Farozaan

جنگی دھواں موسمیاتی بحران کو کتنا بڑھا رہا ہے؟

جنگی دھواں موسمیاتی بحران کو کتنا بڑھا رہا ہے؟ جاری جنگوں سے کاربن اخراج اور فضائی آلودگی میں اضافہ، ماہرین نے خطرے کا انتباہ دے دیا

دنیا کے مختلف خطوں میں جاری جنگیں صرف انسانی المیے کا سبب نہیں بنتیں۔ یہ زمین کے ماحول کے لیے بھی ایک خاموش مگر سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ حالیہ تنازعات نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ جنگ کے ماحولیاتی اثرات کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جنگی سرگرمیوں کے دوران بھاری ہتھیاروں کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ فوجی گاڑیوں کی مسلسل نقل و حرکت بھی ماحول پر اثر ڈالتی ہے۔ اس کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کی تباہی بھی بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا باعث بنتی ہے۔ یہ اخراج عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے اثرات پہلے ہی شدید موسمی واقعات کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔

جنگ کے دوران تیل اور گیس کے ذخائر پر حملے ماحول کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوتے ہیں

تیل اور گیس کے ذخائر پر حملوں کے اثرات

جنگ کے دوران تیل اور گیس کے ذخائر پر حملے ماحول کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے حملوں کے بعد لگنے والی آگ کئی دنوں تک جلتی رہتی ہے۔ بعض اوقات یہ آگ ہفتوں تک بھی جاری رہتی ہے۔

اس دوران فضا میں زہریلا دھواں پھیلتا ہے۔ یہ دھواں مقامی آبادی کی صحت کے لیے خطرہ بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دور دراز علاقوں تک فضائی آلودگی میں اضافہ بھی کرتا ہے۔

تباہ شدہ سیوریج نظام اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتا ہے

پانی کے ذخائر بھی خطرے میں

جنگی علاقوں میں پانی کے ذخائر بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ تباہ شدہ سیوریج نظام اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ کیمیائی مواد کے اخراج سے دریا اور زیرِ زمین پانی آلودہ ہو جاتا ہے۔

اس کے نتیجے میں صاف پینے کے پانی کی قلت پیدا ہوتی ہے۔ مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

جنگلات جل جاتے ہیں اور جنگلی حیات کو نقل مکانی کرنا پڑتی ہے

حیاتیاتی تنوع کو شدید نقصان

جنگ کے اثرات صرف انسانوں تک محدود نہیں رہتے۔ حیاتیاتی تنوع بھی اس سے شدید متاثر ہوتا ہے۔ قدرتی مساکن تباہ ہو جاتے ہیں۔ جنگلات جل جاتے ہیں اور جنگلی حیات کو نقل مکانی کرنا پڑتی ہے۔

بعض حالات میں نایاب انواع ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہیں۔ اس سے ماحولیاتی توازن مزید بگڑ جاتا ہے۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس) کے مطابق جنگ کے دوران ماحولیاتی تحفظ کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے

عالمی اداروں کی تشویش

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس) کے مطابق جنگ کے دوران ماحولیاتی تحفظ کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قوانین میں ماحول کے تحفظ سے متعلق شقیں موجود ہیں۔ ان پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ کے بعد بحالی کا عمل صرف عمارتوں کی تعمیر نو تک محدود نہیں ہونا چاہیے

جنگ کے بعد بحالی بھی ضروری

رپورٹس کے مطابق جنگ کے بعد بحالی کا عمل صرف عمارتوں کی تعمیر نو تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں ماحول کی بحالی کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔

آلودہ زمین کی صفائی ایک اہم مرحلہ ہے۔ پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ جنگلات کو دوبارہ اگانا ایک طویل المدتی عمل ہے۔ اس کے لیے عالمی تعاون درکار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بحر اوقیانوس کا سمندری نظام کمزور، عالمی موسم خطرے میں

ویرونگا کے پہاڑوں میں غم، بقا اور انسان سے حیران کن قربت کی کہانی

چھ سیاروں کی بیک وقت موجودگی؟ کیا واقعی ایسا خطرناک منظر نظر آئے گا؟

فوری عالمی اقدامات کی ضرورت

مضمون نگار میٹ مک گراتھ (میٹ مک گراتھ) کے مطابق اگر دنیا نے جنگ کے ماحولیاتی اثرات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو موسمیاتی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

جنگ اور ماحولیاتی تباہی کا امتزاج ایک بڑا عالمی چیلنج بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے نمٹنے کے لیے فوری اور مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔

admin

Recent Posts

پاکستان میں فضائی آلودگی، زندگی کے 3.9 سال کم

پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات…

8 hours ago

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ایم آئی ٹی کا بڑا موسمیاتی قدم

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…

1 day ago

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، شمالی علاقوں میں بجلی بند اور سفری نظام متاثر

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…

2 days ago

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، گھر کے ڈرائیو وے سے آگاہی مہم کا آغاز

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…

3 days ago

ٹیکسٹائل کے کاروباروں کے لیے گرین فنانس ٹول کٹ متعارف کرا دی گئی

ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…

4 days ago

خلائی ٹیکنالوجی سے آفات کی پیشگی اطلاع، اسلام آباد میں عالمی کانفرنس

آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…

4 days ago

This website uses cookies.