کلائمیٹ فیسٹیول 2026 کے ذریعے ماحولیات سے متعلق شعور بیدار کرنے اور کراچی کو زیادہ سرسبز بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
فروزاں رپورٹ
کراچی: پانچویں کلائمیٹ فیسٹیول 2026 کے موقع پر فروزاں کی جانب سے گورنر سندھ نہال ہاشمی، ماہرین ماحولیات، سول سوسائٹی کے نمائندوں، طلبہ، اسکاؤٹس اور دیگر شرکا کو خوش آمدید کہا گیا۔
اس موقع پر کہا گیا کہ گورنر سندھ کی شرکت اس اہم ماحولیاتی اجتماع کی اہمیت اور افادیت میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔

ماحولیات کو عوامی سطح تک پہنچانے کی کوشش
تقریب سے خطاب میں کہا گیا کہ ماحولیات کے عالمی دن کی مناسبت سے فروزاں اور آرٹس کونسل کراچی کے اشتراک سے منعقد ہونے والا کلائمیٹ فیسٹیول اب کراچی کا ایک اہم عوامی اور فکری ایونٹ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوشش رہی ہے کہ ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم موضوعات پر ہونے والی گفتگو صرف کانفرنس ہالوں یا پانچ ستارہ ہوٹلوں تک محدود نہ رہے بلکہ عام شہریوں تک بھی پہنچے۔
اسی مقصد کے تحت ماحولیاتی شعور و آگہی سے متعلق سیمینار، مباحثے اور ثقافتی سرگرمیاں آرٹس کونسل جیسے عوامی پلیٹ فارم پر منعقد کی جا رہی ہیں تاکہ شہری، نوجوان، طلبہ، فنکار اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس مکالمے کا حصہ بن سکیں۔
موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت
خطاب میں کہا گیا کہ آج موسمیاتی تبدیلی محض ایک سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک حقیقت بن چکی ہے۔ دنیا کے مختلف خطے شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، جنگلاتی آگ اور سمندری طوفانوں جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو مزید سنگین ماحولیاتی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان اور کراچی کو درپیش چیلنجز
خطاب میں کہا گیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں اس کا حصہ نہایت کم ہے۔
تباہ کن سیلاب، غیر معمولی گرمی کی لہریں، پانی کی قلت اور موسمی بے ترتیبی اس بحران کی نمایاں علامات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر سندھ، خصوصاً کراچی کی بات کی جائے تو شہر بڑھتی ہوئی آبادی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، فضائی آلودگی، درختوں اور سبزہ زاروں میں کمی، کچرے کے بڑھتے مسائل، آلودہ ندی نالوں اور ساحلی آلودگی جیسے سنگین ماحولیاتی مسائل سے دوچار ہے۔
مزید کہا گیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران شدید ہیٹ ویوز نے نہ صرف شہری زندگی کو متاثر کیا بلکہ صحت عامہ کے لیے بھی بڑے خطرات پیدا کیے ہیں۔

ساحلی شہر ہونے کے باعث اضافی خطرات
خطاب میں کہا گیا کہ کراچی کو سمندر کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے ساحلی کٹاؤ، سمندر کی سطح میں اضافہ اور سمندری ماحولیاتی نظام کو لاحق خطرات جیسے اضافی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں درختوں اور کھلی جگہوں کی کمی کے باعث درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جسے ماہرین اربن ہیٹ آئی لینڈ کا نام دیتے ہیں۔
مشترکہ اقدامات ہی حل ہیں
خطاب میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ یہ چیلنجز ناقابل حل نہیں ہیں۔ اگر حکومت، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے، میڈیا، سماجی تنظیمیں اور شہری مل کر کام کریں تو کراچی کو زیادہ سرسبز، محفوظ اور موسمیاتی تبدیلی کا بہتر مقابلہ کرنے والا شہر بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شجرکاری، پانی کے دانشمندانہ استعمال، صاف توانائی کے فروغ، پائیدار ٹرانسپورٹ اور ماحولیاتی تعلیم کے ذریعے مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
غذر میں دریائی کٹاؤ، درجنوں گھر دریا برد
شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے عوام صرف محکمہ موسمیات پر بھروسہ کریں، امیر حیدر
کلائمیٹ فیسٹیول کا مقصد
خطاب میں کہا گیا کہ کلائمیٹ فیسٹیول کا مقصد ماحولیاتی مسائل کو عوامی بحث کا حصہ بنانا، نوجوان نسل کو اس تحریک میں شریک کرنا اور ایسی اجتماعی سوچ کو فروغ دینا ہے جو ماحول اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کو یقینی بنا سکے۔
اس موقع پر فروزاں کی ٹیم کی جانب سے آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا گیا۔ کہا گیا کہ وہ ماحولیاتی مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور فروزاں کے ساتھ ہمیشہ تعاون کرتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر گورنر سندھ نہال ہاشمی، معزز مہمانوں اور تمام شرکا کا ایک بار پھر خیرمقدم کیا گیا اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ یہ فیسٹیول نہ صرف مکالمے بلکہ عملی اقدامات کی نئی راہیں بھی ہموار کرے گا۔

