خصوصی فیچر: روبینہ یاسمین
امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ آسمان کے نظارے کے شوقین افراد کے لیے ایک نایاب موقع آنے والا ہے۔ ہفتے کے روز، اگر موسم صاف رہا تو آسمان میں چھ سیاروں کو ایک ساتھ دیکھا جائے گے۔
ناسا کے مطابق یہ منظر سیاروں کی ’’سیاروی پریڈ‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ اس وقت بنتا ہے جب سورج کے گرد گردش کرنے والے سیارے ایک خاص ترتیب میں آ جاتے ہیں۔
ناسا مارشل اسپیس فلائٹ سینٹر، ہنٹس ول، الاباما کی سائنس دان ہائیڈی ہیویلینڈ کے مطابق یہ ترتیب مکمل طور پر قدرتی مداروں کا نتیجہ ہوتی ہے۔
اس فلکی منظر میں کچھ سیارے ننگی آنکھ سے دیکھے جا سکیں گے، جبکہ کچھ کے لیے دوربین کی ضرورت ہوگی۔
عطارد، زہرہ، زحل اور مشتری ننگی آنکھ سے نظر آئیں گے
یورینس اور نیپچون کو دیکھنے کے لیے ٹیلی اسکوپ ضروری ہوگی
ماہرین کے مطابق اس منظر کو دیکھنے کے لیے کسی حفاظتی عینک کی ضرورت نہیں، جیسے سورج گرہن میں ہوتی ہے۔
یہ منظر دنیا کے کسی بھی حصے سے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم بہترین وقت شفق یعنی غروبِ آفتاب یا طلوعِ آفتاب ہے۔
صبح سورج نکلنے سے پہلے
یا شام کو غروبِ آفتاب کے فوراً بعد
ماہرین کے مطابق سیارے اس وقت واضح نظر آتے ہیں جب وہ افق سے کم از کم 10 درجے یا اس سے زیادہ بلند ہوں۔
شہری روشنیوں سے دور، صاف آسمان میں مشاہدہ بہترین رہتا ہے۔
ہائیڈی ہیویلینڈ نے سیاروں کی شناخت کے چند آسان طریقے بتائے ہیں
زہرہ سب سے زیادہ روشن سفید روشنی کے ساتھ نظر آئے گا
مریخ سرخ نقطے کی صورت میں دکھائی دے گا
زحل زردی مائل ہوگا
مشتری اوپر کی سمت میں روشن نظر آئے گا
عطارد سب سے مشکل ہوگا، افق کے قریب چھوٹی سفید روشنی کی صورت میں
ماہرین کے مطابق، یہ ترتیب (چھ سیاروں کی موجودگی ) صرف خوبصورت منظر نہیں بلکہ سائنسی لحاظ سے بھی اہم ہے۔
یہ سیاروں کی گردش اور ان کی پوزیشن کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اسی معلومات کی بنیاد پر خلائی مشنز کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔
کیا اسے پڑھا؟
ویرونگا کے پہاڑوں میں غم، بقا اور انسان سے حیران کن قربت کی کہانی
زیرِ زمین پانی تیزی سے کم، کیا خطرے کی گھنٹی بج چکی؟
مثال کے طور پر انسائٹ مشن کو زمین اور مریخ کے قریب ترین فاصلے کا انتظار کرنا پڑا تاکہ درست وقت پر لانچ کیا جا سکے۔
آئندہ دنوں میں مزید دلچسپ فلکی مظاہر بھی دیکھنے کو ملیں گے
یہ ایشیا، آسٹریلیا، بحرالکاہل اور امریکا میں دیکھا جا سکے گا۔ اس دوران چاند سرخ دکھائی دے گا، جسے ’’خونی چاند‘‘ کہا جاتا ہے۔
اکتیس مئی کو ایک ہی مہینے میں دوسرا پورا چاند نظر آئے گا۔ اسے نیلا چاند کہا جاتا ہے، اگرچہ یہ نیلا نظر نہیں آتا۔
آٹھ اور نو جون کو زہرہ اور مشتری آسمان میں انتہائی قریب دکھائی دیں گے، حالانکہ حقیقت میں ان کے درمیان لاکھوں میل کا فاصلہ ہوگا۔
نیوزی لینڈ: کمیشن کا انتباہ، موجودہ حکومتی فیصلوں سے 2050 کے موسمیاتی اہداف شدید خطرے…
موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…
اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…
برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…
اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…
خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…
This website uses cookies.