موسمیاتی تبدیلی کے اثرات جانچنے چین کی 16ویں آرکٹک مہم روانہ، 361 سائنس دان تین ماہ آرکٹک میں تحقیق کریں گے۔
فروزاں رپورٹ
چین نے 3 جولائی کو آرکٹک سمندر کے لیے اپنی 16ویں سائنسی مہم کا آغاز کر دیا۔ اس مہم کا بنیادی مقصد موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لینا ہے۔
چین کی وزارتِ قدرتی وسائل کے مطابق عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کے باعث آرکٹک خطہ تیزی سے ماحولیاتی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ ان تبدیلیوں میں سمندری برف کا تیزی سے پگھلنا نمایاں ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ آرکٹک میں مسلسل سائنسی تحقیق موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، خطے میں پائیدار ترقی کے فروغ اور آرکٹک کو بہتر طور پر سمجھنے، محفوظ بنانے اور اس کے مؤثر انتظام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

چار تحقیقی جہاز مہم میں شامل
یہ مہم شمال مشرقی چینی شہر دالیان سے روانہ ہوئی ہے۔ اس میں چین کا قدیم آئس بریکر جہاز شیولونگ (سنو ڈریگن)، مقامی طور پر تیار کردہ شیولونگ 2 اور جیدی (پولر) شامل ہیں، جبکہ چوتھا تحقیقی جہاز تانسو-3 (ایکسپلوریشن 3) بھی بعد میں اس مشن کا حصہ بنے گا۔

361 سائنس دان شریک
مہم میں مجموعی طور پر 361 سائنس دان اور محققین شریک ہیں۔ اس کی قیادت وانگ جن ہوئی کر رہے ہیں، جنہوں نے 2025 میں مکمل ہونے والی چین کی 41ویں انٹارکٹک سائنسی مہم کی بھی سربراہی کی تھی۔

تین ماہ تک جامع تحقیق
یہ آرکٹک مشن اکتوبر کے اوائل میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ تقریباً تین ماہ کے دوران ماہرین آرکٹک سمندر کے اہم علاقوں میں سمندری برف، آبی نظام، حیاتیات، ماحولیاتی نظام اور فضائی حالات کا جامع سروے اور مسلسل مشاہدہ کریں گے۔
اس دوران سائنس دان گاکل رج کے پھیلاؤ کے طریقۂ کار اور سمندری کرسٹ کی ارتقائی تبدیلیوں جیسے جدید سائنسی موضوعات پر بھی تحقیق کریں گے۔ مہم کے دوران روس، جرمنی اور دیگر ممالک کے محققین کے ساتھ مشترکہ سائنسی سرگرمیاں بھی انجام دی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں
کلائمیٹ فیسٹیول 2026: ماحولیاتی شعور بیدار کرنے پر زور
غذر میں دریائی کٹاؤ، درجنوں گھر دریا برد
پانچ سالہ منصوبے کے تحت پہلی مہم
یہ مہم چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے تحت آرکٹک میں بھیجی جانے والی پہلی سائنسی مہم ہے۔ اس منصوبے میں قطبی تحقیق کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، سائنسی و تکنیکی جدت کو فروغ دینا اور بحری معیشت کی ترقی کو اہم اہداف قرار دیا گیا ہے۔

