ویب نیوز ذیسک
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (ایس ایچ سی سی) نے کراچی میں غیر قانونی طور پر چلنے والے منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی مراکز کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ اداروں کو قانون کے دائرے میں لانا ہے۔
یہ کارروائی 15 روزہ نوٹس کی مدت مکمل ہونے کے بعد کی گئی۔ اس دوران ایس ایچ سی سی کی ٹیموں نے ڈسٹرکٹ ساؤتھ اور ملیر میں مختلف مراکز کا معائنہ کیا۔
معائنے کے بعد مجموعی طور پر چار مراکز کو جزوی طور پر سیل کر دیا گیا۔ ان مراکز کو باقاعدہ وارننگ بھی جاری کی گئی ہے۔
اس سے قبل ان مراکز کو واضح ہدایت دی گئی تھی کہ وہ 15 دن کے اندر اپنی رجسٹریشن مکمل کریں۔ انہیں ایس ایچ سی سی کے مقرر کردہ طبی اور انتظامی معیار پر عمل کرنے کا بھی کہا گیا تھا۔
تاہم متعدد ادارے رجسٹریشن مکمل نہ کر سکے۔ وہ مطلوبہ معیار پر بھی پورا نہ اتر سکے۔ اسی وجہ سے کارروائی ناگزیر قرار دی گئی۔
معائنے میں سامنے آنے والی سنگین خامیاں معائنے کے دوران کئی سنگین خامیاں سامنے آئیں۔
جن مراکز کا دورہ کیا گیا ان میں یہ ادارے شامل تھے
انڈس سائیکاٹرک کلینک، بابر سائیکاٹرک ہسپتال، قائدآباد سائیکاٹرک ہسپتال، پرورش ری ہیبلیٹیشن سینٹر (پی آر سی)
اہم مسائل یہ تھے
ماہر نفسیات کی عدم موجودگی، ڈاکٹرز، نرسز اور تربیت یافتہ عملے کی کمی، انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات، مریضوں کی غیر معیاری دیکھ بھال، غیر تربیت یافتہ افراد کے ذریعے علاج
ہیپاٹائٹس بی، سی، تپ دق اور ایچ آئی وی/ایڈز کی مناسب اسکریننگ نہ ہون
یہ تمام پہلو شدید طبی غفلت کے زمرے میں آتے ہیں۔
ایس ایچ سی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر احسن قوی صدیقی نے کہا کہ مراکز کو بار بار ہدایات دی گئیں۔ انہیں رجسٹریشن مکمل کرنے اور قواعد پر عمل کرنے کا کہا گیا تھا۔
ان کے مطابق صحت کے شعبے سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئیں۔ ان شکایات میں غیر معیاری علاج اور انتظامی کمزوریاں شامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ چند مراکز نے تعاون کیا۔ تاہم اکثریت نے نوٹس پر عمل نہیں کیا۔ اس کے باعث سخت کارروائی کرنا پڑی۔
یہ بھی پڑھیں
جنگی دھواں موسمیاتی بحران کو کتنا بڑھا رہا ہے؟
موسمیاتی سفارتکاری یا توانائی کی عالمی جنگ؟
ایس ایچ سی سی کے مطابق چار مراکز کو سیل کر دیا گیا ہے۔ انہیں فوری رجسٹریشن مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
ڈاکٹر احسن قوی صدیقی نے واضح کیا کہ ماہر نفسیات کی نگرانی کے بغیر کسی مرکز کو کام کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ بھر میں انسپکشنز جاری رہیں گی۔ غیر رجسٹرڈ مراکز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات…
نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…
برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…
موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…
ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…
آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…
This website uses cookies.