Videos

ماحولیاتی تباہی منافع بن گئی، ٹیکس نظام خاموش

ماحولیاتی تباہی موجودہ عالمی معاشی نظام میں سستی، قدرتی وسائل کا استحصال منافع بخش اور فطرت کا تحفظ غیر ترجیحی بنا دیا گیا

یہ اب کسی سائنسی بحث کا موضوع نہیں رہا کہ زمین خطرے میں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ زمین کو نقصان پہنچانے والوں کو اب تک جواب دہ کیوں نہیں بنایا گیا۔

دنیا اس وقت ماحولیاتی بربادی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ اس کی وجہ قدرتی نہیں بلکہ انسانی، معاشی اور ریاستی غفلت ہے۔ اسی تناظر میں اقوام متحدہ کی رپورٹ ٹیکسز فار نیچرایک واضح پیغام دیتی ہے کہ دنیا نے فطرت کو نقصان پہنچا کر ترقی حاصل کی، مگر اب اس کا حساب دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

ماحولیاتی تباہی: ایک معاشی جرم

رپورٹ کے مطابق موجودہ عالمی معاشی نظام میں آلودگی سستی، قدرتی وسائل کا استحصال منافع بخش اور فطرت کا تحفظ غیر ترجیحی بنا دیا گیا ہے۔

یہ صرف پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ ایک منظم معاشی مسئلہ ہے۔ کاربن کا اخراج کرنے والے فائدہ اٹھاتے ہیں، جنگلات کاٹنے والے سبسڈی لیتے ہیں اور آلودگی پھیلانے والے ٹیکس رعایت حاصل کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام یو این انوائرمنٹ پروگرام کے مطابق فطرت کے تحفظ کے لیے سالانہ 700 سے 800 ارب ڈالر درکار ہیں، جبکہ موجودہ سرمایہ کاری اس سے کہیں کم ہے۔

کاربن ٹیکس: مؤثر یا علامتی؟

رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر صرف 23 فیصد کاربن اخراج پر کوئی قیمت عائد ہے، اور جہاں قیمت ہے وہاں بھی یہ اتنی کم ہے کہ صنعتوں کے رویّے تبدیل نہیں ہو رہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ بھی تسلیم کرتا ہے کہ اگر کاربن کی اصل ماحولیاتی قیمت مقرر کی جائے تو فوسل فیول کا استعمال کم ہو سکتا ہے۔

مگر مسئلہ تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ حکومتیں معاشی دباؤ اور سیاسی مفادات کے باعث سخت فیصلے نہیں کر پاتیں۔

عالمی سطح پر صرف 23 فیصد کاربن اخراج پر کوئی قیمت عائد ہے، اور جہاں قیمت ہے وہاں بھی یہ اتنی کم ہے کہ صنعتوں کے رویّے تبدیل نہیں ہو رہے

فطرت دشمن سبسڈیز: ایک عالمی تضاد

رپورٹ کا ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ دنیا ہر سال 7 ٹریلین ڈالر سے زائد ایسی سبسڈیز دیتی ہے جو براہِ راست ماحول کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

یہ سبسڈیز تیل، گیس، کوئلہ، کیمیائی زراعت اور صنعتی ماہی گیری کو دی جاتی ہیں۔

یہ سوال اہم ہے کہ فطرت کو بچانے کے لیے وسائل محدود کیوں ہیں، جبکہ اسے نقصان پہنچانے کے لیے اخراجات بے دریغ کیے جاتے ہیں۔

حیاتیاتی تنوع: نظر انداز ہوتا بحران

اقوام متحدہ کے مطابق ایک ملین سے زائد انواع معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ادارہ آئی پی بی ای ایس خبردار کر چکا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو عالمی غذائی نظام عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔

اس کے باوجود حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مالیاتی اقدامات اب بھی ناکافی ہیں۔

امیر اور غریب: ماحولیاتی ناانصافی

رپورٹ کے مطابق دنیا کا امیر ترین 10 فیصد طبقہ 50 فیصد سے زائد کاربن اخراج کا ذمہ دار ہے، جبکہ غریب طبقہ سب سے زیادہ اثرات برداشت کرتا ہے۔

اسی لیے سفارش کی گئی ہے کہ نجی جیٹس، لگژری گاڑیوں اور غیر ضروری کھپت پر ماحولیاتی ٹیکس عائد کیے جائیں۔

یہ دراصل ماحولیاتی انصاف کا سوال ہے۔

یہ بھی پڑھیں

موسمیاتی تبدیلی اور میڈیا کا کردار: عوامی رائے کی تشکیل میں معلومات، شعور کی اہمیت

جنگوں کی آگ میں زمین کی خاموش تباہی؎

دنیا کا امیر ترین 10 فیصد طبقہ 50 فیصد سے زائد کاربن اخراج کا ذمہ دار ہے، جبکہ غریب طبقہ سب سے زیادہ اثرات برداشت کرتا ہے۔

ترقی پذیر ممالک کا مؤقف

رپورٹ اس تاثر کو رد کرتی ہے کہ ترقی پذیر ممالک ماحولیاتی بحران کے ذمہ دار ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ممالک کم اخراج کے باوجود زیادہ نقصان برداشت کر رہے ہیں۔

اسی لیے ڈیٹ فار نیچر سویپس اور موسمیاتی انصاف پر مبنی فنڈنگ جیسے اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔

پاکستان: پالیسی اور حقیقت

پاکستان میں اینٹوں کے بھٹے، سیمنٹ، کوئلہ اور کیمیائی زراعت ماحولیاتی نقصان کا سبب بن رہے ہیں، مگر ان پر ماحولیاتی ٹیکس نہ ہونے کے برابر ہے۔

سبسڈیز جاری ہیں اور ریگولیٹری نظام کمزور ہے۔

یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان فطرت کے تحفظ کے لیے مضبوط معاشی فیصلے کرنے کو تیار ہے۔

نتیجہ: فیصلہ کن وقت

ٹیکسز فار نیچر ایک اہم رپورٹ ہے، مگر اس پر عمل درآمد ہی اصل امتحان ہے۔

اگر ریاستیں کمزور رہیں، کارپوریشنز قانون سے بالاتر رہیں اور ٹیکس کا بوجھ عام شہری پر منتقل ہوتا رہا تو صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔

یہ وقت ماحولیاتی انصاف، معاشی احتساب اور سیاسی جرات کا ہے۔

یا تو آلودگی کو مہنگا بنایا جائے اور فطرت کو معاشی قدر دی جائے، یا پھر زمین ایسا نقصان دے گی جسے کوئی بجٹ، کوئی ٹیکس اور کوئی ادارہ پورا نہیں کر سکے گا۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

20 hours ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.