موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی، سیلاب اور خشک سالی لندن کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں، رپورٹ میں فوری اقدامات پر زور دیا گیا۔
فروزاں رپورٹ
لندن: ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر حکومت کی تمام سطحوں پر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو موسمیاتی تبدیلی کے باعث 2050 تک لندن کو ہر سال 15 ارب پاؤنڈ تک کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ دہائیوں میں شدید گرمی کی لہریں، سیلاب اور خشک سالی کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں لندن کے شہریوں کی صحت، معیشت اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
دارالحکومت کے 12 مرکزی بلدیاتی اداروں پر مشتمل شراکت داری سنٹرل لندن فارورڈ (سی ایل ایف) نے گریٹر لندن اتھارٹی (جی ایل اے) پر زور دیا ہے کہ شہر میں مزید سرسبز مقامات قائم کیے جائیں، سیلاب کے خطرات کم کیے جائیں اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی جائے۔
دوسری جانب سٹی ہال کا کہنا ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں، صحت کے شعبے، ٹرانسپورٹ فار لندن (ٹی ایف ایل)، ہنگامی امدادی اداروں اور مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔

شہری گرمی کے جزیرے کا بڑھتا ہوا اثر
رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں لندن ریکارڈ توڑ درجہ حرارت سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ اربن ہیٹ آئی لینڈ کا اثر ہے۔
اس رجحان کے تحت عمارتوں کی کثافت اور کنکریٹ کے ڈھانچے گرمی کو جذب کرکے محفوظ رکھتے ہیں، جس کے باعث شہر کا درجہ حرارت اردگرد کے علاقوں کے مقابلے میں 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ محسوس ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اثر کو کم کرنے کے لیے شہر میں مزید سبزہ اور کھلے مقامات بنانا ضروری ہے۔ تاہم محدود مالی وسائل کے باعث مقامی حکومتوں کے لیے یہ کام آسان نہیں، جبکہ اس حوالے سے کوئی قانونی تقاضا بھی موجود نہیں۔

سماجی رہائش اور نکاسی آب بہتر بنانے کی سفارش
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ سماجی رہائشی منصوبوں کو شدید گرمی کے اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے جدید خطوط پر اپ گریڈ کیا جائے۔
اس کے علاوہ لندن کے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے پرمی ایبل پیونگ جیسی تکنیک اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس طریقے سے بارش کا پانی زمین میں جذب ہو جاتا ہے، جس سے سیلاب کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
موسمیاتی تبدیلی کا راز جاننے چین کی 16ویں آرکٹک مہم
کلائمیٹ فیسٹیول 2026: ماحولیاتی شعور بیدار کرنے پر زور
طویل مدتی فنڈنگ کی ضرورت
سی ایل ایف کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر برائے پالیسی و بیرونی امور چارلی رینزفورڈ نے کہا کہ وسطی لندن کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت زیادہ تر ذمہ داری مقامی حکومتوں پر ہے، لیکن ان کے پاس نہ مستقل مالی وسائل موجود ہیں اور نہ ہی ایک مشترکہ پالیسی فریم ورک دستیاب ہے۔
ان کے مطابق موسمیاتی موافقت کے منصوبوں کے لیے طویل المدتی، مستقل اور بااختیار فنڈنگ فراہم کی جانی چاہیے، جبکہ شہری منصوبہ بندی میں بھی موسمیاتی موافقت کو بنیادی حیثیت دی جانی چاہیے۔

“ہیٹ ریڈی لندن” منصوبہ
لندن کے میئر کے ترجمان کے مطابق گزشتہ ہفتے “ہیٹ ریڈی لندن” کے نام سے ایک طویل المدتی منصوبہ متعارف کرایا گیا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے نمٹنا، حساس شہریوں کا تحفظ، اہم بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور آنے والی دہائیوں میں لندن کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور مستحکم بنانا ہے۔

