Farozaan

آبنائے ہرمز کی بندش:کیا سمندری حیات کے لیے آخری وارننگ جاری ہو چکی؟

آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم اور نازک سمندری راستہ ہے۔ یہاں ڈولفنز، مرجان اور دیگر سمندری حیات بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں

خلیج فارس میں پھنسے جہازوں سے کچھ فاصلے پر ایک نازک مگر حیرت انگیز ماحولیاتی دنیا موجود ہے۔ متنازعہ آبنائے ہرمز ڈولفنز کا مسکن ہے۔ یہ خطہ مرجان کی متنوع اقسام سے بھی مالا مال ہے۔ ماہرین کے مطابق جاری کشیدگی اس زیرِ آب دنیا کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

خلیج فارس میں پھنسے جہازوں سے کچھ فاصلے پر ایک نازک مگر حیرت انگیز ماحولیاتی دنیا موجود ہے

جہاز، تیل اور بڑھتا خطرہ

ایران نے عارضی جنگ بندی کے دوران آبنائے کھولنے کا اعلان کیا۔ اس کے باوجود جمعہ کی صبح تک تقریباً دو ہزار جہاز خلیج میں پھنسے رہے۔ ان جہازوں میں مجموعی طور پر لگ بھگ اکیس ارب لیٹر تیل موجود ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے قریب کم از کم سولہ حملے ہو چکے ہیں۔

ایک واقعہ ایرانی جہاز “شاہد باقری” سے منسوب کیا گیا ہے۔

تیل کا اخراج: مسلسل خطرہ

گرین پیس کی ترجمان نینا نویل کے مطابق اس خطے میں تیل کے پھیلاؤ کے آثار اکثر دیکھے جاتے ہیں۔ تنظیم کے محققین مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
ایک واقعہ ایرانی جہاز “شاہد باقری” سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس جہاز کو مارچ کے آغاز میں امریکی خلیج فارس میں پھنسے جہازوں سے کچھ فاصلے پر ایک نازک مگر حیرت انگیز ماحولیاتی دنیا موجود ہےجنگی طیارے نے نشانہ بنایا تھا۔
تنظیم کے مطابق یہ جہاز اب بھی آبنائے خوران کے قریب تیل خارج کر رہا ہے۔ یہ قریبی دلدلی علاقوں کے لیے خطرہ ہے۔

گہرے پانی کی لہریں ریف مچھلیوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ وہیل شارکس بھی یہاں پائی جاتی ہیں۔

جغرافیہ اور قدرتی نظام

آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت اسے منفرد بناتی ہے۔ یہ خلیج عمان اور خلیج فارس کے درمیان واقع ہے۔
خلیج عمان سے آنے والی لہریں غذائی اجزا لاتی ہیں۔ یہ پلینکٹن اور مرجان کی افزائش میں مدد دیتی ہیں۔
گہرے پانی کی لہریں ریف مچھلیوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ وہیل شارکس بھی یہاں پائی جاتی ہیں۔

پرامن حالات میں مسندم کا علاقہ سیاحت کا اہم مرکز تھا۔ یہاں اسکوبا ڈائیونگ اور ڈولفن دیکھنے کی سرگرمیاں ہوتی تھیں۔

سمندری حیات کا خزانہ

پرامن حالات میں مسندم کا علاقہ سیاحت کا اہم مرکز تھا۔ یہاں اسکوبا ڈائیونگ اور ڈولفن دیکھنے کی سرگرمیاں ہوتی تھیں۔
یہ خطہ سمندری کچھوؤں کی افزائش کا مقام بھی ہے۔ عربی ہمپ بیک وہیلز بھی یہاں موجود ہیں۔
ڈوگونگ اور سمندری سانپ بھی اس پانی کا حصہ ہیں۔

خام تیل اعصابی نظام کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس سے جانوروں کی سمت کا احساس کمزور ہو جاتا ہے۔

ماہرین کی تشویش

یونیورسٹی آف میامی کے پروفیسر مارٹن گروسل کے مطابق خام تیل میں کیمیائی اجزا خطرناک ہیں۔ یہ دل اور سانس کے نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
طویل عرصے تک اثرات مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتے ہیں۔ اس سے جانور بیماریوں کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔
خام تیل اعصابی نظام کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس سے جانوروں کی سمت کا احساس کمزور ہو جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز ایران، عمان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان واقع ہے۔ ماہرین اسے خلیج کا ماحولیاتی “تاج” کہتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی حیاتیاتی اہمیت

آبنائے ہرمز ایران، عمان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان واقع ہے۔ ماہرین اسے خلیج کا ماحولیاتی “تاج” کہتے ہیں۔
یہاں دنیا کے گھنے اور متنوع مرجان موجود ہیں۔ یہ مرجان سخت حالات کے باوجود زندہ رہتے ہیں۔

خلیج کا ماحول سمندری حیات کے لیے مشکل ہے۔ گرمیوں میں شدید گرمی ہوتی ہے۔

سخت ماحول، مضبوط حیات

خلیج کا ماحول سمندری حیات کے لیے مشکل ہے۔ گرمیوں میں شدید گرمی ہوتی ہے۔ سردیوں میں غیر معمولی ٹھنڈ پڑتی ہے۔
پانی میں نمکیات بھی زیادہ ہیں۔ ان حالات نے مضبوط مرجان پیدا کیے ہیں۔ یہ موسمیاتی تبدیلی کے مطالعے میں مدد دیتے ہیں۔

تیل کے اثرات: خاموش تباہی

سمندری لہریں تیل کو چھوٹے ذرات میں تقسیم کر دیتی ہیں۔ یہ ذرات گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں۔
خام تیل میں ہزاروں کیمیائی اجزا ہوتے ہیں۔ کئی اجزا زہریلے ہوتے ہیں۔
یہ پانی میں حل ہو کر مچھلیوں اور مرجانوں میں جذب ہو جاتے ہیں۔ سطح پر موجود تیل سانس لینے والے جانوروں کے لیے خطرناک ہے۔ جیسے ڈولفنز اور کچھوے۔

ماحولیاتی نظام کو خطرہ

یہ کیمیکل دل، سانس اور مدافعتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے حواس بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔
جانور دیکھنے اور سونگھنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق تیل مچھلیوں کی افزائش بھی کم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بحر اوقیانوس کا سمندری نظام کمزور، عالمی موسم خطرے میں

جنگ اور ماحولیات کا بحران، خاموش تباہی جو مستقبل کو نگل رہی ہے

ویرونگا کے پہاڑوں میں غم، بقا اور انسان سے حیران کن قربت کی کہانی

نتیجہ: بڑھتا ہوا خدشہ

ماہرین کے مطابق اگر جہازوں کی تعداد اسی طرح رہی تو خطرہ بڑھ جائے گا۔ تیل کے مزید اخراج کا امکان موجود ہے۔
یہ صورتحال پورے ماحولیاتی نظام کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔

admin

Recent Posts

کلائمیٹ برج فنڈ: این جی اوز کے لیے نئی فنڈنگ کا اعلان

کلائمیٹ برج فنڈ نے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ شہری آبادی کے لیے جدید موافقتی منصوبوں…

6 hours ago

نیوزی لینڈ: حکومتی پالیسیاں موسمیاتی اہداف کے لیے خطرہ بن گئیں، رپورٹ

نیوزی لینڈ: کمیشن کا انتباہ، موجودہ حکومتی فیصلوں سے 2050 کے موسمیاتی اہداف شدید خطرے…

1 day ago

ٹور ڈی فرانس بھی شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کے آگے بے بس

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ٹور ڈی فرانس میں ریکارڈ گرمی، جنگلاتی آگ، ریس مختصر اور…

2 days ago

اقوامِ متحدہ: تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی عالمی بھوک کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ

اقوامِ متحدہ: نئی رپورٹ کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا بحران عالمی بھوک…

3 days ago

برطانیہ: نئے وزیراعظم کے گرین اقدامات، کیا عالمی موسمیاتی فنڈنگ متاثر ہوگی؟

برطانیہ میں بجلی پر ٹیکس ختم، بس کرایوں میں کمی، اخراجات کے لیے موسمیاتی فنڈنگ…

4 days ago

توانائی تحفظ اور صنعتی ترقی پر قومی سیمینار

اب صنعتی سولر منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف پینلز کی قیمت پر نہیں۔ بلکہ…

4 days ago

This website uses cookies.