Farozaan

شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے عوام صرف محکمہ موسمیات پر بھروسہ کریں، امیر حیدر

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہیٹ ویوز، بڑھتا درجہ حرارت اور غیر متوقع بارشیں نئی حقیقت، آگہی، احتیاط اور درست معلومات ناگزیر، امیر حیدر

محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدر نے کہا ہے کہ شدید گرمی کی شدت اور اس کے دورانیے میں اضافے کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں جنگلات کی کمی، شہری آبادی میں اضافہ، بے ہنگم شہری توسیع، فضائی آلودگی، ایئرکنڈیشنرز سے کاربن کا اخراج اور گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شامل ہیں۔

وہ پانچویں کراچی کلائمیٹ فیسٹیول میں ہیٹ ویو سے متعلق سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔

کراچی کی ٹراپیکل جغرافیائی حیثیت کے باعث ہوا کا گزر انتہائی ضروری ہے۔

شہری منصوبہ بندی بھی گرمی بڑھا رہی ہے

امیر حیدر نے کہا کہ کراچی میں ایک ملین سے زائد گاڑیاں موجود ہیں، جبکہ شہر میں بے ہنگم تعمیرات اور کنکریٹ کے بڑھتے استعمال نے گرمی کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ایسے گھر اور فلیٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں جہاں ہوا کی مناسب آمدورفت نہیں ہوتی، جبکہ پرانی تاریخی عمارتوں میں قدرتی ہواداری کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ کراچی کی ٹراپیکل جغرافیائی حیثیت کے باعث ہوا کا گزر انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام عوامل کے باعث گرمی مزید شدت اختیار کر رہی ہے، اس لیے عوامی آگہی اور شعور میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

شدید گرمی کے دوران درجہ حرارت اصل سے پانچ سے چھ ڈگری زیادہ محسوس ہو سکتا ہے، جبکہ کراچی میں نمی اس احساس کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

2015 کی ہیٹ ویو سے اہم سبق ملا

چیف میٹرولوجسٹ نے کہا کہ 2015 کی ہیٹ ویو کے دوران بیشتر لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، لیکن اس کے بعد کراچی میں آگہی بڑھی ہے اور مقامی حکومتوں نے بھی اس حوالے سے بہتر منصوبہ بندی کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ موسمیات “ریئل فیل” (محسوس ہونے والے درجہ حرارت) کا پیمانہ استعمال کرتا ہے۔ شدید گرمی کے دوران درجہ حرارت اصل سے پانچ سے چھ ڈگری زیادہ محسوس ہو سکتا ہے، جبکہ کراچی میں نمی اس احساس کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ، سیہون، دادو، نواب شاہ اور جیکب آباد جیسے علاقوں میں بھی گرمی کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے، تاہم وہاں عوامی آگہی کی صورتحال کراچی جیسی نہیں۔

امیر حیدر نے کہا کہ اب صرف کراچی نہیں بلکہ پورا پاکستان شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔

درجہ حرارت مزید بڑھے گا

امیر حیدر نے کہا کہ اب صرف کراچی نہیں بلکہ پورا پاکستان شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گلوبل وارمنگ کے باعث ملک کے اوسط درجہ حرارت میں تقریباً ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث ہر موسم پہلے سے زیادہ گرم محسوس ہو رہا ہے۔ مستقبل میں اس میں مزید اضافہ متوقع ہے، اس لیے پیشگی تیاری ناگزیر ہے۔

سوشل میڈیا کی خبروں پر اندھا اعتماد نہ کریں

چیف میٹرولوجسٹ نے سوال اٹھایا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی موسمی خبروں کی ذمہ داری کون لے گا؟

انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات ایک ذمہ دار سرکاری ادارہ ہے، جو جدید آلات کی مدد سے پیش گوئیاں جاری کرتا ہے اور اپنی معلومات کا جواب دہ بھی ہوتا ہے۔

ان کے مطابق محکمہ موسمیات سوشل میڈیا کے تمام اہم پلیٹ فارمز پر موجود ہے اور مختلف مقامی زبانوں میں بھی موسمی صورتحال سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ موسمیات کی ویڈر ایپ اور ویب پلیٹ فارم کے ذریعے ہر شخص اپنی لوکیشن کے مطابق موسم، بارش، زرعی معلومات اور دیگر ضروری تفصیلات حاصل کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اکثر افراد صرف ریٹنگ بڑھانے کے لیے غیر مصدقہ موسمی اطلاعات پھیلاتے ہیں، بغیر یہ سوچے کہ ان کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

صرف محکمہ موسمیات پر اعتماد کریں

امیر حیدر نے کہا کہ جاپان میں تعلیم کے دوران انہوں نے دیکھا کہ وہاں صرف محکمہ موسمیات ہی موسم کی پیش گوئی جاری کرتا ہے اور کسی دوسرے ادارے یا فرد کو اس کی اجازت نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اکثر افراد صرف ریٹنگ بڑھانے کے لیے غیر مصدقہ موسمی اطلاعات پھیلاتے ہیں، بغیر یہ سوچے کہ ان کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ موسم سے متعلق صرف محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں پر اعتماد کریں اور اگر کسی اطلاع پر شک ہو تو براہِ راست محکمہ موسمیات سے رابطہ کریں۔

چیف میٹرولوجسٹ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث موسموں کا پیٹرن بھی تبدیل ہو چکا ہے۔

بارشوں کا پیٹرن بھی بدل گیا

چیف میٹرولوجسٹ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث موسموں کا پیٹرن بھی تبدیل ہو چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 100 برس کے ریکارڈ کے مطابق کراچی میں تین ماہ کے دوران اوسطاً 164 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، لیکن گزشتہ سال 19 اگست کو ایک ہی اسپیل میں تقریباً اتنی ہی بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ جولائی تقریباً خشک گزرا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب بارشیں کم ہوتی ہیں تو درجہ حرارت بڑھتا ہے، زیر زمین پانی کی سطح نیچے چلی جاتی ہے اور اس کے اثرات انسانوں سمیت تمام جانداروں پر مرتب ہوتے ہیں۔

سویڈن میں موسمیاتی احتجاج، حکومت دباؤ میں

موسمیاتی تبدیلی: ڈی جی فشریز نے بڑے خطرات سے آگاہ کردیا

عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں

امیر حیدر لغاری نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پاکستان میں بھی تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں۔ شدید گرمی، غیر متوقع بارشیں، ہیٹ ویوز اور دیگر موسمی تغیرات روزمرہ زندگی اور معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں اور ہدایات پر عمل کریں، شدید موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، پانی کا ذمہ داری سے استعمال کریں، زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ بروقت احتیاط اور اجتماعی شعور کے ذریعے موسمیاتی خطرات کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور ایک محفوظ و پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

21 hours ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.