عالمی یومِ اوزون 2026 پر ماہرین نے اوزون کے تحفظ، توانائی کی بچت اور ماحول دوست ٹھنڈک کے لیے مشترکہ اقدامات ضروری قرار دیے۔
فروزاں رپورٹ
پاکستان نے عالمی برادری کے ساتھ عالمی یومِ اوزون 2026 مناتے ہوئے اوزون کی تہہ کے تحفظ اور مونٹریال پروٹوکول کے تحت ماحول دوست اور پائیدار طریقوں کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
عالمی یومِ اوزون ہر سال 16 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد اوزون کی تہہ کی اہمیت اور اس کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت کے بارے میں آگہی پیدا کرنا ہے۔
اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے والے مادّوں کے مرحلہ وار خاتمے، ماحول دوست متبادل ٹیکنالوجی کے فروغ اور شہریوں سمیت متعلقہ حلقوں میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کی پاکستانی کوششوں کو اس سال کی تقریبات میں نمایاں کیا گیا۔
اس سال عالمی یومِ اوزون کا موضوع ’’ٹھنڈے سیارے کے لیے عالمی اقدامات‘‘ تھا۔ یہ دن مونٹریال پروٹوکول میں کیگالی ترمیم کے تحت پائیدار ٹھنڈک کے اقدامات کے دس سال مکمل ہونے کی مناسبت سے بھی منایا گیا۔
اس موضوع میں مسلسل عالمی تعاون، سائنسی جدت اور ماحولیاتی وعدوں پر مؤثر عمل درآمد کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

کراچی میں خصوصی تقریب
اس موقع پر وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے نیشنل اوزون یونٹ نے کراچی میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا۔
تقریب میں تقریری اور پوسٹر مقابلوں، ماہرین کی پیش کشوں اور اوزون کے تحفظ اور ماحول کے لیے محفوظ ٹیکنالوجی سے متعلق مباحث سمیت مختلف آگہی سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل اور نیشنل اوزون یونٹ کے نیشنل پروجیکٹ ڈائریکٹر سید ابرار حسین تھے۔
انہوں نے اوزون کی تہہ کے تحفظ اور مونٹریال پروٹوکول کی کیگالی ترمیم کے تحت پائیدار ٹھنڈک کے حل کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پاکستان میں ٹھنڈک کی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتِ حال میں ریفریجریشن اور ایئر کنڈیشننگ کے شعبے کو ماحول دوست ٹیکنالوجی کی جانب منتقل کرتے وقت سائنس، جدت، توانائی کی بچت اور پائیداری کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔

نوجوانوں کا کردار
سید ابرار حسین نے ماحولیاتی تحفظ میں نوجوانوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔
پاکستان کی قومی کوششوں میں اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام، ترقیاتی پروگرام، صنعتی ترقی کی تنظیم اور کثیرالجہتی فنڈ کی مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی تعاون اوزون کے تحفظ کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے حکومتی اداروں، صنعت، تعلیمی اداروں، فنی ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ پائیدار اور توانائی کی بچت پر مبنی ٹھنڈک کے نظام کو تیزی سے فروغ دینے کے لیے مل کر کام کریں۔
انہوں نے کیگالی ترمیم پر عمل درآمد اور اوزون کی تہہ کے مسلسل تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

پاکستان کی اوزون تحفظ کی کوششیں جاری رکھنے کا عزم
نیشنل اوزون افسر سید عظمت حسین شاہ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اوزون کی تہہ کے تحفظ اور مونٹریال پروٹوکول اور اس کی کیگالی ترمیم پر عمل درآمد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے ’’ٹھنڈے سیارے کے لیے عالمی اقدامات‘‘ کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیگالی ترمیم کے تحت پائیدار ٹھنڈک کی دس سالہ کوششوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے قومی صلاحیتوں میں اضافے، صنعت کو ماحول دوست ٹیکنالوجی اختیار کرنے میں مدد دینے، توانائی کی بچت کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو ماحولیاتی سرگرمیوں میں شریک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ماحول دوست ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی
پاکستان میں ہائیڈرو کلورو فلورو کاربن کے مرحلہ وار خاتمے کے انتظامی منصوبے کی مرکزی معاون تنظیم اقوامِ متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم کے نیشنل پروجیکٹ کوآرڈینیٹر فواد حسن میر نے اوزون کی تہہ کے تحفظ اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی جانب پاکستان کی منتقلی میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اقوامِ متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم نے مونٹریال پروٹوکول کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں پاکستان کی نمایاں پیش رفت کو سراہا۔
تنظیم کے مطابق پاکستان کی کامیابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ مضبوط قومی ذمہ داری اور عالمی تعاون کے ذریعے ماحولیاتی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم نے پاکستان میں اوزون دوست ٹیکنالوجی اور زیادہ پائیدار صنعتی طریقوں کے فروغ کے لیے اپنی معاونت جاری رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
اوزون کی تہہ میں کمی کے سائنسی اسباب
اس موقع پر جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وقار احمد نے اوزون سے متعلق سائنسی پہلوؤں پر پریزنٹیشن دی۔
انہوں نے اوزون کی تہہ میں کمی، اس عمل کے سائنسی اسباب اور انسانی صحت پر اس کے ممکنہ اثرات کی وضاحت کی۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کا تعاون
عالمی یومِ اوزون کے موقع پر اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی پروگرام اینالسٹ بشریٰ گل نے مونٹریال پروٹوکول اور اس کی کیگالی ترمیم کے تحت اوزون کی تہہ کے تحفظ اور پائیدار ٹھنڈک کے حل کو آگے بڑھانے میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کا ترقیاتی پروگرام ادارہ جاتی مضبوطی کے پروگرام پر عمل درآمد میں پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔
اس تعاون میں صلاحیت سازی، قومی سطح پر رابطہ کاری، معلومات اور رپورٹنگ کے نظام، قانونی و انتظامی طریقہ کار، اوزون کو نقصان پہنچانے والے مادّوں کا مرحلہ وار خاتمہ اور ہائیڈرو کلورو فلورو کاربن کے بہتر انتظام سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
بشریٰ گل نے کہا کہ پاکستان میں ٹھنڈک کے شعبے کو زیادہ پائیدار بنانے کے لیے توانائی کی بچت، کم کاربن خارج کرنے والی ٹیکنالوجی، موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت، مضبوط اداروں اور حکومت، صنعت، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کے درمیان قریبی تعاون پر توجہ دینا ضروری ہے۔
مشترکہ کوششوں پر زور
تقریب کے اختتام پر وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے ماتحت پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ترجمان ڈاکٹر ضیغم عباس نے تعلیمی اداروں، صنعت، درآمدکنندگان، سرکاری اداروں اور ترقیاتی تنظیموں کے نمائندوں کا شکریہ ادا کیا، جو پاکستان میں اوزون کے تحفظ اور پائیدار ٹھنڈک کے فروغ کے لیے مسلسل تعاون کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماحول دوست اور توانائی کی بچت پر مبنی ٹھنڈک کی ٹیکنالوجی کی جانب ہموار منتقلی کے لیے علم، جدت اور تمام متعلقہ فریقوں کی فعال شرکت ضروری ہے۔
انہوں نے مونٹریال پروٹوکول اور کیگالی ترمیم کے تحت پاکستان کے وعدوں کو دیرپا اور نتیجہ خیز اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔
ڈاکٹر ضیغم عباس نے عالمی یومِ اوزون کی مناسبت سے تقریری اور پوسٹر مقابلوں کے انعقاد میں تعاون پر جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وقار احمد کی خدمات کو خصوصی طور پر سراہا۔ انہوں نے مقابلوں میں شریک طلبہ و طالبات کی کوششوں اور موسمیاتی تبدیلی کے مسائل سے متعلق ان کی سمجھ بوجھ کی بھی تعریف کی۔

