فروزاں رپورٹ
16 سے 18 جون 2026 تک دنیا بھر کے رہنما کینیا کے شہر ممباسا میں ہونے والی 11ویں “آور اوشن کانفرنس” میں شرکت کریں گے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یہ عالمی کانفرنس افریقہ میں ہو رہی ہے۔
اس سال کانفرنس کا موضوع “ہمارا سمندر، ہمارا ورثہ، ہمارا مستقبل” رکھا گیا ہے۔ یہ موضوع انسان اور سمندر کے گہرے تعلق کو اجاگر کرتا ہے۔
سمندر ہماری سانسوں کے لیے درکار آکسیجن کا نصف سے زیادہ حصہ پیدا کرتے ہیں۔ یہ زمین پر موجود 80 فیصد سے زائد جانداروں کا مسکن بھی ہیں۔ سمندر موسمیاتی نظام کو متوازن رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اربوں افراد کی خوراک، روزگار اور معیشت کا انحصار بھی سمندری وسائل پر ہے۔
افریقہ کے 54 ممالک میں سے نصف سے زیادہ ممالک “بلیو اکانومی” یعنی سمندری معیشت پر انحصار کرتے ہیں۔ اس میں ماہی گیری، جہاز رانی، سیاحت اور توانائی جیسے شعبے شامل ہیں۔
افریقی یونین کے مطابق افریقہ کی سمندری معیشت کی مالیت تقریباً 300 ارب ڈالر ہے۔ یہ شعبہ تقریباً 4 کروڑ 90 لاکھ افراد کو روزگار دے رہا ہے۔ توقع ہے کہ 2030 تک اس کی مالیت 405 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
اقوام متحدہ کی “ورلڈ اوشن اسیسمنٹ” رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی، حد سے زیادہ ماہی گیری اور آلودگی سمندری نظام کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
دنیا کے سمندروں کا تقریباً 10 فیصد حصہ کسی نہ کسی قانونی تحفظ کے تحت ہے۔ تاہم صرف 3 فیصد حصے کو مؤثر تحفظ حاصل ہے۔
ماہرین کے مطابق سمندری تحفظ کے لیے سالانہ 14.6 ارب ڈالر کے مالی خلا کا سامنا ہے۔ 2030 تک دنیا کے کم از کم 30 فیصد سمندروں کے تحفظ کے لیے 15.8 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ اس وقت صرف 1.2 ارب ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندروں کا تحفظ صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں۔ یہ انسانی بقا کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔
ماہرین سمندروں کی صحت جانچنے کے لیے سمندری پرندوں کی افزائش اور خوراک تلاش کرنے کے انداز کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔
جنوبی افریقہ اور نمیبیا میں پائے جانے والے افریقی پینگوئن خطرے سے دوچار ہیں۔ افریقی ساحلوں پر موجود “کامن ٹرن” جیسے پرندے بھی انہی مچھلیوں پر انحصار کرتے ہیں جن پر مقامی ماہی گیر گزارا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سمندری پرندوں کی تعداد میں کمی خوراک کے ذخائر میں کمی کی علامت ہے۔ اس کی بڑی وجوہات موسمیاتی تبدیلی اور حد سے زیادہ ماہی گیری ہیں۔
سمندری پرندے ہزاروں کلومیٹر طویل سفر مخصوص فضائی راستوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ ان راستوں کو “میرین فلائی ویز” کہا جاتا ہے۔
برڈ لائف انٹرنیشنل نے دنیا بھر میں سمندری پرندوں کی ہجرت کے چھ بڑے میرین فلائی ویز کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں افریقہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
اسی سال مارچ میں برازیل میں “کنونشن آن مائیگریٹری اسپیشیز” کی 15ویں کانفرنس ہوئی۔ اس میں حکومتوں نے میرین فلائی ویز کو عالمی تحفظاتی فریم ورک کے طور پر تسلیم کیا۔
یہ نظام سمندری علاقوں کے انتظام کے لیے ٹریکنگ ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ یہ اس اصول پر قائم ہے کہ “مشترکہ راستوں کے لیے مشترکہ ذمہ داری ضروری ہے۔”
یہ فریم ورک “کنمنگ مونٹریال گلوبل بایوڈائیورسٹی فریم ورک” اور “ہائی سیز ٹریٹی” جیسے عالمی معاہدوں کی بھی حمایت کرتا ہے۔
معاہدہ ان سمندری علاقوں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے جو کسی ایک ملک کی حدود میں شامل نہیں۔ یہ علاقے دنیا کے دو تہائی سے زائد سمندری حصے پر مشتمل ہیں۔
برڈ لائف انٹرنیشنل رواں سال ستمبر میں نیروبی میں دوسرا “گلوبل فلائی ویز سمٹ” منعقد کرے گا۔
اس سمٹ میں حکومتوں، ماہرین ماحولیات، مالیاتی اداروں اور دیگر شراکت داروں کو مدعو کیا جائے گا۔ مقصد سمندری راستوں اور اہم قدرتی مقامات کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
بارش تباہی: کے پی میں 7 افراد جاں بحق، 33 زخمی
برازیل نے کلائمیٹ رپورٹنگ قوانین ختم کر دیے
ماہرین کے مطابق میرین فلائی ویز دنیا کے سمندروں کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔
ان راستوں اور سمندروں کے تحفظ کے لیے عالمی تعاون ضروری ہے۔ مستقل سرمایہ کاری اور اجتماعی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔
عالمی رہنما ممباسا میں جمع ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر سمندروں کے تحفظ کے لیے نئے عزم پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی بقا کا انحصار انہی سمندروں پر ہے۔
بارش تباہی: پی ڈی ایم اے نے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے اور فلیش فلڈ کے خدشے…
عالمی کلائمیٹ بحران میں برازیل کا فیصلہ، توانائی انحصار بڑھا اور آئی ایم ایف کی…
لسبیلہ میں عالمی یومِ ماحولیات پر سیمینارز، شجرکاری مہمات اور آگاہی تقریبات، کلائمیٹ ایکشن اور…
پاکستا اور اسپین کے درمیان موسمیاتی تبدیلی، سندھ طاس معاہدہ، قابلِ تجدید توانائی اور گرین…
بارش الرٹ: پنجاب، کے پی، کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہوائیں، موسلا دھار بارش…
بجٹ 2026-27 کو صرف مالی اہداف تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیم، صحت، روزگار اور…
This website uses cookies.