جامعہ کراچی، صوبہ سندھ میں زیرو لیکوئڈ ڈسچارج (ZLD) منصوبے کی سائٹ
مؤثر واش نظام وہی ہے۔ جو معاشرے کے تمام طبقات کی ضروریات کو مدنظر رکھے۔ خصوصاً خصوصی افراد اور گروہوں کو بنیادی سہولتیں حاصل ہوں۔
اسلام آباد: صاف پانی، محفوظ سینیٹیشن اور حفظانِ صحت (واش) کی سہولتیں ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہیں۔ لیکن پاکستان میں ان سہولتوں تک رسائی اب بھی یکساں دکھائی نہیں دیتی۔ خواتین، لڑکیاں، معذور افراد اور دیگر محروم طبقات کو نہ صرف واش سہولتوں کے حصول میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ بلکہ فیصلہ سازی اور گورننس کے عمل میں بھی ان کی نمائندگی محدود ہے۔
یہی صورتحال پانی، سینیٹیشن اور حفظانِ صحت کے نظام میں صنفی مساوات، معذوری اور سماجی شمولیت کو مرکزی حیثیت دینے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
واٹر ایڈ پاکستان کے مطابق پائیدار اور مؤثر واش نظام وہی ہے۔ جو معاشرے کے تمام طبقات کی ضروریات کو مدنظر رکھے۔ خصوصاً خصوصی افراد اور گروہوں کو بنیادی سہولتیں حاصل ہوں- ایسے افراد اور گروہوں جو تاریخی، سماجی، معاشی یا جسمانی رکاوٹوں کے باعث بنیادی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔ جو اس پوزیشن پیپر کا بنیادی نقطہ ہے۔
پاکستان کو صنفی عدم مساوات اور بنیادی واش سہولتوں تک غیر مساوی رسائی جیسے اہم مسائل کا سامنا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 2 کروڑ 34 لاکھ افراد اپنے گھروں کے قریب صاف پانی سے محروم ہیں۔ جبکہ 7 کروڑ سے زائد افراد کو مناسب سینیٹیشن کی سہولیات میسر نہیں۔ لاکھوں گھرانوں میں ہاتھ دھونے کی بنیادی سہولت بھی موجود نہیں۔
ان محرومیوں کا اثر معاشرے کے تمام افراد پر یکساں نہیں پڑتا۔ خواتین اور لڑکیوں کو پانی جمع کرنے، گھر کی صفائی اور نگہداشت کی غیر معاوضہ ذمہ داریوں کا بڑا حصہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب معذور افراد کو اکثر ایسی سہولتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو ان کی جسمانی ضروریات کے مطابق قابلِ رسائی نہیں ہوتیں۔
سماجی رویے، ناقابلِ رسائی انفراسٹرکچر اور فیصلہ سازی کے عمل میں محدود نمائندگی ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
صنفی مساوات، معذوری اور سماجی شمولیت کو واش پالیسیوں اور پروگراموں کا حصہ بنانا صرف نمائندگی کا مسئلہ نہیں ۔ بلکہ صحت، تعلیم، معاشی مواقع اور انسانی وقار سے براہِ راست جڑا ہوا معاملہ ہے۔
واٹر ایڈ کے ایکویٹی، انکلوژن اینڈ رائٹس فریم ورک کے مطابق پائیدار واش نظام کے لیے ان ساختی عدم مساوات کو دور کرنا ضروری ہے۔ جو محروم طبقات کو بنیادی سہولیات تک رسائی سے روکتی ہیں۔
عالمی سطح پر تقریباً 2.1 ارب افراد محفوظ پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ جبکہ 3.4 ارب افراد کو محفوظ سینیٹیشن کی سہولیات دستیاب نہیں۔ مزید برآں، تقریباً 1.7 ارب افراد کے پاس ہاتھ دھونے کی بنیادی سہولت موجود نہیں۔
پانی کی فراہمی کی کمی کا بوجھ بھی بڑی حد تک خواتین اور لڑکیوں پر پڑتا ہے۔ وہ روزانہ بڑی مقدار میں وقت پانی جمع کرنے میں صرف کرتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں میں ان کی شرکت متاثر ہو سکتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی نے واش کے مسائل کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ سیلاب، خشک سالی، بارشوں کے بدلتے ہوئے پیٹرن اور پانی کے وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ ایسے عوامل ہیں۔ جو صاف پانی اور سینیٹیشن کی دستیابی کو متاثر کرتے ہیں۔
ان حالات میں پہلے سے محروم طبقات مزید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس وسائل کے استعمال اور مقامی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے محدود مواقع ہوتے ہیں۔
صحت کے مراکز میں ناقص واش سہولتیں بھی تشویش ناک بات ہیں۔ صاف پانی، مناسب سینیٹیشن اور ہاتھ دھونے کی سہولتوں کی کمی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے ۔اور مریضوں، صحت کے کارکنوں اور دیکھ بھال کرنے والوں کی حفاظت کو متاثر کر سکتی ہے۔
واٹر ایڈ پاکستان اپنی کنٹری پروگرام اسٹریٹیجی 2028-2023 کے تحت ایسے واش نظام کے فروغ پر زور دیتا ہے۔ جو شمولیاتی ہونے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔
جی ای ڈی ایس آئی پر مبنی واش نظام کی بنیاد ایسے انفراسٹرکچر پر ہے۔ جو خواتین، لڑکیوں، معذور افراد اور دیگر صارفین کی مختلف ضروریات کو سمجھتے ہوئے تیار کیا جائے۔
اسکولوں، صحت کے مراکز اور کمیونٹیز میں ایسے واش ماڈلز کی ضرورت ہے۔ جو محفوظ، قابلِ رسائی اور صنفی لحاظ سے حساس ہوں۔ اس میں معذور افراد کے لیے قابلِ رسائی واش سہولتوں کا حصول شامل ہے۔ جبکہ موسمیاتی خطرات کے مقابلے کی صلاحیت رکھنے والا انفراسٹرکچر اور ماہواری کی صحت و صفائی کے لیے مناسب انتظامات بھی اس کا حصہ ہیں۔
خصوصاً لڑکیوں کے لیے اسکولوں میں ماہواری کے دوران محفوظ اور باوقار ماحول کی فراہمی لازمی ہے۔ جو ان کی تعلیم جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ماہواری کی صحت اور صفائی (ایم ایچ ایم) بھی شمولیاتی واش پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسکولوں میں مناسب سینیٹیشن، پانی اور صفائی بنیادی انتظامات ہیں جو لازمی ہیں۔ جبکہ ماہواری سے متعلق فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے انتظامات بھی ضروری ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ماہواری سے جڑے سماجی تصورات اور بدنامی کو کم کرنے کے لیے لڑکوں اور مردوں کو بھی آگاہی کے عمل میں شامل کرنا ضروری ہے۔
نظام کی سطح پر، واٹر ایڈ پاکستان نے سندھ اور بلوچستان کے (ای ایم آئی ایس ) تعلیمی انتظامی معلوماتی نظام میں (ایم ایچ ایم ) ماہواری کے دوران حفظانِ صحت کا انتظام سے متعلق اشاریوں کی شمولیت میں معاونت کی ہے۔ اس اقدام سے اسکولوں میں ماہواری سے متعلق صحت کی صورتحال کی نگرانی کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔
واٹر ایڈ پاکستان کے کام میں مقامی سطح پر خواتین کی شمولیت اور قیادت کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔
ضلع بدین میں خواتین کی زیرِ قیادت اوور سائٹ کمیٹی کے ذریعے خواتین کے واش سے متعلق مسائل کو ضلعی حکام تک پہنچایا گیا۔ اس عمل کے نتیجے میں بدین شہر کے بازار میں خواتین کے لیے عمومی بیت الخلاء کی تعمیر ممکن ہوئی۔
اسی طرح ضلع لودھراں میں ڈسٹرکٹ ویمن واش فورم قائم کیا گیا۔ جس میں کونسلرز، اساتذہ، ہیلتھ ورکرز اور کمیونٹی لیڈرز شامل ہیں۔ اس فورم کا مقصد مقامی واش ترجیحات کے لیے خواتین کی آواز کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ جب مقامی کمیونٹیز، خصوصاً خواتین، فیصلہ سازی میں مؤثر انداز سے شامل ہوتی ہیں۔ تو واش سے متعلق مقامی ضروریات کو پالیسی اور عملی اقدامات سے جوڑنے کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔
:یہ بھی پڑھیں
واش پروجیکٹ سے ماحولیاتی تحفظ جیسے اہم اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں
خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ، موسمیاتی نگرانی بھی خطرے میں؟
واش سیکٹر میں خواتین کی شمولیت صرف صارفین کے طور پر نہیں۔ بلکہ ماہرین، کارکنوں، فیصلہ سازوں اور کاروباری افراد کے طور پر بھی ضروری ہے۔
خواتین کی فنی مہارت، قیادت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ واش کے شعبے کو مزید متنوع بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسی طرح خواتین کمیونٹی ورکرز اور واش سے وابستہ کاروباری خواتین کی حمایت مقامی سطح پر خدمات کی فراہمی اور معاشی مواقع دونوں کو تقویت دے سکتی ہے۔
پاکستان میں جی ای ڈی ایس آئی پر مبنی واش نظام کے لیے پالیسی، مالیات، صلاحیت سازی اور جوابدہی کے شعبوں میں مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔
قومی اور صوبائی واش پالیسیوں، منصوبوں اور بجٹ میں صنفی مساوات، معذوری کی شمولیت اور موسمیاتی لچک کو باقاعدہ ترجیح دی جانی چاہیے۔ واش گورننس میں خواتین، لڑکیوں، معذور افراد اور خواجہ سراؤں کی باامعنی شرکت کے لیے بھی مؤثر طریقہ کار تشکیل دینا ضروری ہے۔
مالی وسائل کی سطح پرجی ڈی ایس آئی کے لیے مخصوص فنڈنگ، بجٹ کی شفاف نگرانی اور تمام صارفین کی ضروریات کے مطابق قابلِ رسائی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اہم ہے۔
اس کے ساتھ سرکاری واش اداروں اور متعلقہ پیشہ ور افراد کی استعداد بڑھانا ضروری ہے۔ لیکن ایسا الگ الگ ڈیٹا جمع کرنے کی ضرورت ہے ۔ جس سے جنس، معذوری اور دیگر متعلقہ عوامل کے اعتبار سے واش سہولیات تک رسائی کا بہتر جائزہ لیا جا سکے۔
جوابدہی کے لیے سرکاری اور نجی سروس فراہم کرنے والوں کے درمیان جی ای ڈی ایس آئی معیار پر عملدرآمد کی نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔ صحت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور سماجی تحفظ کے شعبوں کے درمیان تعاون اس عمل کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔
واش صرف پانی کے نل، بیت الخلاء یا ہاتھ دھونے کی سہولت کا نام نہیں۔ بلکہ یہ انسانی صحت، وقار، تعلیم، معاشی مواقع اور سماجی مساوات سے جڑا ہوا بنیادی شعبہ ہے۔
اگر واش پالیسیوں اور پروگراموں میں خواتین، لڑکیوں، معذور افراد اور دیگر محروم طبقات کی ضروریات اور آوازوں کو شامل نہ کیا جائے۔ تو پائیدار اور منصفانہ واش نظام کا مقصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکتا۔
واٹر ایڈ پاکستان کے پوزیشن میں جی ای ڈی ایس آئی پر مبنی نقطۂ نظر اس بات پر زور دیتا ہے۔ کہ شمولیت کو محض ایک اضافی جزو کے بجائے واش گورننس، منصوبہ بندی، بجٹ، انفراسٹرکچر اور جوابدہی کے بنیادی حصے کے طور پر دیکھا جائے۔
عالمی یومِ اوزون 2026 پر ماہرین نے اوزون کے تحفظ، توانائی کی بچت اور ماحول…
سجاول، بدین اور ٹھٹھہ میں مہمان پرندوں کے تحفظ کے لیے دفعہ 144 نافذ، جال…
خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ پر چین کی مخالفت، بڑھتی عسکری کشیدگی سے موسمیاتی مشاہدے…
موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات، شدید سیلاب، گرمی کی لہروں اور خوراک کے بحران کے…
ایئر کنڈیشننگ کا استعمال 2050 تک 5.6 ارب یونٹس، بجلی کی طلب اور گرین ہاؤس…
اقوام متحدہ کا موسمیاتی انتباہ، یورپ میں شدید موسم سے معاشی و سلامتی کے خطرات،…
This website uses cookies.