Farozaan

موسمیاتی تبدیلی کا نیا چہرہ:کیا جانور خود کو دوبارہ تشکیل دے رہے ہیں؟

موسمیاتی تبدیلی صرف موسم نہیں بدل رہی بلکہ زندگی کی حیاتیاتی شکلیں، عادات اور بقا کے طریقے بھی بدل رہی ہے۔

جب بھی موسمیاتی تبدیلی کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن میں پگھلتے گلیشیئرز، تباہ کن سیلاب، شدید گرمی کی لہریں، جنگلات میں لگنے والی آگ اور سمندری سطح میں اضافے کے مناظر ابھرتے ہیں۔ تاہم، موسمیاتی تبدیلی کا ایک اور خاموش مگر حیران کن اثر بھی سامنے آ رہا ہے، جس پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے، اور وہ ہے جانوروں کی جسمانی ساخت میں تبدیلی۔

دنیا بھر کے سائنسدانوں نے حالیہ برسوں میں مشاہدہ کیا ہے کہ بعض جانور نہ صرف اپنے رویے اور رہائش گاہیں تبدیل کر رہے ہیں بلکہ ان کے جسمانی خدوخال بھی بدل رہے ہیں۔ کچھ پرندوں کی چونچیں بڑی ہو رہی ہیں، بعض ممالیہ جانوروں کی دمیں لمبی ہو رہی ہیں، جبکہ کئی انواع کے پروں اور ٹانگوں کے سائز میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلیاں محض اتفاق نہیں بلکہ ایک ایسے سیارے کی عکاسی کرتی ہیں جو تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔

جب ماحول مسلسل گرم ہوتا جائے تو جسم میں پیدا ہونے والی اضافی حرارت کو خارج کرنا بقا کے لیے ناگزیر ہو جاتا ہے۔

بڑھتی ہوئی گرمی اور حیاتیاتی دباؤ

صنعتی انقلاب کے بعد انسانی سرگرمیوں کے باعث فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی اوسط درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔

بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (آئی پی سی سی) کے مطابق زمین اس وقت ہزاروں برسوں میں درجہ حرارت کے تیز ترین اضافے کا سامنا کر رہی ہے۔

درجہ حرارت میں اضافہ صرف موسموں کو متاثر نہیں کرتا بلکہ جانداروں کے جسمانی افعال، تولیدی کامیابی، خوراک کے حصول اور بقا پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ گرم خون والے جانوروں کے لیے یہ چیلنج مزید سنگین ہے کیونکہ انہیں اپنے جسم کا درجہ حرارت ایک مخصوص حد میں برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

جب ماحول مسلسل گرم ہوتا جائے تو جسم میں پیدا ہونے والی اضافی حرارت کو خارج کرنا بقا کے لیے ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ارتقا اور قدرتی انتخاب اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

سن 2021 میں شائع ہونے والی ایک اہم سائنسی تحقیق نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔

فطرت کا خاموش جواب: شیپ شفٹنگ

سن 2021 میں شائع ہونے والی ایک اہم سائنسی تحقیق نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے شواہد پیش کیے کہ متعدد جانور موسمیاتی تبدیلی کے جواب میں اپنی جسمانی ساخت تبدیل کر رہے ہیں۔ اس رجحان کو شیپ شفٹنگ کا نام دیا گیا۔

یہ تبدیلیاں جانوروں کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے نمٹنے میں مدد دیتی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ ایک ارتقائی ردعمل ہے، جو جانداروں کو گرم ہوتے ماحول میں زندہ رہنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ آسٹریلیا کے بعض طوطوں، خصوصاً گینگ گینگ کاکاٹو اور ریڈ رمپڈ پیراٹ، کی چونچوں کے سائز میں گزشتہ ڈیڑھ صدی کے دوران 4 سے 10 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

پرندوں کی چونچ صرف خوراک حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مؤثر حرارتی نظام بھی ہے۔ چونچ میں موجود باریک خون کی نالیاں اضافی حرارت کو ماحول میں منتقل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ جب چونچ کا سائز بڑھتا ہے تو حرارت خارج کرنے کے لیے دستیاب سطح بھی بڑھ جاتی ہے۔ یوں بڑی چونچ شدید گرمی میں پرندے کو ٹھنڈا رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ان تمام تبدیلیوں کا مقصد ایک ہی ہے، یعنی جسم کے سطحی رقبے میں اضافہ تاکہ زیادہ حرارت خارج کی جا سکے۔

صرف پرندے ہی نہیں، دوسرے جانور بھی بدل رہے ہیں

یہ رجحان صرف پرندوں تک محدود نہیں۔

سائنسدانوں نے وُڈ ماؤس میں دم کی لمبائی بڑھنے کے شواہد ریکارڈ کیے ہیں۔ اسی طرح ماسکڈ شرو میں دم اور ٹانگوں کی لمبائی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ گریٹ راؤنڈ لیف بیٹ کے پروں کے سائز میں بھی اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔

ان تمام تبدیلیوں کا مقصد ایک ہی ہے، یعنی جسم کے سطحی رقبے میں اضافہ تاکہ زیادہ حرارت خارج کی جا سکے۔ گویا فطرت اپنے جانداروں کو ایک گرم ہوتی دنیا کے مطابق نئے انداز میں ڈھال رہی ہے۔

جسمانی ساخت کیوں بدل رہی ہے؟

اس پورے عمل کی بنیاد ایک اہم حیاتیاتی اصول، سرفیس ایریا ٹو والیوم ریشو، پر ہے۔

جسم کے اندر پیدا ہونے والی حرارت کا تعلق حجم سے ہوتا ہے، جبکہ حرارت کا اخراج جسم کے سطحی رقبے کے ذریعے ہوتا ہے۔ جب کسی جانور کے جسم یا اس کے بیرونی اعضا کا سطحی رقبہ بڑھتا ہے تو گرمی زیادہ آسانی سے خارج ہو جاتی ہے۔

اسی اصول کی بنیاد پر امریکی ماہر حیاتیات جوئل ایلن نے 1877 میں ایلنز رول پیش کیا تھا۔ اس قانون کے مطابق گرم علاقوں میں رہنے والے جانوروں کے بیرونی اعضا، مثلاً کان، چونچ اور دم، نسبتاً بڑے ہوتے ہیں کیونکہ وہ حرارت خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ دور میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کئی انواع اسی اصول کے مطابق نئی جسمانی خصوصیات اختیار کر رہی ہیں۔

کیا جانوروں کے جسم بھی چھوٹے ہو سکتے ہیں؟

اس سوال کا جواب ایک اور حیاتیاتی اصول، برگمینز رول، میں ملتا ہے۔

جرمن ماہر حیاتیات کارل برگمین نے 1847 میں تجویز کیا تھا کہ سرد علاقوں میں رہنے والے جانور عموماً بڑے جسم رکھتے ہیں کیونکہ بڑے جسم حرارت کو بہتر انداز میں محفوظ رکھتے ہیں۔

اگر زمین مسلسل گرم ہوتی رہی تو ممکن ہے کہ آنے والی نسلوں میں بعض جانوروں کے جسم نسبتاً چھوٹے ہو جائیں، جبکہ ان کے بیرونی اعضا بڑے ہو جائیں تاکہ اضافی حرارت کا اخراج آسان ہو سکے۔

اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق درکار ہے، تاہم ابتدائی شواہد اسی سمت اشارہ کرتے ہیں۔

کیا یہ تبدیلیاں کافی ہوں گی؟

یہ ایک اہم سوال ہے۔

فطرت میں ارتقائی تبدیلیاں عموماً ہزاروں برسوں میں وقوع پذیر ہوتی ہیں، لیکن موسمیاتی تبدیلی کی رفتار غیر معمولی حد تک تیز ہے۔ بہت سی انواع شاید اتنی تیزی سے خود کو تبدیل نہ کر سکیں جتنی تیزی سے ماحول بدل رہا ہے۔

بعض جانور مخصوص خوراک، محدود رہائش گاہ یا جینیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے مطلوبہ موافقت پیدا نہیں کر پائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ متعدد انواع موسمیاتی تبدیلی کے دباؤ کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں

سنگاپور میں پہلی کلائمیٹ لیڈرشپ ٹریننگ کا آغاز

موسمیاتی ایٹریبیوشن سائنس، مستقبل مزید خطرناک؟

ایک خاموش انتباہ

جانوروں کی بدلتی ہوئی جسمانی ساخت ایک دلچسپ سائنسی دریافت ضرور ہے، لیکن یہ خوشخبری نہیں بلکہ ایک واضح انتباہ بھی ہے۔

جب کسی نوع کو اپنی جسمانی ساخت تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ غیر معمولی ماحولیاتی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اب صرف مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے، جو جانداروں کے جسموں پر اپنے نقوش چھوڑ رہی ہے۔

آج ہمیں پرندوں کی بڑی ہوتی چونچیں، لمبی ہوتی دمیں اور بدلتے ہوئے جسمانی خدوخال نظر آ رہے ہیں۔ کل شاید ہمیں ایسی انواع کا سامنا ہو جو اس دوڑ میں پیچھے رہ جانے کے باعث ہمیشہ کے لیے معدوم ہو چکی ہوں۔

موسمیاتی تبدیلی صرف موسم نہیں بدل رہی بلکہ زندگی کی شکلیں بھی بدل رہی ہے۔ جانور اپنی بقا کے لیے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں، اپنے جسموں کو دوبارہ تشکیل دے رہے ہیں اور ایک گرم ہوتی دنیا میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


admin

Recent Posts

پاکستان میں فضائی آلودگی، زندگی کے 3.9 سال کم

پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ ایک لاکھ 28 ہزار اموات، لاہور میں عمر سات…

13 hours ago

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ایم آئی ٹی کا بڑا موسمیاتی قدم

نیویارک کلائمیٹ ویک 2026، ڈیٹا سینٹرز، مضر آلودہ گیسوں، زراعت اور تعلیم پر 14 نشستیں،…

2 days ago

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، شمالی علاقوں میں بجلی بند اور سفری نظام متاثر

برطانیہ میں دوسرا بڑا طوفان، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں، 82 ہزار…

3 days ago

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، گھر کے ڈرائیو وے سے آگاہی مہم کا آغاز

موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو، امریکی پروفیسر کا منفرد اقدام، پڑوسیوں کو موسمیاتی بحران سے آگاہی…

4 days ago

ٹیکسٹائل کے کاروباروں کے لیے گرین فنانس ٹول کٹ متعارف کرا دی گئی

ٹیکسٹائل کے کاروباروں میں گرین فنانس ٹول کٹ کے وسیع استعمال کے لیے مزید رہنمائی…

4 days ago

خلائی ٹیکنالوجی سے آفات کی پیشگی اطلاع، اسلام آباد میں عالمی کانفرنس

آفات کی پیشگی اطلاع، خلائی ٹیکنالوجی سے موسمیاتی خطرات میں کمی، انسانی جانوں، روزگار اور…

5 days ago

This website uses cookies.