایک نرسری بھی خواتین کی مدد سے قائم کی گئی ہے، جہاں ان کی تعلیم و تربیت کی جاتی ہے۔

سونمیانی کے ساحل پر آپ سائبیریائی پرندوں کو بھی دیکھ سکتے ہیں، جو سردیوں میں پاکستان آتے ہیں۔ ان میں سائبیریائی کریک، ڈک اور سائبیریائی بگلہ شامل ہیں، جو نومبر سے مارچ تک یہاں رہتے ہیں۔ یہ پرندے مقامی پرندوں کے ساتھ مل کر ایک شاندار منظر پیش کرتے ہیں۔

سونمیانی کے لوگ سمندر سے مچھلی پکڑنے کے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں، جس میں جدید ماہی گیری کی تکنیکیں اور کشتیوں کا استعمال شامل ہے۔ سونمیانی نہ صرف اپنے ساحلی منظر کے لیے مشہور ہے بلکہ یہاں کی ثقافت اور روایات بھی بے حد دلچسپ ہیں۔

یہ دورہ ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے خواتین کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ پاکستان کی ماحولیاتی بہتری میں خواتین کا کردار نہایت اہم ہے۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

21 hours ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.