Articles

ویرونگا کے پہاڑوں میں غم، بقا اور انسان سے حیران کن قربت کی کہانی

ویرونگا کے گھنے جنگلات میں گوریلوں کا اجتماعی غم، سماجی ڈھانچہ اور عالمی تحفظ کی جدوجہد کی ایک نئی جھلک سامنے آتی ہے۔

روانڈا کے ویرونگا پہاڑوں کے گھنے جنگلات میں دھند نیچی سطح پر چھائی ہوئی ہے۔ اس پورے خطے میں ایک ایسی خاموشی محسوس کی جا رہی ہے جو غیر معمولی بھی ہے اور بھاری بھی لگتی ہے۔

ڈھلوانیں مکمل سکون میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے فطرت نے بھی سانس روک رکھی ہو۔

اسی ماحول میں گوریلوں کا ایک گروہ مکمل طور پر ساکت کھڑا ہے۔ ان کی خاموشی عام نہیں بلکہ ایک گہرے جذباتی بوجھ کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ جیسے ان پر واقعی غم کی چادر تن گئی ہو۔ ان کے درمیان انیانگے موجود ہے جو ایک ناقابلِ یقین نقصان کے بعد شدید صدمے میں ہے۔

اس کا پہلا بچہ ایک علیحدہ اور باغی گوریلے کے وحشیانہ حملے میں مارا جا چکا ہے۔

اے گوریلا اسٹوری: ٹولڈ بائی ڈیوڈ ایٹنبرو” میں انہی واقعات کے بعد کے مناظر دکھائے گئے ہیں

فلم میں دکھایا گیا جذباتی پہلو

“اے گوریلا اسٹوری: ٹولڈ بائی ڈیوڈ ایٹنبرو” میں انہی واقعات کے بعد کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ یہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایک فرد کا دکھ کس طرح آہستہ آہستہ پورے گروہ میں پھیل جاتا ہے۔ یہ اجتماعی ماحول کو بھی متاثر کرتا ہے۔

ایسے مناظر شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتے ہیں، مگر اپنی حقیقت اور شدت کی وجہ سے فوراً پہچان لیے جاتے ہیں۔

یہ فلم صرف جانوروں کی کہانی نہیں۔ یہ انسانی جذبات کی جھلک بھی پیش کرتی ہے۔ دیکھنے والا سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ انسان اور گوریلے کتنے قریب ہیں۔

ڈائین فوسی کہتی ہیں کہ انسان اور گوریلے تقریباً 98 فیصد ڈی این اے شیئر کرتے ہیں

انسان اور گوریلوں کی حیران کن مماثلت

ڈائین فوسی گوریلا فنڈ کی سی ای او اور چیف سائنٹیفک آفیسر ٹارا اسٹوئنسکی کہتی ہیں کہ انسان اورگوریلے تقریباً 98 فیصد ڈی این اے شیئر کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا حیاتیاتی تعلق کتنا گہرا ہے۔

وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ مماثلت صرف جینیاتی نہیں بلکہ رویوں میں بھی ہے۔ جیسے زندگی بھر تعلقات قائم رکھنا، کمزور افراد کی دیکھ بھال کرنا اور غم کے وقت اجتماعی طور پر ایک دوسرے سے جُڑ جانا۔

فلم میں گوریلوں کے سماجی ڈھانچے کو بھی دکھایا گیا ہے

قیادت اور سماجی ڈھانچہ

فلم میں گوریلوں کے سماجی ڈھانچے کو بھی دکھایا گیا ہے۔ دو سلور بیک نر گوریلوں اوبوزو اور گیچوراسی کے درمیان تقریباً دو سال تک قیادت کی کشمکش جاری رہتی ہے۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پہاڑی گوریلوں میں قیادت ہمیشہ ایک فرد کے پاس نہیں ہوتی۔ اکثر یہ مشترکہ اور متوازن نظام کے تحت چلتی ہے۔ مضبوط اتحاد گروہ کی بقا کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔

گوریلے صرف مشرقی افریقہ کے بلند جنگلات میں پائے جاتے ہیں

پہاڑی گوریلوں کی بحالی کی کہانی

پہاڑی گوریلے صرف مشرقی افریقہ کے بلند جنگلات میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں یوگنڈا، روانڈا اور جمہوریہ کانگو کے علاقے شامل ہیں۔

“اے گوریلا اسٹوری” کے مطابق ویرونگا میں ان کی تعداد 1980 کی دہائی کے تقریباً 250 سے بڑھ کر آج تقریباً 600 تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ پورے افریقہ میں یہ تعداد 1000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

یہ اضافہ ایک بڑی تحفظاتی کامیابی ہے۔ یہ دہائیوں کی نگرانی، سائنسی تحقیق اور مقامی کمیونٹیز کے تعاون کا نتیجہ ہے۔

وہ 1967 میں روانڈا آئیں اور انہوں نے پہاڑی گوریلوں کا تفصیلی مطالعہ شروع کیا

ڈائین فوسی کی تاریخی جدوجہد

اس کامیابی کی بنیاد امریکی پرائمٹولوجسٹ ڈائین فوسی نے رکھی۔ وہ 1967 میں روانڈا آئیں اور انہوں نے پہاڑی گوریلوں کا تفصیلی مطالعہ شروع کیا۔

انہوں نے جلد محسوس کیا کہ یہ نسل شدید خطرے میں ہے۔ شکار اور رہائش کا دباؤ بڑھ رہا تھا۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے جاتے تو یہ نسل ختم ہو سکتی تھی۔

انہوں نے صرف مشاہدہ نہیں کیا بلکہ عملی اقدامات بھی کیے۔ پھندے ہٹائے اور شکاریوں کو روکنے کی کوشش کی۔ ان کی تحقیق ایک تحفظاتی تحریک بن گئی۔ 1985 میں ان کا قتل ہو گیا، لیکن ان کا کام آج بھی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

ڈیوڈ ایٹنبرو اور عالمی توجہ

تقریباً ایک دہائی بعد ڈیوڈ ایٹنبرو نے ویرونگا کے کیمپ میں “لائف آن ارتھ” کے لیے شوٹنگ کی۔

ایک تین سالہ گوریلا “پابلو” ان کے ساتھ کھیلتا ہوا نظر آیا۔ یہ منظر دنیا بھر میں مشہور ہوا اور تحفظ کے لیے عالمی شعور پیدا ہوا۔

اب 99 سال کے ڈیوڈ ایٹنبرو کے مطابق یہ ان کی زندگی کے سب سے یادگار تجربات میں سے ایک تھا۔

پابلو نے 1993 میں اپنا گروہ بنایا۔ یہ بعد میں سب سے بڑا پہاڑی گوریلا خاندان بن گیا۔

پابلو اور بڑا گوریلا خاندان

پابلو نے 1993 میں اپنا گروہ بنایا۔ یہ بعد میں سب سے بڑا پہاڑی گوریلا خاندان بن گیا۔

اس میں 65 گوریلے شامل تھے۔ یہ گروہ آج بھی سب سے زیادہ زیرِ مطالعہ خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی تاریخ تقریباً 60 سال پر محیط تحقیق پر مبنی ہے۔

آج ڈائین فوسی گوریلا فنڈ اور دیگر ادارے اس نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

موجودہ تحفظاتی کوششیں

آج ڈائین فوسی گوریلا فنڈ اور دیگر ادارے اس نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

200 سے زیادہ اہلکار روزانہ جنگل میں نگرانی کرتے ہیں۔ گوریلا ڈاکٹرس ان کی صحت پر نظر رکھتے ہیں۔

30 سے زیادہ سائنسی منصوبے جاری ہیں۔ یہ پورے ماحولیاتی نظام کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

ویرونگا میں انسانی آبادی بھی بڑی تعداد میں موجود ہے

انسان اور جنگل کا مشترکہ نظام

ویرونگا میں انسانی آبادی بھی بڑی تعداد میں موجود ہے۔ اسی لیے جنگل اور انسانی زندگی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

کھیتوں اور جنگل کے درمیان پتھریلی دیواریں بنائی گئی ہیں تاکہ فصلیں محفوظ رہیں اور تنازع کم ہو۔

مقامی کمیونٹی کو تعلیم، روزگار اور وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ تاکہ لوگ جنگل پر انحصار کم کریں اور تحفظ میں شریک ہوں۔

یہ بھی پڑھیں

بحر اوقیانوس کا سمندری نظام کمزور، عالمی موسم خطرے میں

خطرہ بڑھتا جا رہا ہے: جنوبی ایشیا اور پاکستان میں ایس ڈی جیز کی ناکامی کا خدشہ

کراچی میں زلزلے کے جھٹکے

سیاحت اور خطرات

گوریلا ٹریکنگ سے حاصل آمدنی کا 10 فیصد مقامی کمیونٹیز کو دیا جاتا ہے۔ یہ تحفظ کے لیے ایک بڑی ترغیب ہے۔

تاہم خطرات اب بھی موجود ہیں۔ گوریلوں کو سب سے زیادہ خطرہ انسانی سرگرمیوں سے ہے، جیسے شکار کے پھندے اور رہائش کی کمی۔

ٹارا اسٹوئنسکی کے مطابق ان کے کوئی قدرتی شکاری نہیں ہیں۔ اصل خطرہ انسان ہیں۔ وہ امید کرتی ہیں کہ یہ فلم ہمدردی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرے گی۔

ہم کیا کرسکتے ہیں؟

گوریلوں کا تحفظ صرف ایک نسل کو بچانے کا معاملہ نہیں۔ یہ پورے ماحولیاتی نظام کو محفوظ رکھنے کی کوشش ہے۔

یہ جنگلات زمین کے لیے ویسے ہی اہم ہیں جیسے انسانی جسم کے لیے پھیپھڑے۔ اس لیے گوریلوں کی حفاظت دراصل انسانوں کی بقا سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

admin

Recent Posts

ہیٹ ویو الرٹس: خطرات بڑھ گئے

ہیٹ ویو الرٹس کے باوجود مؤثر حکمتِ عملی کا فقدان، ماہرین نے فوری عوامی آگاہی…

19 hours ago

عالمی یومِ بحر 2026: سمندروں کا تحفظ، انسانیت کا تحفظ

عالمی یومِ بحر 2026: پلاسٹک آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور سمندری حیات کو لاحق خطرات پر…

2 days ago

کراچی میں خطرناک ہیٹ ویو کب سے شروع ہوگی؟

کراچی میں خطرناک ہیٹ ویو کا خدشہ، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان، محکمہ موسمیات جلد…

3 days ago

موسمیاتی لچک، ترقی کے لیے ناگزیر

ماہرین نے موسمیاتی لچک پذیری کو قومی منصوبہ بندی اور بجٹ کا حصہ بنانے، جبکہ…

3 days ago

راول جھیل سے اسپتال کا خطرناک فضلہ اور پلاسٹک کچرا برآمد

راول جھیل سے اسپتال کا خطرناک فضلہ اور پلاسٹک کچرا برآمد، پاک ای پی اے…

4 days ago

لاڑکانہ: ماحولیات کانفرنس میں تحفظ پر زور

لاڑکانہ میں ماحولیات کانفرنس، ماہرین کا موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر…

4 days ago

This website uses cookies.