تنویر احمد،بیورو چیف گلگت
گلگت بلتستان میں غیر معمولی گرمی کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس کے نتیجے میں دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دریائی کناروں پر زمینی کٹاؤ بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔
ضلع غذر کے علاقے مولا آباد سمال میں دریائے غذر کے شدید دریائی کٹاؤ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔
دریا کی تیز موجوں نے درجنوں گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ متعدد خاندان اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور رہائش سے محروم ہو گئے۔
متاثرہ خاندان شدید گرمی اور مشکل حالات میں عارضی خیمہ بستیوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ سال تالی داس میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد دریا میں جمع ہونے والے بھاری ملبے نے دریائے غذر کا قدرتی بہاؤ تبدیل کر دیا تھا۔
اس تبدیلی کے نتیجے میں دریا کا رخ مولا آباد سمال کی جانب ہو گیا۔ گزشتہ ایک ہفتے سے علاقے میں مسلسل دریائی کٹاؤ جاری تھا، تاہم گزشتہ روز پانی کے بہاؤ میں مزید اضافے کے باعث صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی اور کئی رہائشی مکانات دریا برد ہو گئے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مسلسل دریائی کٹاؤ کے باعث مزید گھروں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ کئی خاندانوں نے اپنے دریا کے قریب واقع مکانات مکمل تباہ ہونے سے پہلے خود ہی مسمار کر دیے تاکہ قیمتی سامان اور دیگر ضروری اشیا محفوظ مقام پر منتقل کی جا سکیں۔
انتظامیہ اور مقامی افراد کی مدد سے تقریباً 20 متاثرہ خاندانوں کو عارضی خیمہ بستی میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
تاہم متاثرین کے مطابق وہاں پینے کے صاف پانی، خوراک، بجلی، طبی سہولیات، بیت الخلا اور دیگر بنیادی ضروریات کا شدید فقدان ہے۔
اس صورتحال کے باعث خواتین، بچوں اور بزرگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
گلگت بلتستان میں تباہی، تھور سیلاب سے رابطہ منقطع
شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے عوام صرف محکمہ موسمیات پر بھروسہ کریں، امیر حیدر
متاثرہ خاندانوں نے حکومت گلگت بلتستان، ضلعی انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے متعلقہ اداروں، فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات سے فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے خوراک، ادویات، خیموں اور دیگر ضروری سامان کی فوری فراہمی کے ساتھ بے گھر خاندانوں کی جلد بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
مقامی شہریوں نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ دریائے غذر کے مزید کٹاؤ کو روکنے کے لیے فوری طور پر حفاظتی پشتے (ریور پروٹیکشن ورکس) تعمیر کیے جائیں تاکہ مزید مکانات، زرعی اراضی اور آبادی کو ممکنہ تباہی سے بچایا جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ دنوں میں مزید گھر اور قیمتی زرعی زمین دریا برد ہونے کا خدشہ ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…
اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…
برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…
اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…
خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…
بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…
This website uses cookies.