ڈیمن کیرنگٹن
جنگ محض سرحدوں پر لڑی جانے والی فوجی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے اثرات میدانِ جنگ سے نکل کر زمین، فضا اور پانی تک پھیل جاتے ہیں۔ اس کے اثرات زمین، فضا اور پانی تک پھیل جاتے ہیں۔
دنیا بھر کے تنازعات صرف انسانی جانوں اور معیشت کو متاثر نہیں کرتے بلکہ یہ ماحول پر بھی گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔
حالیہ جنگ نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کی ہے کہ مسلح تصادم کا ماحولیاتی نقصان اکثر عالمی توجہ سے اوجھل رہتا ہے، حالانکہ اس کے اثرات کئی دہائیوں تک قائم رہ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جنگی کارروائیوں کے دوران ہونے والے دھماکے، ایندھن کا جلاؤ اور انفراسٹرکچر کی تباہی بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں پیدا کرتی ہے۔
یہ اخراج موسمیاتی تبدیلی کو مزید تیز کرتا ہے جو پہلے ہی ایک سنگین عالمی بحران ہے۔
جنگی علاقوں میں صنعتی تنصیبات اور کیمیائی ذخائر کو نقصان بھی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ اس سے زہریلے مادے زمین، پانی اور فضا میں شامل ہو جاتے ہیں۔
تیل کے ذخائر اور ریفائنریز پر حملے فوری تباہی لاتے ہیں۔ آگ بھڑک اٹھتی ہے اور فضا میں مضر گیسیں پھیل جاتی ہیں۔
تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ اور دھول بھی خطرناک ہوتی ہے۔ اس میں ایسبیسٹوس اور دیگر زہریلے ذرات شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ ذرات انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن جاتے ہیں۔
جنگ کے اثرات فوری نہیں ہوتے بلکہ یہ طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔
زرعی زمینیں بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد سے متاثر ہوتی ہیں۔ اس سے خوراک کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
جنگلات کی کٹائی اور آگ لگنے کے واقعات حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ نایاب انواع کے معدوم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق بحالی ایک مشکل عمل ہے۔
آلودہ پانی کی صفائی ایک بڑا چیلنج ہے۔ زمین کو دوبارہ قابلِ کاشت بنانا وقت طلب کام ہے۔
تباہ شدہ ماحولیاتی نظام کو بحال کرنا بھی مہنگا اور طویل عمل ہے۔
جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوتی ہے۔ بے گھر افراد نئے علاقوں میں پناہ لیتے ہیں۔
ان علاقوں میں پہلے ہی وسائل محدود ہوتے ہیں۔ اس سے پانی، خوراک اور توانائی پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
یہ صورتحال مقامی ماحول کو مزید متاثر کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے ماحولیاتی اثرات کو پالیسی سازی میں شامل کرنا ضروری ہے۔
تنازعات کے دوران ماحولیاتی تحفظ کے اصول سختی سے نافذ ہونے چاہئیں۔
جنگ کے بعد بحالی کے منصوبوں میں ماحول کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں
چھ سیاروں کی بیک وقت موجودگی؟ کیا واقعی ایسا خطرناک منظر نظر آئے گا؟
ویرونگا کے پہاڑوں میں غم، بقا اور انسان سے حیران کن قربت کی کہانی
جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی۔ اس کے اثرات زمین، فضا اور پانی تک پھیل جاتے ہیں۔
اگر عالمی برادری نے اس پہلو کو نظر انداز کیا تو آنے والی نسلیں ایک آلودہ اور غیر محفوظ دنیا کا سامنا کریں گی۔
رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین سٹونیسکو؛ پاکستان اور رومانیہ کی دوستی کو مضبوط اقتصادی، دفاعی…
امیر ترین ایک فیصد عالمی حدت میں 20 فیصد اضافے کے ذمہ دار، نجی طیاروں…
سندھ انرجی اینڈ کلائمیٹ کانفرنس 2026، کراچی میں صاف توانائی، موسمیاتی انصاف اور سولر پینلز…
پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات…
نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…
برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…
This website uses cookies.