Environmental Reports Farozaan

موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ: دنیا بھر میں 56 کروڑ بچے خطرناک گرمی کی زد میں

Climate Change Risk: 560 Million Children Exposed to Dangerous Heat

موسمیاتی تبدیلی کے باعث 43 فیصد بچے ہر سال اضافی ایک ماہ خطرناک گرمی کا سامنا کر رہے ہیں، نئی تحقیق میں تشویش ناک انکشاف۔

برسلز کی فری یونیورسٹی وی یو بی کی نئی تحقیق کے مطابق، انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں 0 سے 9 سال عمر کے 56 کروڑ تک بچے ہر سال کم از کم ایک اضافی مہینے، یعنی 30 یا اس سے زائد دن خطرناک گرمی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ تعداد اس عمر کے گروپ کے 43 فیصد بچوں کے برابر ہے۔

تحقیق کے مطابق بچوں میں خطرناک گرمی کی یہ اضافی زد کسی بھی دوسرے عمر کے گروپ سے زیادہ ہے۔ یہ 60 سے 69 سال عمر کے تقریباً 19 کروڑ افراد کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے، جو اسی اضافی موسمی خطرے سے متاثر ہو رہے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی خطرناک مرطوب گرمی کا بوجھ بچوں پر غیرمتناسب طور پر زیادہ پڑ رہا ہے۔ مزید درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ یہ خطرہ بھی بڑھتا جائے گا۔

1.5 ڈگری سینٹی گریڈ گرم دنیا میں یہ تعداد 62 کروڑ بچوں، یعنی 49 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

1.5 اور 2 ڈگری کی دنیا میں خطرہ مزید بڑھ جائے گا

تحقیق کے مطابق اگر موجودہ موسمیاتی پالیسیاں جاری رہیں اور عالمی درجہ حرارت 1.5 سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ گیا تو خطرناک گرمی کے اضافی ایک مہینے کا سامنا کرنے والے بچوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

1.5 ڈگری سینٹی گریڈ گرم دنیا میں یہ تعداد 62 کروڑ بچوں، یعنی 49 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

جبکہ 2 ڈگری سینٹی گریڈ گرم دنیا میں 65 کروڑ بچے، یعنی 59 فیصد، ہر سال کم از کم ایک اضافی مہینے تک خطرناک گرمی کے دباؤ کا سامنا کر سکتے ہیں۔

یہ تحقیق بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے برسلز کی فری یونیورسٹی وی یو بی کی قیادت میں کی ہے اور اسے سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع کیا گیا ہے۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا عالمی تجزیہ ہے جس میں مختلف عمر کے گروپوں پر موسمیاتی تبدیلی سے براہِ راست منسلک گرمی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تحقیق میں موجودہ صورتحال کے ساتھ مستقبل قریب کے ممکنہ منظرناموں کا بھی تجزیہ کیا گیا۔

محققین نے آبادی کے اعداد و شمار کو جدید موسمیاتی ماڈلز اور موسمیاتی انتسابی سائنس کے ساتھ ملا کر تجزیہ کیا۔ اس طریقہ کار کے ذریعے شدید موسمی واقعات میں موسمیاتی تبدیلی کے کردار کا تعین کیا جاتا ہے۔

تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے صحت پر اثرات صرف مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ آج بھی دنیا بھر میں موجود ہیں۔ تاہم، ان کے اثرات مختلف نسلوں اور خطوں میں یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوئے۔

تاہم اب یہ تعداد بڑھ کر 35 کروڑ، یعنی 27 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

بچوں میں گرمی کا خطرہ تقریباً تین گنا بڑھ گیا

تحقیق کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے دنیا بھر میں ایسے بچوں کی تعداد تقریباً تین گنا کردی ہے جو سالانہ کم از کم پانچ ماہ یا 150 دن شدید گرمی کے دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔

اگر موسمیاتی تبدیلی نہ ہوتی تو ایسے بچوں کی تعداد 12 کروڑ، یعنی 9 فیصد ہوتی۔ تاہم اب یہ تعداد بڑھ کر 35 کروڑ، یعنی 27 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

یہ تعداد 60 سے 69 سال عمر کے ان افراد سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے جو سالانہ کم از کم پانچ ماہ گرمی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس عمر کے متاثرہ افراد کی تعداد 12 کروڑ، یعنی 18 فیصد ہے۔

جنوبی ایشیا سمیت غریب ممالک کے بچے زیادہ متاثر

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث مرطوب گرمی میں سب سے بڑا اضافہ گرم خطوں اور غریب ممالک میں ہو رہا ہے۔

ان علاقوں میں آبادی نسبتاً کم عمر ہے اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے، جس کے باعث زیادہ بچے خطرناک گرمی کی زد میں آ رہے ہیں۔

جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور مغربی افریقہ وہ خطے ہیں جہاں آج سب سے زیادہ بچے خطرناک گرمی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

مستقبل میں بھی بچے سب سے زیادہ متاثر رہیں گے

تحقیق کے مطابق عالمی آبادی کے بتدریج بوڑھا ہونے کے باوجود بچے دیگر تمام عمر کے گروپوں کے مقابلے میں گرمی کے خطرات سے غیرمتناسب طور پر زیادہ متاثر رہیں گے۔

1.5 ڈگری سینٹی گریڈ گرم دنیا

0 سے 9 سال عمر کے 62 کروڑ بچے، یعنی 49 فیصد، ہر سال کم از کم ایک اضافی مہینے کی گرمی کے دباؤ کا سامنا کریں گے۔

اس کے علاوہ 39 کروڑ بچے، یعنی 31 فیصد، سالانہ کم از کم پانچ ماہ شدید گرمی کے دباؤ سے متاثر ہوں گے۔

2 ڈگری سینٹی گریڈ گرم دنیا

اس منظرنامے میں 65 کروڑ بچے، یعنی 59 فیصد، ہر سال کم از کم ایک اضافی مہینے کی خطرناک گرمی کا سامنا کریں گے۔

اسی طرح 42 کروڑ بچے، یعنی 37 فیصد، سالانہ کم از کم پانچ ماہ گرمی کے دباؤ سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

مرطوب گرمی بچوں کے لیے زیادہ خطرناک کیوں؟

شدید گرمی انسانی جسم کے معمول کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ یہ پہلے سے موجود بیماریوں کو بگاڑ سکتی ہے اور لو لگنے، پانی کی کمی اور جسم کے اہم اعضا کے ناکارہ ہونے جیسی سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی، جس کی بڑی وجہ تیل، کوئلے اور گیس جیسے فوسل فیولز کا استعمال ہے، خطرناک گرمی کی لہروں کو زیادہ بار بار اور شدید بنا رہی ہے۔

تحقیق میں خاص طور پر مرطوب گرمی پر توجہ دی گئی ہے۔ یہ خشک گرمی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ زیادہ نمی جسم کو پسینے کے ذریعے خود کو ٹھنڈا کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔

اس کے نتیجے میں جسم پر گرمی کا دباؤ خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔

بچے شدید گرمی کے لیے خاص طور پر زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ ان کے جسم بالغوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہوتے ہیں اور وہ مؤثر انداز میں پسینہ نہیں بہا سکتے۔

وہ اپنی حفاظت کے لیے زیادہ تر بڑوں کی دیکھ بھال پر بھی انحصار کرتے ہیں۔

جسم کا زیادہ گرم ہونا پانی کی شدید کمی اور خطرناک حد تک جسمانی درجہ حرارت بڑھنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سیکھنے کی صلاحیت اور ذہنی نشوونما بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

2026 کی شدید گرمی کی لہروں نے خطرے کو نمایاں کردیا

یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مؤثر موسمیاتی پالیسیوں اور فوری اقدامات کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔

توانائی کے جاری بحران نے فوسل فیولز پر انحصار کے خطرات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

رواں سال 2026 میں بھی دنیا نے ریکارڈ کی جانے والی بعض شدید ترین گرمی کی لہروں کا سامنا کیا ہے، جن میں سے بعض موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے بغیر تقریباً ناممکن تھیں۔

ترقی پذیر ممالک کے بچے سب سے زیادہ بے بس ہیں، محققہ

تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور برسلز کی فری یونیورسٹی وی یو بی کی پی ایچ ڈی محقق روزا پیٹروئسٹی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی دنیا بھر میں کروڑوں بچوں کو خطرناک گرمی کا شکار بنا رہی ہے، جس سے ان کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے بچے تاریخی طور پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں سب سے کم حصہ ڈالنے کے باوجود آج اور مستقبل میں موسمیاتی شدت کے غیرمتناسب اثرات برداشت کر رہے ہیں۔

روزا پیٹروئسٹی کے مطابق غربت، نامناسب رہائش، ٹھنڈک کی سہولیات تک محدود رسائی اور صحت کے نظام پر بڑھتا ہوا دباؤ بہت سے بچوں کے لیے شدید گرمی سے تحفظ کے مواقع مزید محدود کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ: شدید موسم کیوں بن رہے ہیں زیادہ تباہ کن؟

پی سی ایف بلوچستان کی شاندار ڈبل کامیابی، فلم فیسٹیول میں پھر پہلی پوزیشن

انہوں نے کہا کہ نوجوان صرف موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ نہیں بلکہ اس بحران سے نمٹنے کی جدوجہد میں بھی صفِ اول میں موجود ہیں۔

ان کے مطابق فرائیڈیز فار فیوچر کے تحت اسکول ہڑتالوں سے لے کر قومی اور بین الاقوامی عدالتوں میں اہم موسمیاتی مقدمات تک، نوجوان موسمیاتی انصاف کے لیے مؤثر آواز اٹھا رہے ہیں۔

روزا پیٹروئسٹی نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کے موسمیاتی انصاف کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیں اور فوری و مؤثر اقدامات کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں