فروزاں رپورٹ
اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے اہم مالی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے لیے مجموعی طور پر 2 ارب 47 کروڑ 77 لاکھ 60 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ فنڈز ملک کو موسمیاتی اثرات کے مقابل زیادہ مضبوط بنانے کے لیے استعمال ہوں گے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ رقم درج ذیل شعبوں پر خرچ کی جائے گی:
قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی
نوجوانوں کے لیے سبز مہارتوں کی ترقی
شہری علاقوں کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانا
ادارہ جاتی صلاحیتوں میں بہتری
یہ تمام اقدامات موسمیاتی مزاحمت کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
کل مختص رقم میں سب سے بڑا حصہ 2 ارب 33 کروڑ 54 لاکھ 99 ہزار روپے گرین پاکستان پروگرام کے لیے رکھا گیا ہے۔
اس پروگرام کے تحت:
جنگلات کے رقبے میں اضافہ کیا جائے گا
حیاتیاتی تنوع کا تحفظ کیا جائے گا
کاربن جذب کرنے کی صلاحیت بہتر بنائی جائے گی
متاثرہ ماحولیاتی نظام بحال کیے جائیں گے
یہ فنڈز ملک کو درج ذیل خطرات سے نمٹنے میں مدد دیں گے:
گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے اثرات
گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب
پانی کی قلت
جنگلات کی کٹائی
شدید گرمی کی لہریں
جنگلاتی آگ
زمین کا کٹاؤ
حکام کے مطابق یہ اقدامات وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اس وژن کی عکاسی کرتے ہیں جس کے تحت پاکستان کو ماحول دوست اور موسمیاتی طور پر مضبوط ترقی کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے کہا کہ موسمیاتی مزاحمت اب قومی ترقیاتی حکمت عملی کا بنیادی ستون بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ:
حکومت نے موسمیاتی اقدامات کو قومی ترجیح بنایا ہے
ترقیاتی منصوبہ بندی میں ماحولیاتی تحفظ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے
یہ سرمایہ کاری مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں مدد دے گی
یہ بھی پڑھیں
سمندر تباہی کے دہانے پر، دنیا کے طاقتور رہنما ممباسا میں جمع
بارش تباہی: کے پی میں 7 افراد جاں بحق، 33 زخمی
محمد سلیم شیخ کے مطابق گرین پاکستان پروگرام نہ صرف ماحول کے تحفظ کا منصوبہ ہے بلکہ اس سے:
سبز مہارتوں کی ترقی
ماحول دوست کاروبار
اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے
انہوں نے کہا کہ مضبوط ادارے اور سائنسی بنیادوں پر فیصلے ہی پاکستان کو موسمیاتی چیلنجز سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔
پی سی ایف کلائمیٹ یوتھ سمٹ لاہور 2026 میں نوجوانوں، پالیسی سازوں اور ماہرین نے…
سمندری تباہی: افریقہ میں پہلی بار “آور اوشن کانفرنس”، موسمیاتی خطرات، ماہی گیری کے بحران…
بارش تباہی: پی ڈی ایم اے نے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے اور فلیش فلڈ کے خدشے…
عالمی کلائمیٹ بحران میں برازیل کا فیصلہ، توانائی انحصار بڑھا اور آئی ایم ایف کی…
لسبیلہ میں عالمی یومِ ماحولیات پر سیمینارز، شجرکاری مہمات اور آگاہی تقریبات، کلائمیٹ ایکشن اور…
پاکستا اور اسپین کے درمیان موسمیاتی تبدیلی، سندھ طاس معاہدہ، قابلِ تجدید توانائی اور گرین…
This website uses cookies.