عالمی یومِ بحر 2026: پلاسٹک آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور سمندری حیات کو لاحق خطرات پر ماہرین نے فوری اقدامات کا مطالبہ کر دیا۔
سید خرم جمال ، سمندری تحفظ کے حامی
ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں عالمی یومِ بحر منایا جاتا ہے تاکہ سمندروں کی اہمیت، ان کو درپیش خطرات اور ان کے تحفظ کی ضرورت کے بارے میں شعور اجاگر کیا جا سکے۔
عالمی یومِ بحر 2026 ایک ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب دنیا موسمیاتی تبدیلی، پلاسٹک آلودگی، سمندری حیاتیات کے خاتمے اور سمندری سطح میں اضافے جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
رواں سال عالمی یومِ بحر کا موضوع “ری امیجن” رکھا گیا ہے، جو انسانیت کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ سمندروں کے ساتھ اپنے تعلق کو نئے سرے سے تشکیل دے۔
یہ موضوع یاد دلاتا ہے کہ سمندر صرف آبی ذخائر نہیں بلکہ کرۂ ارض کے ماحولیاتی توازن، غذائی تحفظ، معاشی ترقی اور موسمیاتی استحکام کا بنیادی ذریعہ ہیں۔
سمندر زمین کے تقریباً 71 فیصد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور انسانی زندگی میں ناگزیر کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق زمین کی نصف سے زیادہ آکسیجن سمندری پودوں اور خوردبینی جانداروں کے ذریعے پیدا ہوتی ہے، جبکہ اربوں افراد کی خوراک، روزگار اور معاشی سرگرمیاں براہِ راست سمندروں سے وابستہ ہیں۔

عالمی یومِ سمندر کی تاریخ
عالمی یومِ بحرکا تصور پہلی بار 1992 میں برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہونے والے ارتھ سمٹ میں پیش کیا گیا تھا۔
بعد ازاں اقوام متحدہ نے 2008 میں 8 جون کو باضابطہ طور پر عالمی یومِ سمندر کے طور پر تسلیم کیا۔
اس دن کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ سمندر صرف پانی کے وسیع ذخائر نہیں بلکہ زمین کے ماحولیاتی نظام کا بنیادی ستون ہیں۔

سمندر کیوں اہم ہیں؟
سمندر زمین کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ فضا میں موجود اضافی حرارت کا تقریباً 90 فیصد جذب کرتے ہیں، جس سے موسمیاتی نظام نسبتاً مستحکم رہتا ہے۔
اسی طرح سمندر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار جذب کرکے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
دنیا کی تقریباً 40 فیصد آبادی ساحلی علاقوں میں رہتی ہے، جبکہ تین ارب سے زائد افراد اپنی غذائی ضروریات کے لیے سمندری وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہی گیری، سیاحت، شپنگ اور بندرگاہی سرگرمیاں عالمی معیشت کے اہم شعبے ہیں، جن کا دارومدار سمندروں پر ہے۔

سمندروں کو درپیش بڑے خطرات
پلاسٹک آلودگی
آج سمندروں کو سب سے بڑا خطرہ پلاسٹک فضلے سے لاحق ہے۔ ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک سمندروں میں پہنچ جاتا ہے، جہاں یہ صدیوں تک موجود رہتا ہے۔
پلاسٹک کے ذرات مچھلیوں، کچھوؤں، ڈولفنز اور دیگر سمندری حیات کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق مائیکرو پلاسٹک اب سمندری غذا، پینے کے پانی اور حتیٰ کہ انسانی خون میں بھی پایا جا رہا ہے، جو صحت کے لیے ایک نئے عالمی خطرے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی
عالمی حدت میں اضافے کے باعث سمندری پانی کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں مرجان کی چٹانیں تباہ ہو رہی ہیں اور سمندری حیاتیاتی تنوع متاثر ہو رہا ہے۔
سمندروں کے گرم ہونے سے طوفانوں کی شدت اور تباہ کاریوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
سمندری سطح میں اضافہ
گلیشیئرز اور قطبی برف پگھلنے کے باعث سمندری سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے ساحلی شہر، جزائر اور کم بلندی والے علاقے خطرات سے دوچار ہیں۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں لاکھوں افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

بے تحاشا ماہی گیری
غیر قانونی اور بے تحاشا ماہی گیری بھی سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
بعض اقسام کی مچھلیاں معدومیت کے دہانے تک پہنچ گئی ہیں، جس سے خوراک کے عالمی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
پاکستان اور سمندری وسائل
پاکستان کو تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی حاصل ہے، جو سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں پر مشتمل ہے۔
کراچی، گوادر، اورماڑہ اور پسنی جیسے ساحلی شہر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بحیرہ عرب پاکستان کے لیے ماہی گیری، تجارت اور روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی بلیو اکانومی میں بے پناہ امکانات موجود ہیں، تاہم آلودگی، غیر قانونی ماہی گیری اور ساحلی ماحولیاتی نظام کی تباہی ان امکانات کو محدود کر رہی ہے۔
کراچی کے ساحلی علاقوں میں صنعتی فضلہ، سیوریج اور پلاسٹک کچرے کی بڑی مقدار سمندر میں شامل ہو رہی ہے، جس سے سمندری حیات اور انسانی صحت دونوں متاثر ہو رہی ہیں۔

مینگرووز: ساحلی محافظ
پاکستان کے ساحلی علاقوں میں موجود مینگرووز کے جنگلات قدرتی حفاظتی دیوار کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ سمندری طوفانوں، ساحلی کٹاؤ اور سیلاب کے اثرات کم کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ یہ کاربن جذب کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں، جو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک مؤثر قدرتی دفاع ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں مینگرووز کی بحالی کے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں، تاہم ان جنگلات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
سمندروں کے تحفظ کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟
سمندروں کا تحفظ صرف حکومتوں یا بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد اس میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
پلاسٹک کے استعمال میں کمی لائی جائے۔
ساحلوں اور آبی گزرگاہوں میں کچرا پھینکنے سے گریز کیا جائے۔
ماحول دوست مصنوعات کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔
سمندری حیات کے تحفظ کے پروگراموں کی حمایت کی جائے۔
نوجوانوں اور طلبہ میں سمندری ماحولیات سے متعلق آگاہی بڑھائی جائے۔
پائیدار ماہی گیری کے اصولوں کو اپنایا جائے۔
یہ اقدامات سمندری ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
کراچی میں خطرناک ہیٹ ویو کب سے شروع ہوگی؟
موسمیاتی لچک، ترقی کے لیے ناگزیر
راول جھیل سے اسپتال کا خطرناک فضلہ اور پلاسٹک کچرا برآمد
مستقبل کا راستہ
اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں ہدف نمبر 14 سمندری وسائل کے تحفظ اور پائیدار استعمال پر زور دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی برادری نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلوں کو سنگین ماحولیاتی، معاشی اور سماجی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عالمی یومِ سمندر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سمندر صرف قدرتی وسائل نہیں بلکہ زندگی کے ضامن ہیں۔
ان کا تحفظ دراصل ہماری بقا، خوراک، معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تحفظ ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں، کاروباری ادارے، ماہرینِ ماحولیات اور عام شہری مل کر سمندروں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں، کیونکہ اگر سمندر محفوظ ہوں گے تو زمین پر زندگی بھی محفوظ رہے گی۔
