Farozaan

پاکستان میں موسمیاتی بحران کا اصل حجم اب تک نامعلوم

پاکستان میں موسمیاتی بحران کبھی باقاعدہ ناپا ہی نہیں گیا۔ یہ وہ تباہی ہے جو کسی فائل، کسی ڈیٹابیس یا کسی رپورٹ میں درج نہیں ہو سکی

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو اب عام ہو چکی ہے، مگر یہ بحث اب بھی ادھوری، انتخابی اور سطحی ہے۔ سیلاب، ہیٹ ویوز، گلیشیئرز اور بے ترتیب بارشیں بارہا زیر بحث آ چکی ہیں۔ رپورٹس شائع ہوئیں، کانفرنسیں منعقد ہوئیں اور عالمی اداروں نے خطرے کی گھنٹی بھی بجائی۔

اس کے باوجود ایک بنیادی سوال مسلسل نظرانداز ہوتا رہا ہے کہ پاکستان میں اصل ماحولیاتی نقصان کتنا ہے۔

مختصر جواب یہ ہے کہ ہمیں خود نہیں معلوم۔ یہ وہ نقصان ہے جو کبھی باقاعدہ ناپا ہی نہیں گیا۔ یہ وہ تباہی ہے جو کسی فائل، کسی ڈیٹابیس یا کسی رپورٹ میں مکمل طور پر درج نہیں ہو سکی۔

ڈیٹا کے بغیر تباہی: ایک قومی اندھا پن

ریاستیں پالیسی سازی کے لیے ڈیٹا پر انحصار کرتی ہیں۔ جہاں ڈیٹا نہ ہو، وہاں مسئلہ سرکاری سطح پر موجود ہی نہیں سمجھا جاتا۔

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا بحران یہی ہے کہ ہم صرف وہی دیکھتے ہیں جو ناپا جا سکے، اور وہی ناپتے ہیں جو پہلے سے نمایاں ہو۔

مثال کے طور پر یہ معلوم نہیں کہ شدید گرمی کے باعث کتنے دیہی مزدور کام چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کتنی خواتین پانی کی قلت کے باعث اضافی مشقت کرتی ہیں۔ کتنے ماہی گیر موسمی تغیر کے باعث روزگار کھو دیتے ہیں۔

اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ موسمیاتی اثرات کے باعث کتنے بچے غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں۔ ان سوالات کا کوئی جامع اور مستند قومی ڈیٹا موجود نہیں۔

جب ہیٹ ویو کے باعث کوئی مزدور کام چھوڑتا ہے تو یہ محض حادثہ نہیں بلکہ موسمیاتی اثر یعنی کلائمیٹ امپیکٹ ہے، مگر اسے کہیں درج نہیں کیا جاتا۔

غیر رسمی معیشت: سب سے زیادہ متاثر

پاکستان کی نصف سے زیادہ افرادی قوت غیر رسمی معیشت سے وابستہ ہے۔ اس میں دیہاڑی دار مزدور، کسان، ماہی گیر، ریڑھی بان، گھریلو ملازمین اور بھٹوں پر کام کرنے والے شامل ہیں۔

یہ طبقہ موسمی شدت کا براہِ راست سامنا کرتا ہے، مگر کسی انشورنس، سوشل پروٹیکشن یا لیبر قانون کے تحت محفوظ نہیں۔

جب ہیٹ ویو کے باعث کوئی مزدور کام چھوڑتا ہے تو یہ محض حادثہ نہیں بلکہ موسمیاتی اثر یعنی کلائمیٹ امپیکٹ ہے، مگر اسے کہیں درج نہیں کیا جاتا۔

اسی طرح سیلاب کے بعد کسانوں کا طویل قرض میں پھنس جانا ایک طویل المدتی موسمیاتی نقصان ہے، مگر قومی حساب میں اسے شامل نہیں کیا جاتا۔

صنفی زاویہ: خاموش بوجھ

موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ مگر خاموش اثر خواتین پر پڑتا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔

پانی کی قلت، ایندھن کی کمی، فصلوں کی ناکامی اور خوراک کی غیر یقینی صورتحال کا عملی بوجھ خواتین پر آتا ہے۔

تاہم یہ سوال اہم ہے کہ کیا کبھی یہ ناپا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث خواتین کی غیر ادا شدہ محنت میں کتنا اضافہ ہوا۔

کیا کسی رپورٹ میں یہ درج ہے کہ پانی کی دوری نے لڑکیوں کی تعلیم کو کیسے متاثر کیا۔ یا غذائی قلت میں سب سے پہلے کس کی خوراک کم ہوتی ہے۔

جو چیز ناپی نہ جائے، وہ مسئلہ نہیں بنتی۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان میں پانی کا بحران سنگین، درجہ حرارت 5 ڈگری تک بڑھنے کا خدشہ

تحفظ کا 30×30 ہدف: پاکستان میں محفوظ علاقوں کا مستقبل اور حیاتیاتی تنوع کا چیلنج

پاکستان کی نصف سے زیادہ افرادی قوت غیر رسمی معیشت سے وابستہ ہے، یہ طبقہ موسمی شدت کا براہِ راست سامنا کرتا ہے، مگر کسی انشورنس، سوشل پروٹیکشن یا لیبر قانون کے تحت محفوظ نہیں۔

شہری غریب: پالیسی سے باہر

پاکستان میں موسمیاتی پالیسی اکثر شہری اشرافیہ کے نقطہ نظر سے تیار کی جاتی ہے۔

ایئرکنڈیشنڈ دفاتر میں ہیٹ ویو پر حکمت عملی بنتی ہے، مگر کچی آبادیوں میں رہنے والے افراد کے لیے یہ روزمرہ بقا کا مسئلہ ہے۔

ان علاقوں میں نہ درجہ حرارت کا مستقل ریکارڈ رکھا جاتا ہے، نہ بیماریوں کے موسمی رجحانات کا، اور نہ ہی اموات کو موسمی عوامل سے جوڑا جاتا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ شہری غریب سب سے زیادہ متاثر ہونے کے باوجود پالیسی سے باہر رہتے ہیں۔

ریاستی ترجیحات: نظر آنے والا نقصان

پاکستان میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کا نقصان فوری ناپ لیا جاتا ہے، مگر انسانی اور سماجی نقصان کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔

اگر ایک پل تباہ ہو جائے تو رپورٹ بنتی ہے، مگر اگر ایک پوری بستی متاثر ہو جائے تو خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔

یہ صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ترجیحات کا معاملہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی ایک سیاسی مسئلہ بن جاتی ہے۔

عالمی مالیات اور کمزور مؤقف

عالمی سطح پر کلائمیٹ فنانس، لاس اینڈ ڈیمیجاور ایڈاپٹیشنجیسے تصورات زیر بحث ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ جب کسی ملک کے پاس اپنے نقصان کا مکمل تخمینہ نہ ہو تو وہ عالمی فورمز پر مؤثر مؤقف کیسے پیش کرے گا۔

پاکستان اکثر خود کو متاثرہ ملک قرار دیتا ہے، مگر مستند اعداد و شمار کی کمی کے باعث اپنا کیس مضبوط انداز میں پیش نہیں کر پاتا۔

نتیجہ: ناپے بغیر نہ حل ممکن

موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ حال کا بحران ہے۔

تاہم اس بحران کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ڈیٹا کے دائرے کو وسیع کیا جائے، غیر رسمی اور غیر مرئی طبقات کو شمار میں لایا جائے اور ماحولیاتی نقصان کو انسانی پیمانے پر پرکھا جائے۔

جب تک یہ نہیں ہوگا، پاکستان کا سب سے بڑا موسمیاتی بحران وہی رہے گا جو کبھی گنا ہی نہیں گیا۔

admin

Recent Posts

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

22 hours ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

2 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

3 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

3 days ago

خاموش بحران: خاموش موت کی طرف بڑھتے سمندر

خاموش بحران دنیا بھر میں توجہ کا مرکز ہے، مگر پاکستان میں اس پر کم…

4 days ago

بون2026: جب موسمیاتی سفارت کاری عالمی سیاست سے ٹکرا گئی

بون 2026 کے موسمیاتی مذاکرات نے واضح کر دیا کہ سیاسی اختلافات اور مالی ذمہ…

5 days ago

This website uses cookies.