Environmental News

غذر میں دریائی کٹاؤ، درجنوں گھر دریا برد

غذر میں گلیشیئرز پگھلنے سے دریائی کٹاؤ بڑھ گیا، متاثرین نے فوری امداد اور حفاظتی پشتوں کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔

گلگت بلتستان میں غیر معمولی گرمی کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس کے نتیجے میں دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دریائی کناروں پر زمینی کٹاؤ بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔

ضلع غذر کے علاقے مولا آباد سمال میں دریائے غذر کے شدید دریائی کٹاؤ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔

مولا آباد سمال میں بڑے پیمانے پر تباہی

ضلع غذر کے علاقے مولا آباد سمال میں دریائے غذر کے شدید دریائی کٹاؤ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔

دریا کی تیز موجوں نے درجنوں گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ متعدد خاندان اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور رہائش سے محروم ہو گئے۔

متاثرہ خاندان شدید گرمی اور مشکل حالات میں عارضی خیمہ بستیوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ سال تالی داس میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد دریا میں جمع ہونے والے بھاری ملبے نے دریائے غذر کا قدرتی بہاؤ تبدیل کر دیا تھا۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں دریا کا رخ مولا آباد سمال کی جانب ہو گیا۔ گزشتہ ایک ہفتے سے علاقے میں مسلسل دریائی کٹاؤ جاری تھا، تاہم گزشتہ روز پانی کے بہاؤ میں مزید اضافے کے باعث صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی اور کئی رہائشی مکانات دریا برد ہو گئے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مسلسل دریائی کٹاؤ کے باعث مزید گھروں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔

مزید گھروں کو خطرات لاحق

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مسلسل دریائی کٹاؤ کے باعث مزید گھروں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ کئی خاندانوں نے اپنے دریا کے قریب واقع مکانات مکمل تباہ ہونے سے پہلے خود ہی مسمار کر دیے تاکہ قیمتی سامان اور دیگر ضروری اشیا محفوظ مقام پر منتقل کی جا سکیں۔

20 خاندان خیمہ بستی منتقل

انتظامیہ اور مقامی افراد کی مدد سے تقریباً 20 متاثرہ خاندانوں کو عارضی خیمہ بستی میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

تاہم متاثرین کے مطابق وہاں پینے کے صاف پانی، خوراک، بجلی، طبی سہولیات، بیت الخلا اور دیگر بنیادی ضروریات کا شدید فقدان ہے۔

اس صورتحال کے باعث خواتین، بچوں اور بزرگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

گلگت بلتستان میں تباہی، تھور سیلاب سے رابطہ منقطع

شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے عوام صرف محکمہ موسمیات پر بھروسہ کریں، امیر حیدر

فوری امداد اور حفاظتی اقدامات کا مطالبہ

متاثرہ خاندانوں نے حکومت گلگت بلتستان، ضلعی انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے متعلقہ اداروں، فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات سے فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے خوراک، ادویات، خیموں اور دیگر ضروری سامان کی فوری فراہمی کے ساتھ بے گھر خاندانوں کی جلد بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

مقامی شہریوں نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ دریائے غذر کے مزید کٹاؤ کو روکنے کے لیے فوری طور پر حفاظتی پشتے (ریور پروٹیکشن ورکس) تعمیر کیے جائیں تاکہ مزید مکانات، زرعی اراضی اور آبادی کو ممکنہ تباہی سے بچایا جا سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ دنوں میں مزید گھر اور قیمتی زرعی زمین دریا برد ہونے کا خدشہ ہے۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

22 hours ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.