Farozaan • Wildlife

گوادر میں 30 فٹ طویل نیلی وہیل مردہ حالت میں ساحل پر آ لگی

A 30-Foot-Long Blue Whale Washes Ashore Dead in Gwadar

گوادر میں نیلی وہیل کی ہلاکت، ڈبلیو ڈبلیو ایف کی تحقیقات شروع، سمندری حیاتیاتی تنوع کو لاحق سنگین خطرات پر تشویش

گوادر کے سمندر میں دو روز تک ایک دیوہیکل سمندری مخلوق لہروں کے رحم و کرم پر بہتی رہی۔ سمندری لہریں اسے کہاں سے لے کر آئیں اور اس کے ساتھ کیا ہوا، یہ راز تاحال سامنے نہیں آسکا۔ بدھ کے روز سمندر نے اپنے اس خاموش مسافر کو ساحل کے حوالے کردیا۔ گوادر ایسٹ بے کے قریب 30 فٹ طویل نیلی وہیل مردہ حالت میں پائی گئی۔

سمندر کی خوبصورت ترین مخلوقات میں شمار ہونے والی اس وہیل کی ہلاکت نے ایک بار پھر پاکستان کے نازک سمندری ماحولیاتی نظام پر تشویش پیدا کردی ہے۔ اس واقعے نے سمندر میں پائی جانے والی نایاب مخلوقات کی بقا سے متعلق کئی سوالات بھی کھڑے کردیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران گوادر کے مختلف سمندری مقامات پر اس وہیل کو تیرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ بعدازاں سمندری لہریں اسے ایسٹ بے کی جانب لے آئیں، جہاں اس کی لاش ساحل کے قریب پائی گئی۔

خیال کیا جارہا ہے کہ اس علاقے میں سمندر کی نسبتاً کم گہرائی کے باعث وہیل ساحل کے قریب پھنس گئی ہوگی۔

خیال کیا جارہا ہے کہ اس علاقے میں سمندر کی نسبتاً کم گہرائی کے باعث وہیل ساحل کے قریب پھنس گئی ہوگی۔ اس واقعے کے بعد سمندری حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین اور اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وہیل کی ہلاکت کے اسباب جاننے کے لیے تحقیقات بھی شروع کردی گئی ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر ایم معظم خان کے مطابق کسی بڑی وہیل کی ہلاکت سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے تشویش ناک پیش رفت ہے۔

ابتدائی جائزے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہیل ممکنہ طور پر سمندر کے کم گہرے حصے میں داخل ہوگئی تھی۔ وہاں اسے راستہ تلاش کرنے میں دشواری پیش آئی، جس کے باعث وہ راستہ بھٹک کر ساحل کی جانب بہتی چلی گئی۔

تاہم، اس کی موت کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔

پاکستان کے ساحل پر وہیل کی ہلاکت کے سابقہ واقعات

پاکستان کے ساحلی علاقوں میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران ملک کے ساحلی علاقوں میں بڑی وہیل مچھلیوں کے پھنسنے یا مردہ حالت میں ملنے کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔ یہ واقعات خطے میں سمندری حیات کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

عالمی یومِ آگاہی برائے سونامی، تباہی سے پہلے تیاری ضروری

موسمیاتی بحران، کینیڈا میں معروف کارکن سیٹھ کلین کا اہم خطاب

اپریل 2019 میں گوادر کے ساحل پر تقریباً 34 فٹ طویل ایک وہیل مردہ حالت میں پائی گئی تھی۔

مئی 2023 میں جیوانی کے بندری ساحل پر تقریباً 42 فٹ طویل ایک اور مردہ وہیل دریافت ہوئی تھی۔ اسی سال نومبر میں پسنی کے قریب 27 فٹ طویل برائیڈز وہیل مردہ حالت میں ملی تھی۔

بعدازاں جون 2024 میں گوادر کے علاقے کنٹانی کے قریب سمندر میں تقریباً 35 فٹ طویل ایک وہیل کی لاش تیرتی ہوئی دیکھی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں