کراچی کو موسمیاتی آفات سے محفوظ بنانے کے لیے مقامی اختیارات، درست ڈیٹا اور مؤثر منصوبہ بندی ناگزیر، ماہرین کا زور
آصف جنیدی

کراچی: اربن پلانر اور ریسرچر محمد توحید نے کہا ہے کہ جب تک موسمیاتی خطرات سے متعلق درست میپنگ اور جامع ڈیٹا اکٹھا نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک کیے جانے والے بیشتر اقدامات وسائل اور پیسے کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہوں گے۔
کراچی کلائمیٹ فیسٹیول کے ایک پینل مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2015 کی ہیٹ ویو نے یہ واضح کر دیا تھا کہ شہر میں شدید گرمی جیسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی مؤثر اور منظم نظام موجود نہیں تھا۔
2015 ہیٹ ویو اور اعداد و شمار کا بڑا فرق
محمد توحید کے مطابق حکومتی سطح پر ہیٹ ویو سے اموات کی تعداد تقریباً 1200 بتائی گئی، جبکہ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی تنظیموں اور افراد کے مطابق یہ تعداد 5 سے 6 ہزار کے درمیان تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس بڑے فرق نے مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا۔ صرف 1200 اموات کو بنیاد بنا کر پالیسی سازی کی گئی، جبکہ دیگر متاثرین کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب نہ ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ متاثرہ آبادیوں، جنس، علاقوں اور خطرات کے درست تجزیے میں مشکلات پیش آئیں۔

مقامی حکومتوں کے پاس اختیارات ہونے چاہئیں
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی، ہیٹ ویوز اور اربن فلڈنگ جیسے مسائل سے نمٹنا مقامی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں یہ اختیارات زیادہ تر صوبائی اداروں کے پاس ہیں۔
ان کے مطابق مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندے عوام کے زیادہ قریب ہوتے ہیں، اس لیے وہ ایسے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ اور حل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی مختلف اداروں میں تقسیم ہے اور ان کے درمیان مؤثر رابطہ کاری بھی موجود نہیں، جس کی وجہ سے موسمیاتی آفات سے نمٹنے کا مضبوط نظام تشکیل نہیں پا سکا۔

ہیٹ مینجمنٹ پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہو سکا
محمد توحید نے بتایا کہ 2017 میں ایک ہیٹ مینجمنٹ پلان تیار کیا گیا تھا جس کے مقاصد مثبت تھے۔ محکمہ موسمیات نے الرٹ سسٹم کو بہتر بھی بنایا، تاہم ادارہ جاتی سطح پر طے شدہ اقدامات مکمل طور پر نافذ نہ کیے جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کے مطابق ہیٹ الرٹ کے دوران پانی کی فراہمی اور بجلی کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جانی تھی، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔
اگر آج بھی اس پلان پر مکمل عملدرآمد کر لیا جائے تو صورتحال میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
کراچی میں راتوں کا درجہ حرارت زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے
انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں تقریباً 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہو چکا ہے۔ محکمہ موسمیات کے 60 سالہ ڈیٹا کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ کراچی میں دن کا درجہ حرارت 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ زیادہ تشویشناک صورتحال رات کے درجہ حرارت میں 2.4 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کی ہے، جس کی وجہ سے شہر میں راتیں پہلے کی طرح ٹھنڈی نہیں رہیں۔
کراچی نے 20 سال میں 40 فیصد سبزہ کھو دیا
محمد توحید نے کہا کہ 20 سال کے سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق کراچی کا 40 فیصد گرین کور ختم ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق ملیر ریور کے اطراف موجود سبزہ ختم ہو گیا، گٹر باغیچہ جیسے بڑے گرین ایریاز پر ہاؤسنگ اسکیمیں قائم ہو گئیں، ملیر کا جعفر باغ آبادی میں تبدیل ہو گیا جبکہ کورنگی کی زرعی زمینیں بھی ختم ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف درخت لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس عمل کو پانی، بجلی اور شہری منصوبہ بندی سے جوڑنا ہوگا۔ ساتھ ہی ان علاقوں کی نشاندہی بھی ضروری ہے جہاں ہیٹ ویو کے اثرات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔
کم آمدنی والے علاقوں کو ترجیح دینے کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ کراچی میں شجرکاری کا زیادہ تر فوکس ڈیفنس سے گلشن اقبال تک محدود رہتا ہے، جبکہ مضافاتی اور کم آمدنی والے علاقوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق یہی وہ علاقے ہیں جہاں گرمی کی شدت زیادہ، گھروں کا حجم چھوٹا، ہوا کی آمدورفت محدود، لوڈشیڈنگ طویل اور پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔ ایسے علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک درست میپنگ اور ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی نہیں کی جائے گی، تمام اقدامات مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں گے۔
کولنگ سینٹرز اور ہیٹ امپیکٹ اسسمنٹ وقت کی ضرورت
محمد توحید نے کہا کہ کراچی کی 65 فیصد آبادی کم آمدنی والے علاقوں میں رہتی ہے، اس لیے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں گرین اسپیسز اور پارکس بڑھانے، بس اسٹاپس کو سایہ دار بنانے اور نئی عمارتوں کے لیے “ہیٹ امپیکٹ اسسمنٹ” کو لازمی قرار دینے کی ضرورت ہے، جیسا کہ دنیا کے کئی ممالک میں کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق کولنگ سینٹرز کا قیام، ہیٹ الرٹس کے دوران اسپتالوں میں فوری طبی سہولیات کی فراہمی اور مزدوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے لیبر قوانین کا ازسرنو جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں
پانچواں کراچی کلائیمٹ فیسٹیول: گورنر سندھ کا بڑا بیان
عوام بھی اپنا کردار ادا کریں
محمد توحید نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں، گھروں کی چھتوں پر سبزہ اگایا جائے اور اگر ممکن ہو تو چھتوں پر وائٹ واش کیا جائے تاکہ سورج کی حرارت منعکس ہو اور گرمی کے اثرات کم کیے جا سکیں۔

