Environmental News Farozaan

سویڈن میں موسمیاتی احتجاج، حکومت دباؤ میں

Climate Protest in Sweden, Government Under Pressure

موسمیاتی احتجاج: سویڈن میں 23 اگست کو 100 سے زائد تنظیمیں حکومتی موسمیاتی پالیسیوں کے خلاف مل کر مظاہرہ کریں گی۔

اسٹاک ہوم: سویڈن میں ستمبر میں ہونے والے عام انتخابات سے چند ہفتے قبل 100 سے زائد تنظیموں نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بڑے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد حکومت پر کاربن ڈائی آکسائیڈ (سی او ٹو) کے اخراج میں کمی سے متعلق اپنے وعدے پورے نہ کرنے پر تنقید مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

وزیراعظم اُلف کرسٹرسن کی دائیں بازو کی حکومت نے پیٹرول پر ٹیکس کم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ پیٹرول فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے کم کاربن ایندھن کی لازمی آمیزش کی شرح بھی کم کر دی گئی ہے۔ ان فیصلوں پر ماحولیاتی ماہرین نے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق موجودہ حکومت کو عوامی حمایت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔

احتجاج کا اعلان

سویڈش سوسائٹی فار نیچر کنزرویشن کی نمائندہ بیٹریس رِنڈیوال، جو احتجاج کی منتظمین میں شامل ہیں، نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاستدان شہریوں کی آواز سنیں۔ ان کے مطابق فوسل فیول پر انحصار ختم کرنے اور موسمیاتی بحران سے محفوظ مستقبل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

یہ احتجاج 23 اگست کو دارالحکومت اسٹاک ہوم میں کیا جائے گا، جبکہ ملک میں عام انتخابات 13 ستمبر کو ہوں گے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق موجودہ حکومت کو عوامی حمایت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔

100 سے زائد تنظیموں کی شمولیت

منتظمین کے مطابق احتجاج میں 100 سے زائد تنظیمیں شریک ہوں گی۔ ان میں محققین، نوجوانوں کی تنظیمیں، کھیلوں کی انجمنیں، مزدور یونینیں، دیہی اور آؤٹ ڈور تنظیمیں، مذہبی برادریاں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں شامل ہیں۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ سویڈن کی تاریخ میں پہلی بار سول سوسائٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 100 سے زائد تنظیمیں موسمیاتی تحفظ کے لیے اس سطح پر متحد ہوئی ہیں۔

حکومتی اہداف اور اختلاف

سویڈن نے 2030 تک 2010 کی سطح کے مقابلے میں ٹرانسپورٹ کے شعبے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 70 فیصد کمی لانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، جبکہ 2045 تک خالص صفر (نیٹ زیرو) اخراج حاصل کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

تاہم حکومت نے حال ہی میں ایک سرکاری کمیشن کی ان سفارشات کو مسترد کر دیا جن میں 2030 کے اہداف حاصل کرنے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس بڑھانے اور فوسل فیول کا مرحلہ وار خاتمہ کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

دیامر میں آسمانی بجلی کے بعد تباہ کن سیلاب

یومِ عاشورہ: گلگت میں گرین عاشورہ مہم، 500 پودے مفت تقسیم

حکومت کا مؤقف

سویڈن کی وزارتِ موسمیاتی امور کا کہنا ہے کہ فوسل فیول کا بتدریج خاتمہ اس انداز میں ہونا چاہیے جس سے ملک اور اس کی کمپنیوں کی مسابقت برقرار رہے اور مزید مضبوط ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں